جابر سلطان سچے صحافیوں کے سامنے صابر سلطان ہیں

17 فروری 2015
جابر سلطان سچے صحافیوں کے سامنے صابر سلطان ہیں

سیاست میں یہ جرات اظہار کسی حکمران کو کم کم ملتی ہے جو نواز شریف نے سی پی این ای کی بھرپور محفل میں کی۔ ’’محفل میں وہ لوگ بھی بیٹھے ہیں جو جنرل مشرف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔‘‘ اور وہ اس کے بعد بھی محفل میں بیٹھے رہے۔ ان کا ذکر بھی انہوں نے کیا جو لوگ آمریت کے خلاف لکھتے رہے۔ وہ بھی موجود ہیں۔ وہ ہمیشہ موجود رہے ہیں اور انہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ قرب سلطانی ملتا ہے یا نہیں ملتا۔ حکمرانوں کو صرف ازلی کاسہ لیس، خوشامدی، مراعات اور عہدے لینے والوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو صحافی کوئی عہدہ قبول نہیں کرتا وہ حکمرانوں کو قابل قبول نہیں ہوتا۔
کوئی تو نواز شریف سے پوچھتا کہ کھانے کی میز پر کون لوگ ان کے ساتھ تھے؟ کوئی حکمران کبھی مفاد پرست خوشامدیوں سے جان نہیں چھڑا سکا۔ سٹیج پر تو انہوں نے بات ڈنکے کی چوٹ پر کی مگر حکمران غیر مشروط حمایت کیوں چاہتے ہیں۔ توازن کے ساتھ اظہار خیال ایک قابل قدر صحافی کا کردار ہونا چاہئے۔ جس تعریف کرنے والے میں تنقید کی جرات  نہ ہو تنقید کرنے والے کو جائز تعریف کا سلیقہ نہیں آتا تو یہ صحافت کسی کام کی نہیں۔ اس کی کوئی کریڈیبلٹی نہیں ہے اور صحافی آج کل کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ کے درمیان پھنس کے رہ گئے ہیں۔ وہ صحافی جو صرف حامی ہیں یا صرف مخالف ہیں دونوں بددیانتی کر رہے ہیں۔ حامی ہونا ایک خامی بھی ہو سکتا ہے۔ مخالفت برائے مخالفت بری چیز ہے تو حمایت برائے حمایت بھی اچھی نہیں ہے۔ آمر اچھا یا برا نہیں ہوتا جس طرح طالبان اچھے اور برے نہیں ہوتے۔ یہاں سیاسی اور فوجی آمر کی بحث بھی ہو سکتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جب کوئی جرنیل صدر پاکستان بنتا ہے تو وہ سیاستدان بن جاتا ہے۔ میرا ایک جملہ بہت ڈسکس ہوا تھا۔ جرنیلوں نے سیاستدان بننے کی کوشش کی اور سیاستدانوں نے جرنیل بننے کی کوشش کی۔ دونوں ناکام ہوئے اور بدنام ہوئے۔
سی پی این ای کے اس نمائندہ اجلاس میں تلاوت قرآن پاک کے لئے مجیب الرحمن شامی نے پشاور کے پیر سفید شاہ کو زحمت دی۔ وہ پشاور کے معروف سینئر اور بہادر صحافی ہیں۔ پڑھی گئی آیات کریمہ کا ترجمہ زندگی کا ترجمان ہے۔ ’’اللہ جسے چاہے اقتدار سے نوازتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔‘‘ تمام حاضرین نے اس ترجمے کو پسند کیا۔ خود نواز شریف نے پیر سفید شاہ کی تعریف کی۔ لگتا ہے کہ نواز شریف زندگی کے معاملات کو سمجھتے ہیں مگر مجبوریاں کہیں نہ کہیں آڑے آ جاتی ہیں۔ یہ بات خاص طور پر نواز شریف نے کی کہ ہم نے میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ کئی صحافی حد سے بھی بڑھ گئے مگر کوئی حکومتی کارروائی نہیں ہوئی۔ یہ اچھی بات ہے اور اس کا فائدہ نواز شریف کو بھی ہوا۔
صدر سی پی این ای مجیب الرحمن شامی نے اپنی ایک تحریر کو تقریر بنایا۔ کم کم ہوتا ہے کہ تحریر اور تقریر میں فرق مٹ جائے۔ جب کوئی حکمران لکھی ہوئی تقریر پڑھتا ہے تو بالعموم بور کرتا ہے مگر جب ایک اہل قلم صحافی اپنے قبیلے کی نمائندگی کا حق ادا کرتا ہے اور کچھ پڑھتا ہے تو محفل کو زندہ کر دیتا ہے۔ شامی صاحب ادیب بھی ہیں اور خطیب بھی ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ ادب کو نہیں اپنایا مگر صحافت میں ادبی چاشنی نہ ہو تو مزہ نہیں دیتی۔ معلومات جب تک محسوسات کے ساتھ ہم رنگ نہ ہوں تو بے لطف ہو جاتی ہیں۔ شامی صاحب کی باتیں نواز شریف کو بھی اچھی لگیں کہ انہوں نے زبانی بلکہ منہ زبانی تقریر کی اور محفل کو اپنے قابو میں رکھا۔ وہ حس مزاح سے بھی کام لیتے ہیں اور کبھی کبھی تو خوب کام لیتے ہیں۔ کہنے لگے کہ شامی صاحب نے تو خوب باتیں کیں اور مجھے جو لکھ کے بھجوایا اس سے بہتر ہے کہ میں زبانی بات کروں۔
شامی صاحب نے کہا کہ اگر آپ مستحق صحافیوں کے لئے کچھ ہمیں دیں گے تو ہم خوشی سے قبول کر لیں گے۔ اس پر نواز شریف نے خوب سماں باندھا۔ یہ شامی صاحب کا احسان ہے کہ وہ خوشی سے قبول کریں گے۔ ہم ان کے لئے اس احسان کی خاطر بہت ممنون ہوں گے۔ مزا تو یہی ہے کہ حکمران کچھ دے کے بھی ممنون رہے۔ ورنہ حکمرانوں کا شکر گزار رہنا لکھنے والوں کے دائیں ہاتھ کا کام ہے۔ ابھی ہمارے ہاں دائیں ہاتھ سے لکھنے کا رواج ہے۔ اب بائیں ہاتھ والے بھی یہ کام بہت خوب جان گئے ہیں۔ ایک شعر شامی صاحب نے پڑھا جس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ہمارے بغیر حکمرانوں کی کیا حیثیت ہے؟
ہم جب نہ ہوں گے تو کیا رنگ محفل
کسے دیکھ کر آپ شرمائیے گا
یہ بات سن کر نواز شریف کا سرخ و سفید رنگ اور کتنا سرخ ہوتا ہے۔ البتہ برادرم پرویز رشید تو باقاعدہ شرما گئے۔
شامی صاحب نے جینوئن محقق اور بے غرض صحافت کرنے والے محقق منیر احمد منیر کا ذکر کیا۔ جنہوں نے قائداعظم پر بہت بیش بہا تحقیقی کام کیا ہے۔ محبوب و مرشد ڈاکٹر مجید نظامی بھی منیر صاحب کے کام کو پسند کرتے تھے۔ امید ہے اس طرف نواز شریف توجہ دیں گے۔ آج وہ اپنی معروف واسکٹ میں تھے اور اچھے لگ رہے تھے۔ وہ سوٹ میں ہمیں بالکل اچھے نہیں لگتے جبکہ سوٹ پہننے کے ہم مخالف نہیں ہیں۔ سوٹ میرے مرشد و محبوب مجید نظامی کو بھی اچھا لگتا تھا۔ چیف ایڈیٹر نوائے وقت رمیزہ نظامی بھی محفل میں موجود تھیں۔
محفل کے آخر میں کچھ صحافیوں کو لائف اچیومنٹ اعزاز بھی دیا گیا جس کا شامی صاحب نے بہت خوب ترجمہ کیا۔ اعزاز کار حیات… ضیا شاہد اور جمیل اطہر کا نام لیا گیا۔ ان دونوں حضرات نے بہت معمولی حیثیت سے آغاز کر کے ایک غیرمعمولی مقام صحافت میں حاصل کیا ہے۔ آخر میں ایک بہت بڑے خطیب اور نڈر صحافی شورش کاشمیری کا یہ جملہ سنیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ جن لوگوں پر حکومت کر رہی ہو ان کے لئے کم سے کم حکومت ثابت ہو اور اہل قلم شاہوں کے قصیدے لکھنے کی بجائے قوم کی تعمیر و ترقی کے مقصد کو سامنے رکھیں۔ آخر میں مجھے یاد آیا کہ سی پی این ای کی ایک محفل میں مہمان خصوصی صدر جنرل ضیاالحق تھے اور صدر سی پی این ای  مجید نظامی نے جابر سلطان کے آگے کلمۂ حق بلند کرنے کی روایت کو سربلند کر دیا۔ لوگ حیران تھے کہ اب جنرل ضیا کیا جواب دیں گے۔ جنرل ضیاء نے اپنی تقریر کا آغاز اس طرح کیا۔ جابر سلطان ہمیشہ مجید نظامی سے ڈرتے رہے ہیں۔ مگر میں تو پہلے سے ہی صابر سلطان بن گیا ہوں۔