قائمہ کمیٹی کی معلومات تک رسائی بل منظور نہ کرانے پر تشویش، نامکمل جواب پر برہمی

17 فروری 2015

اسلام آباد ( صباح نیوز)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ نے طویل عرصہ گزرنے کے باوجود وفاق میں تاحال معلومات تک رسائی کے بل کی کابینہ اور پارلیمینٹ سے منظوری حاصل نہ کرنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا قانون سازی میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہرکردیا ہے ارکان کمیٹی نے کہا اہم قومی نوعیت کا بل ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں بل کی منظوری کی توقع ظاہرکی ہے قومی ٹی وی نے سینٹ قائمہ کمیٹی اطلاعات کے اس اہم اجلاس میں پرائیویٹ چینل سے کرکٹ ورلڈ کپ 2015ء کی نشریات کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے اسے رکوانے کے لئے مدد مانگ لی ۔ پیمرا کو اقدامات کی سفارش کردی گئی ہے انڈین چینل سٹار سپورٹس و دیگر بھارتی چینلز بھی غیر قانونی طور پر سیٹلائٹ پر ان کو نشر کر رہے ہیں۔ ان نشریات کو روکنے کیلئے بھی پیمرا اقدامات کی سفارش کردی گئی ہے کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت پارلیمینٹ ہاؤس میں ہوا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا نجی کمپنیوں نے پی ٹی وی کے دو ارب ساٹھ کروڑ روپے کے واجبات دینے ہیں۔ ایک ارب ستر کروڑ روپے کی وصولیوں کے حوالے سے کمپنیوں کو خط لکھے مگر جواب نہیں ملے منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی محمد مالک نے بتایا فنڈ کی کمی کی وجہ سے ادارہ نقصان میں جا رہا ہے۔ 5.25ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں میں صرف ہو جاتے ہیں۔ پچھلے چھ برسوں کے دوران اوپن مارکیٹ سے خریدے ڈراموں کی ادائیگیوں کے بارے میں بتایا گیا۔ 2013-14ء میں 35کروڑ 75لاکھ، 2012-13ء میں 35کروڑ 83لاکھ اور 2010-11ء میں 37کروڑ 38لاکھ روپے کے ڈرامے خریدے گئے۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس جو 24فروری کو ہوگا میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت میں جاری کیسز اور ان کی ادائیگیوں سے متعلق ایم ڈی پی ٹی وی نے بتایا 30کیسز عدالتوں میں ہیں جس پر قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی کے قانون کے شعبے کو بہتر کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت کی آئندہ اجلاس میں اس بارے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ ایم ڈی نے بتایا پی ٹی وی میں ایک مافیا ہے۔ جو ہر ملازم کی اے سی آر کو آئوٹ سٹینڈنگ لکھ دیتا ہے جو ادارے کے زوال کا سبب ہے جبکہ ایک سال کے دوران 80 جعلی ڈگری والے ملازمین کو میں خود فارغ کر چکا ہوں۔ اب تقرریاں میرٹ پر کی جارہی ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے نامکمل معلومات فراہم کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اینکر پرسن کی تقرری کا اس رپورٹ میں ذکر نہیں۔ ان کی تقرریاں قواعد و ضوابط کو ملحوظ خاطر رکھ نہیں کی گئیں۔ قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی تقرریوں کیلئے پہلے اشتہار دیا جائے اور مطلوبہ معیار کا ٹینلنٹ سامنے نہ آئے تو پھر ایم ڈی کو اختیار دیا جائے وہ اپنی مرضی کی تقرری کرے۔