پنجاب میں معلومات تک رسائی کا قانون، ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچ سکے

17 فروری 2015

لاہور( شہزادہ خالد) 2013ء میں منظور ہونے والے پنجاب میں معلومات تک رسائی کے قانون کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچ سکے۔ عوام کو باخبر رکھنے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ صوبہ بھر میں مختلف محکموں کیلئے 600 انفارمیشن افسران، چیف انفارمیشن کمشنر، ممبر انفارمیشن کمشنر سمیت درجنوں اعلیٰ افسران کو تعینات کر دیا گیا مگر مذکورہ قانون سے عوام استفادہ کرنے سے قاصر ہیں۔ قانون کی منظوری دسمبر 2013 میں دی گئی لیکن 2014 ء کے وسط تک نافذ تو کر دیا گیا لیکن عملاً فعال نہ ہو سکا۔ ابھی تک اسکے رولز آف بزنس کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔ اس قانون کے تحت پاکستان کا ہر شہری یہ حق رکھتا ہے کہ وہ جان سکے اسکا پیسہ کہاں استعمال ہو رہا ہے۔ صوبے میں ہر محکمہ کے دفتر میں پبلک انفارمیشن افسر شہریوں کی رہنمائی کرے گا۔ ابھی تک بہت سے اضلاع میں پبلک انفارمیشن آفیسر مقرر نہیں کئے گئے، رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کا قانون کرپشن کم کرنے کا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آئینی و قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ قانون تو بن جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ ڈی ٹی سی ای (DTCE) کے غلام مصطفیٰ سنگراسی کپسٹی بلڈنگ سپیشلسٹ نے کہاکہ اس ایکٹ کے تحت ہر شہری معلومات تک رسائی کا حق رکھتا ہے۔