تحریک انصاف کے آئین میں ترمیم، ضلعی صدور کے اختیارات کم کرنیکی مخالفت

17 فروری 2015

لاہور (فرخ سعید خواجہ سے) تحریک انصاف کے آئین میں ترمیم کے مسئلے پر پنجاب میں ضلعی صدور کی بھاری اکثریت نے لاہور کے صدر عبدالعلیم خان کی اس رائے کی حمایت کر دی ہے کہ ضلعی صدور کے اختیارات کم نہ کئے جائیں اور حسب سابق ذیلی تنظیموں کو ضلعی تنظیموں کے زیر سایہ کام جاری رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔ ضلعی صدور کے اجلاس میں سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین بھی شامل تھے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اجلاس میں 25 کے لگ بھگ ضلعی صدور نے شرکت کی۔ لگ بھگ تمام نے اس تجویز کی حمایت کی کہ آنے والے الیکشن میں ذیلی تنظیموں کو ضلعی تنظیموں کے برابر سٹیٹس نہ دیا جائے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت پروگراموں کی ذمہ داری ضلعی صدور پر ڈالتی ہے جبکہ ذیلی تنظیمیں آٹے میں نمک کے برابر ذمہ داری اٹھاتی ہیں۔ بلدیاتی اور عام انتخابات میں ضلعی صدور اور ذیلی تنظیموں کے صدور کو یکساں مقام دینا قرین انصاف نہیں ہو سکتا لہٰذا اس حوالے سے مجوزہ ترمیم کو واپس لیا جانا چاہئے۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ مرکزی قیادت جس ضلع میں جائے اس ضلع کے صدر کو اپنے ساتھ لے کر چلے۔ بعض ضلعی صدور نے کہا کہ صوبہ پنجاب کی قیادت کو بھی مجوزہ ترمیم کی مخالفت کرنی چاہئے وگرنہ پارٹی تنظیم میں بددلی پھیلے گی۔ میڈیا سے گفتگو میں جہانگیر ترین نے کہا کہ اعجاز چودھری تحریک انصاف پنجاب کے صدر ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹائے جانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے جہاں تک ان کے عدالتی معاملے ہیں اس کا مجھے علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اپنے آئین میں ترمیم کرنے جا رہی ہے۔ پارٹی آئین میں ترمیم کیلئے اس مقصد کیلئے حامد خان کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے اپنی سفارشات پیش کی ہیں۔ ہم نے انہیں عہدیداران کے سامنے رکھا ہے۔ حکومت کو جوڈیشل کمشن آئین میں درج ٹی آر اوز کے تحت تشکیل دینے کی ہم نے تجویز دی ہے۔ جب تک انتخابات کی شفافیت کی جانچ پڑتال نہیں ہو جاتی ہم گھر میں نہیں بیٹھیں گے۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں بھیجا جائے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے مطمئن نہیں ہیں۔ سیاسی جماعت بنانا اور سیاست کرنا پرویز مشرف کا جمہوری حق ہے۔