پٹرول پر ٹیکس مسترد، سرکاری، سفارتی پاسپورٹس دیئے جائیں، سندھ اسمبلی میں قراردادیں منظور

17 فروری 2015

کراچی (آئی این پی) سندھ اسمبلی میں سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2015 پیش کردیا گیا، ایوان نے سپیکر ڈپٹی سپیکر کو سفارتی جبکہ ارکان کو سرکاری پاسپورٹ جاری کر نے کی قرارداد منظورکرلی جبکہ اسمبلی اراکین نے پٹرول پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس مسترد کر دیا۔ پیر کو سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2015 پیش کردیاگیا، جس میں پینل سسٹم ختم کرنے اور انفرادی حیثیت میں انتخابات کی سفارش کی گئی، ترمیمی بل کے تحت یونین کمیٹیوں اور یوسیز کو وارڈ میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی گئی، جبکہ نئی حلقہ بندیوں کا اختیارالیکشن کمیشن کوسونپ دیا گیا، یونین کونسل، یونین کمیٹی میں وارڈز کی بنیاد پر چار جنرل کونسلرز کا انتخاب ہوگا۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس کے شروع میں مسلم لیگ فنکشنل کے رکن پیر راشد شاہ نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلی قائم علی شاہ جرائم پیشہ افراد کو پارٹی میں شامل کررہے ہیں۔ صوبائی وزیر منظور وسان نے جواب دیا کہ پہلے یہ لوگ فنکشنل لیگ میں تھے تو فرشتے تھے اب پیپلزپارٹی میں آگئے تو جرائم پیشہ ہیں۔ ایوان میں پیپلز پارٹی کے رکن سکندر شورو نے قرارداد پیش کی کہ اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو سفارتی پاسپورٹ اور ارکان کو سرکاری پاسپورٹ جاری کیے جائیں۔ قرارداد میں سفارش کی گئی کہ ان کے اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو بھی سرکاری پاسپورٹ دیئے جائیں۔ ایوان نے متفقہ طور پر قرار داد منظور کرلی۔ ڈپٹی سپکر شہلا رضا نے کہا کہ سترہویں سپکرز کانفرنس میں بھی سفارتی پاسپورٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا جس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ اراکین اسمبلی نے پٹرول پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔ اسمبلی میں سندھ حکومت کے سہ ماہی بجٹ اخراجات کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ ایوان میں امتیاز احمد شیخ کے نکتہ اعتراض پر صوبائی وزیر تعلیم و خواندگی نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ ہماری سانحہ شکار پور کے شہداء کے لواحقین سے اپیل ہے کہ وہ اپنا لانگ مارچ منسوخ کر دیں، دہشت گرد اس صورت حال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کے کچھ مطالبات ہیں، جن کی وجہ سے انہوں نے شکارپور سے کراچی تک لانگ مارچ شروع کیا، حکومت کو چاہئے کہ وہ ان غم زدہ لوگوں سے بات کرے، نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ حکومت نے امدادی کارروائیوں میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی، سانحہ کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں، لانگ مارچ اس وقت کیا جاتا جب ہم کوئی اقدامات نہ کرتے۔ علاوہ ازیں سندھ اسمبلی نے پیر کو ’’سندھ آرمز ایکٹ 2013ئ‘‘ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا جس کے تحت پاکستان آرمز آرڈیننس 1965ء کی بعض شقوں کا صوبہ سندھ میں اطلاق منسوخ کر دیا گیا۔ ایوان کا اجلاس آج صبح تک کیلئے ملتوی ہو گیا۔