زرداری سے شدید اختلافات بلاول کی ساکھ کو بہتر بنانے کی مشق لگنے لگے

17 فروری 2015
زرداری سے شدید اختلافات بلاول کی ساکھ کو بہتر بنانے کی مشق لگنے لگے

لاہور (مبشر حسن/ نیشن رپورٹ) بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کے درمیان شدید اختلافات کی خبریں درست ہیں یا غلط، اس سے قطع نظر یہ بات یقینی ہے کہ یہ خبریں بلاول بھٹو کی کردار سازی کر رہی ہیں اور ان خبروں سے بالواسطہ طور پر بلاول بھٹو کا اپنے والد سے الگ ایک رہنما کے طور پر تاثر ابھر کر سامنے آرہا ہے۔ بلاول کی بظاہر زرداری سے ناراضی سے سامنے آنیوالے تاثر کے برخلاف پورے مسئلے پر غور کرنے سے ایک نیا پہلو سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ان اختلافات کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے ناراض کارکنوں کو تسلی دی جا رہی ہے اور پارٹی میں شکست و ریخت کے خدشات بھی دم توڑنے لگے ہیں۔ بظاہر بلاول سندھ حکومت کی کارکردگی خصوصی طور پر تھرپارکر میں قحط سالی جیسے معاملات پر اقدامات سے مطمئن نہیں، پارٹی میں فریال تالپور کے اثرورسوخ پر بھی بلاول ناراض ہیں، وہ پارٹی کے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں۔ قبل ازیں پیپلز پارٹی کے پرانے رہنمائوں میں یہ خدشات پھیل رہے تھے کہ بھٹو کی پارٹی کو زرداری نے ہائی جیک کرلیا ہے مگر بلاول کی ناراضی سے وہ ان جیالوں کے پسندیدہ رہنما بن جائیں گے۔ دوسری طرف یہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آصف زرداری بلاول سے اس لئے ناراض ہیں کہ انہوں نے زرداری کی منظوری کے بغیر اپنی سیاسی ٹیم بنائی جس میں بے نظیر بھٹو کے قریب رہنے والے رہنمائوں کا انتخاب کیا۔ اس تاثر سے پارٹی کے پرانے کارکنوں میں یہ خیال پیدا ہوا ہے کہ بلاول زرداری سے اختلاف کر کے بے نظیر بھٹو طرز کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح بھی بلاول جیالوں میں مقبول بنتے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق زرداری اور بلاول کے مابین اختلافات کے بین السطور سامنے آنیوالا منظرنامہ یہ بتاتا ہے کہ یہ اختلافات نوراکشتی ہیں جس کا مقصد بلاول کی کردار اور تاثر کو بہتر بنانا ہے۔ آنے والے الیکشن کے قریب بلاول کو پارٹی کے لیڈر کے طور پر سامنے لایا جائیگا اور اس عرصہ کے دوران تعمیر کیا گیا بلاول کا اچھا کردار ایک بار پھر پیپلز پارٹی کو الیکشن میں کامیابی دلا سکے گا۔

P E C کا امتحان فضول مشق

مکرمی!آپ کی وساطت سے محکمہ تعلیم سے یہ استدعا کرنی مقصود ہے کہ P E C کا امتحان ...