کراچی : اہم شخصیات کے 15ارب لوٹ کر فرار ہونیوالا منی ایکسچینج کمپنی کا سیکرٹری گرفتار

17 فروری 2015

کراچی( صباح نیوز) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اہم شخصیات کے اربوں روپے لے کرفرار ہوجانے والی منی ایکسچینج کمپنی کے سیکرٹری کو گرفتار کرلیا۔کراچی کے علاقے کلفٹن پرواقع شہرکے انتہائی معروف سپر سٹور میں قائم مارس منی ایکسچینج کے مالکان تقریبا 2سال قبل اچانک منی ایکسچینج کی تمام برانچز کو بند کرکے بیرون ملک فرار ہوگئے تھے ان کے فرار کے بعدیہ انکشاف ہوا کہ منی ایکسچینج کے مالکان جاوید نوراللہ، نوشاد نور اللہ اوران کے والد نور اللہ بااثر شخصیات کے 15 ارب روپے سے زائد لے کر فرار ہوئے ہیں،یہ وہ رقم تھی جو منی ایکسچینج کمپنی کے مالکان نے حوالہ اورہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھجوانے کے لئے وصول کی تھی۔خطیر رقوم سے محروم ہونے والوں میں سندھ کے اہم ترین سیاستدانوں کی بڑی تعداد شامل تھی جبکہ اس کے علاوہ بیوروکریٹس، اعلیٰ پولیس افسران اورشہر کے معروف صنعت کاربھی متاثرین میں شامل تھے تاہم کسی بھی بااثر متاثرہ شخص کی جانب سے اس سلسلے میں منی ایکسچینج کمپنی کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے گریزکیاگیا جس نے معاملے کو مزید مشکوک بنادیا، مزید تفصیلات سامنے آئیں تو انکشاف ہوا کہ متاثرہ افرادقانونی کارروائی سے اس لیے گریز کررہے ہیں کہ بیرون ملک منتقل کرنے کیلیے دی جانے والی رقوم غیرقانونی ہتھکنڈوں سے کمائی گئی تھیں جن میں بڑا حصہ سندھ کے غریب عوام کے ترقیاتی منصوبوں سے خوردبرد کی جانے والی کرپشن کی کمائی کا تھا۔اہم سیاستدان،بیورو کریٹس اور اعلیٰ پولیس افسران اس میں برابرکے شریک تھا تاہم معاملہ کچھ دنوں تک ذرائع ابلاغ کے پر رہنے کے بعد ٹھنڈا ہوگیا اور متاثرہ بااثر افراد اپنے اثرورسوخ کے ذریعے دبئی میں موجودمنی ایکس چینج کمپنی کے مالکان پر اپنا کالادھن واپس کرنے کیلیے دباوڈالتے رہے،معاملہ شایددباوہی رہتافنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے مارس منی ایکسچینج کے نچلے درجے کے ملازمین کے بینک اکانٹس میں ہونے والی اربوں روپے کی سرگرمیوں کانوٹس لیتے ہوئے معاملہ تحقیقات کیلیے ایف آئی اے کے سٹیٹ بینک سرکل کو بھجوادیا جہاں تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوگیاکہ بنک اکانٹس مارس منی ایکس چینج کے مالکان کی جانب سے حوالہ اورہنڈی کے غیرقانونی کاروبار کیلیے استعمال کیے جارہے تھے۔ایف آئی اے نے کچھ دن قبل معاملہ ثابت ہونے پرمنی ایکسچینج کمپنی کے مالکان اور متعلقہ بینک افسران کیخلاف حوالہ اورہنڈی کے ذریعے غیرقانونی طور پر خطیر رقوم کی منتقلی کا مقدمہ درج کرلیا اور ابتدائی طور پر ایک بینک افسر کو گرفتار کرلیا تحقیقات کا دائرہ بڑھا تو نجی بینک کی برانچ منیجرثروت عظیم اور منی ایکسچینج کمپنی کے سیکریٹری ثاقت راجا کے گرد گھیرا تنگ ہوگیا اور ایف آئی اے نے ثاقب راجاکو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔ذرائع نے بتایاکہ ثاقب راجاکی گرفتاری نے بااثر متاثرہ سیاستدانوں اور اہم سرکاری افسران میں کھلبلی مچادی۔