’’سکیورٹی خدشات ہیں‘‘ خاتون سرکاری وکیل سانحہ بلدیہ ٹائون کیس کی پیروی سے الگ

17 فروری 2015

کراچی (نیٹ نیوز) سانحہ بلدیہ ٹائون کیس کی سپیشل پراسیکیوٹر شازیہ ہنجرا نے گذشتہ روز کیس سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنے فیصلے سے سندھ حکومت کو آگاہ کر دیا۔ واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012ء کو بلدیہ ٹائون کی فیکٹری میں آگ لگنے سے 290 افراد زندہ جل کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ سرکاری وکیل شازیہ ہنجرا نے گذشتہ روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کے تعاون نہ کرنے پر وہ کیس سے علیحدہ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مقدمے میں تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے درمیان ہم آہنگی ہونا ضروری ہے تاہم انہیں کبھی تفتیشی افسر کا تعاون حاصل نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری وکیل کی کیس سے علیحدگی کی وجوہات سکیورٹی خدشات ہیں۔ شازیہ ہنجرا نے بتایا کہ انہیں ڈھائی سال کے بعد پتہ چلا کہ کیس میں گواہوں کی تعداد 950 ہے جبکہ اب تک انہیں گواہوں کے بیانات کی نقول تک فراہم نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسر کے رویئے کی شکایات عدالت سے بھی کیں لیکن عدالت نے کہا کہ اپنا مسئلہ خود حل کریں۔ شازیہ نے الزام لگایا کہ جان بوجھ ر کیس خراب کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ 3 روز قبل ایک نمعلوم شخص شازیہ ہنجرا کی رہائش گاہ میں گھس آیا تھا تاہم محافظوں کی حرکت میں آنے پر فرار ہو گیا جس کے بعد شازیہ کے گھر کی سکویرٹی سخت کر دی گئی تھی۔