سینٹ انتخابات: 52 نشستوں کیلئے 182 امیدوار‘ پرسوں کاغذات کی جانچ پڑتال شروع ہو گی

17 فروری 2015

اسلام آباد (انعام اللہ خٹک + دی نیشن رپورٹ + ایجنسیاں)  الیکشن کمشن نے سینٹ کے انتخابات کیلئے امیدواروں کی  فہرست جاری کردی‘ الیکشن کمشن کے مطابق اسلام آباد سے جنرل سیٹ پر  پیپلزپارٹی کے راجہ عمران اشرف‘ مسلم لیگ ن کے اقبال ظفر جھگڑا ‘ چوہدری محمد اشرف گجر ‘ ایم کیو ایم کے ذوالفقار علی جبکہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر  پیپلزپارٹی کی نرگس فیض ملک‘ مسلم لیگ ن  کی راحیلہ مگسی اور نرگس ناصر ‘ ایم کیو ایم کی شمائلہ شہاب اور بسمہ آصف شامل ہیں‘ فاٹا سے آزاد امیدواروں کی تعداد 42 ہے جبکہ  مسلم لیگ ن کے ایک امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ حتمی فہرست کے مطابق  پنجاب سے 7 جنرل سیٹوں پر مسلم لیگ ن کے 9 ‘  پیپلزپارٹی کے 2  اور 2 آزاد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ پنجاب سے ہی خواتین کی مخصوص نشستوں پر  مسلم لیگ ن کی 3 پیپلزپارٹی کی ایک امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ ٹیکنوکریٹ اور علماء کی دو سیٹوں پر مسلم لیگ ن کے راجہ محمد ظفر الحق اور ساجد میر جبکہ  پیپلزپارٹی کے ملک نوشیر خان انجم اور ملک عبدالرحمن صادق آزاد امیدواروں کی حیثیت سے سامنے آئے۔ سندھ سے  پیپلزپارٹی  سات جنرل نشستوں پر سات امیدواروں کو سامنے لائی ہے جبکہ ایم کیو ایم نے آٹھ امیدواروں کے کاعذات نامزدگی جمع کرائے۔ سندھ سے خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر ایم کیو ایم کی چار جبکہ پیپلزپارٹی کی دو امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ سندھ سے ٹیکنوکریٹ اور علماء کی نشست پر  پیپلزپارٹی نے فاروق ایچ نائیک ‘ عبدالرحمن ملک اور ایم کیو ایم نے عبدالقادر خانزادہ اور محمد علی خان سیف کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ خیبر پی کے سے  تحریک انصاف کے چار امیدواروں نے جبکہ جاعت اسلامی کے دو ‘ جمعیت علمائے اسلام کے دو ‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک ‘ قومی وطن پارٹی کا ایک اور پیپلزپارٹی کے دو ‘اے این پی کی ایک اور چار آزاد امیدواروں نے سات جنرل نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر سات امیدوار سامنے آئی ہیں جن میں مسلم لیگ ن  کی ایک ‘ اے این پی کی ایک‘ جمعیت علمائے اسلام کی ایک‘ پی ٹی آئی کی دو اور دو آزاد امیدوار شامل ہیں۔ کے پی کے میں ٹیکنوکریٹ اور علماء کی نشست پر جے یو آئی (ف) کے ایک‘ پی ٹی آئی کے تین‘ قومی وطن پارٹی کا ایک ‘ اے این پی کا ایک‘ پیپلزپارٹی کا ایک اور ایک آزاد امیدوار سامنے آیا ہے۔ اقلیتوں کیلئے مخصوص نشستوں پر جے یو آئی (ف) کے ایک‘ پی ٹی آئی کے دو اور اے این پی کے ایک امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ بلوچستان سے  مسلم لیگ ن کے چار  امیدواروں نے جنرل سیٹ پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں جبکہ جے یو آئی (ف) کے دو‘ نیشنل پارٹی کے دو ‘ بلوچستان نیشنل پارٹی کے ایک اور سات آزاد امیدوار جبکہ پاکستان ملی عوامی پارٹی کے دو امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اور  خواتین کی دو مخصوص نشستوں پر جے یو آئی کی دو‘ مسلم لیگ ن کی ایک ‘ پاکستان ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کی ایک امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ ٹیکنوکریٹ اور علماء کی سیٹ پر جے یو آئی (ف) کے دو‘ نیشنل پارٹی کے تین‘ ن لیگ کے دو ‘ پاکستان عوامی ملی پارٹی کے ایک اور ایک آزاد امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ بلوچستان سے ہی اقلیتی نشست پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دو‘ نیشنل پارٹی کے دو‘ ن لیگ کے دو ‘ پاکستان عوامی ملی پارٹی کے ایک اور ایک آزاد امیدوار نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کل 182 امیدواروں نے سینیٹ کی 52 نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ 19 اور 20 فروری کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد امیدواروں کی سکروٹنی کا عمل مکمل ہوگا۔  انعام اللہ خٹک / نیشن رپورٹ کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ اسمبلی  میں  متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان  کی تعداد 51  ہے اور اس نے 14  امیدواروں  کو نامزد کیا ہے جبکہ 91  ارکان رکھنے والی پیپلز پارٹی  نے  11  امیدواروں  کے کاغذات  جمع کرائے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق وزیراعلی  خیبر پی کے پرویز خٹک  کے داماد   عدنان  خان سینٹ انتخابات سے دستبردار ہو گئے انہوں نے دستبردار ہونے  کا فیصلہ  وزیراعلی  کی ہدایت پر کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے  سینیٹر منتخب ہونے کے لئے ووٹرز کی خریداری  کیلئے قیمتیں  بڑھتی جا رہی ہیں۔ سینیٹر  منتخب  ہونے  کیلئے بولی 25  کروڑ سے لے کر 30 کروڑ روپے تک جا پہنچی۔  بعض  پارلیمانی  ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا  خواہشمند  بریف  کیسوں میں 25 سے 30  کروڑ لئے پھر رہے ہیں اور  ارکان صوبائی اسمبلی کو اس  کی آفر کر رہے ہیں۔فاٹا سے سینٹ کی 4نشستوں پر ریکارڈ 43امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں