معدنیات کے ذخائر عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں: ثمر مبارک

17 فروری 2015

اسلام آباد (عتیق احمد) معروف ایٹمی سائنسدان اور پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے کہا ہے کہ چنیوٹ میں 28 مربع کلومیٹر کے علاقے میں 1کھرب ڈالر مالیت سے زائد کے تانبے، سونے اور لوہے کے ذخائر موجود ہیں، ریکوڈک اور سینڈک منصوبے کے برعکس چنیوٹ کی قیمتی معدنیات کسی بھی عالمی کمپنی کو لیز پر نہیں دی جائیں گی، معدنیات کے ذخائر پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں سے چھٹکارا دلا سکتے ہیں۔ نوائے وقت سے خصوصی انٹرویو کے دوران ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے کہا کہ ڈرلنگ کا کام جاری ہے۔ قیمتی دھات پلاٹینیم ملنے کے بھی واضح امکانات ہیں۔ اگست تک 1ہزار میٹر سے زائد زیرزمین ڈرلنگ مکمل کر لی جائے گی۔ روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ قیمتی معدنیات نکالنے کیلئے ہمیں ملکی باصلاحیت افراد پر انحصار کرنا ہو گا۔ چنیوٹ کی طرح تھر میں بھی کھربوں ڈالرکی معدنیات کا خزانہ موجود ہے جس سے ہزاروں میگاواٹ بجلی، گیس، ڈیزل اور فرٹیلائزر سمیت متعدد مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ تھرکے کوئلے سے صرف 3تا 5روپے فی یونٹ بجلی بنا کر دے سکتے ہیں۔ تھر میں انڈرگراؤنڈگیسی فکیشن کامیاب طریقے سے جاری ہے۔