مسیحیوں کا قتل : لیبیا میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری‘ پچاس جنگجو ہلاک‘ تربیتی کیمپ اسلحہ ڈپو تباہ

17 فروری 2015

قاہرہ+نیویارک (نوائے وقت نیوز+اے ایف پی+صباح نیوز+نمائندہ خصوصی)مصری اور لیبیا کی فضائیہ نے لیبیا اور سرحدی علاقے میں داعش کے ٹھکانوں پر بم باری کی۔ داعش کا ٹریننگ کیمپ اور اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا، 50 جنگجو مارے گئے۔ کارروائی داعش کے ہاتھوں 21مصری مغوی مسیحیوں کے قتل کے بعد کی گئی۔ مصر سمیت دنیا بھر میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں مشترکہ طور پرداعش کی جانب سے بھیانک اور بزدلانہ قتل کی مذمت کی گئی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر مصری شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی ایس آئی کو شکست دئے جانے پر زور دیا۔وائٹ ہاو¿س کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ معصوم لوگوں کا قتل شیطانی عمل ہے۔داعش کے خلاف عالمی برادری کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اکیس مصری شہریوں کے قتل کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مصری وزیر خارجہ کو فون کیا اور داعش بزدلانہ اقدام کی شدید مذمت کی۔ برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بھی مصری شہریوں کے سفاکانہ قتل کی مذمت کرتے ہوئے داعش کے دہشت گردوں سے انتقام لینے کا عہد کیا۔ جامعہ الازہر کی جانب سے قبطی عیسائیوں کی ہلاکت کو وحشیانہ قرار دیا گیا ہے جبکہ کاپٹک چرچ کا کہنا ہے کہ اسے یقین ہے کہ مصر موثر جواب دے گا۔حکومت نے سات روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔لیبیا کی فضائیہ کے سربراہ جروشی نے کہا مصر کو اپنے بچوں کے دفاع کا حق ہے اس لئے دیرنا میں کارروائی کی گئی۔ فرانس اور مصر نے داعش کیخلاف اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر دولت اسلامیہ کے ترجمان نے کہا مسیحیوں کی جانب سے مسلمان خواتین پر تشدد اور انہیں ہلاک کرنے کا بدلہ لیا ہے۔