تصاریر کے ذریعے مریخ پر پراسرار ’’بادلوں‘‘ کا معمہ حل کرنے کی کوششیں جاری

17 فروری 2015

لندن (بی بی سی) سائنسدان مریخ پر ایک دائرے میں پھیلی ہوئی گردوغبار کے پراسرار معمے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین فلکیات نے گرد و غبار کو پہلی بار سال 2012ء میں دیکھا تھا اور غائب ہونے سے پہلے یہ دو بار نمودار ہوئی۔ سائنسدان اس گرد کی تصاویر کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کے مطابق اس کا دائرہ ایک ہزار کلومیٹر تک تھا اور اتنے وسیع علاقے پر پھیلے گردو غبار کو پہلے نہیں دیکھاگیا۔ جریدے نیچر میں شائع ہونے والے مضمون کے مطابق محققین کے خیال میں یہ بادل کا بڑا ٹکڑا ہو سکتا ہے یا غیر معمولی طور پر روشن ’ارورہ‘ ہے جو سورج سے خارج کردہ ذرات اور کسی سیارے کے مقناطیسی نظام کے ٹکراؤ سے پیدا ہوتا ہے۔ ابھی تک سائنسدان اس بات کا تعین نہیں کر سکے ہیں کہ یہ گرد کس طرح مریخ کے حصے مارٹن کی اوپری فضا میں نمودار ہوا۔