’’تم قتل کرو ہوکہ کرامات کرو ہو‘‘ معروف شاعر ڈاکٹر کلیم عاجز انتقال کر گئے

17 فروری 2015

اسلام آباد (خورشید ربانی)کلاسیکی ادب کے نمائندہ اور’’دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ۔تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو ‘‘جیسے معروف اور خوبصورت شعر سے عالمی شہرت حاصل کرنے والے شاعر ڈاکٹر کلیم عاجز گزشتہ روز پٹنہ بھارت میں جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے ۔ وہ گزشتہ روز اپنی چھوٹی بیٹی سے ملنے ہزاری باغ گئے تھے وہیں دل کا دورہ پڑنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی میت پٹنہ لائی گئی جہاں امیر شریعت بہار مولانا سید نظام الدین نے نماز جنازہ پڑھائی، بعد ازاں انہیں سمن آباد کے قریب واقع قبرستان میں سرکاری اعزا زکے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ انہوں نے چار بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔ وہ  11  اکتوبر 1926میں قصبہ تلہاڑہ، ضلع پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ ’’بہار میں اردو شاعری کے ارتقا‘‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ پٹنہ کالج، پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے۔ وہ اردو مشاورتی بورڈ کے چئیرمین بھی تھے اور تبلیغی جماعت کے امیر کی ذمہ داری بھی نبھا رہے تھے۔ ادبی خدمات پر بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری ایوارڈ سے نوازا تھا، ان کی تصانیف میں:’مجلس ادب‘، ’وہ جوشاعری کا سبب ہوا‘، ’جہاں خوش بو ہی خوش بو تھی‘، ’یہا ں سے کعبہ  ، کعبے سے مدینہ‘، ’اک دیسی ایک بدیسی‘شامل ہیں۔ ان کی رحلت سے اردو زبان اپنے اک سچے عاشق سے محروم ہو گئی اک ایسا عاشق جس نے اردو زبان کو اپنے درد کے اظہار کا ذریعہ بنایا تو شاعری نے ان کے درد کو ہر شخص کے دل کا درد بنا ڈالا۔ چند اشعار قارئین کی نذر
ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے    ………    ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ    ………    تم قتل کرو ہوکہ کرامات کرو ہو
۔۔۔۔۔۔
یوں ہی نہیں مشہورِ زمانہ میرا قاتل    ………    اس شخص کو اس فن میں مہارت بھی بہت تھی
۔۔۔
دیکھیے میری غزل میں کبھی صورت اپنی        ………    یہ وہ آئینہ ہے جو آپ نے کم دیکھا ہے
۔۔۔
کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہے    ………    جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں ایک چراغ جلا دیا
۔۔۔
اپنا تو کام ہے کہ جلائے چلو چراغ    ………    رستے میںخواہ دوست یا دشمن کا گھر ملے
۔۔۔
جانتا تھا کہ ستمگر ہے مگر کیا کیجے    ………    دل لگانے کے لئے اور کوئی تھا بھی نہیں
۔۔۔۔۔
ہائے کیا دل ہے کہ لینے کے لئے جاتا ہے    ………    اْس سے پیمانِ وفا جس پہ بھروسہ بھی نہیں