پنجاب اسمبلی: پولیس کی کارکردگی ناقص ہے: حکومت رکن، دسمبر تک صوبے کو دہشت گردی سے پاک کر دیں گے: وزیر داخلہ

17 فروری 2015

لاہور (خصوصی رپورٹر+خصوصی نامہ نگار+کامرس رپورٹر+سپورٹس رپورٹر) پنجاب حکومت نے رواں سال دسمبر تک صوبے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے مجموعی طور پر جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے، پنجاب اسمبلی میں پولیس کی ناقص کارکردگی کے بارے میں حکومتی رکن طاہر سندھو کے پوائنٹ آف آرڈر کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے ایوان کو بتایا پولیس کی کارکردگی پہلے کی نسبت بہتر ہو گئی ہے، قومی ایکشن پلان کے تحت فوج اور حکومت ایک پلیٹ فارم پر ہیں، دہشت گردی ختم نہ ہوئی تو پاکستان آگے نہیں چل سکے گا، دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے اور دسمبر تک امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہو جائے گی۔ پنجا ب اسمبلی نے مختلف محکموں کی آڈٹ رپورٹس کو پی اے سی کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے ایک سال میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔ حکومتی رکن ابوحفص غیاث الدین نے شکر گڑھ کے اسسٹنٹ کمشنر سے اپنی زندگی کو لاحق خطرات پر واویلا کیا اور منتخب نمائندے کے بجائے اے سی کی سپورٹ کرنے پر ڈی سی او نارووال نجف اقبال کے منفی رویے کے خلاف تحریک استحقاق پیش کردی جو وزیر قانون کی تجویز پر استحقاق کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس پر ابو حفص محمد غیاث الدین نے خدشہ ظاہر کیا اس دوران اے سی معلوم نہیں کیا کارروائی کردے گا۔ تحریک استحقاق میں کہا گیا ہے 9فروری 2015ء کو ڈی سی او نارووال نجف اقبال کے پاس اے سی شکر گڑھ سے متعلق بات کرنے کیلئے گیا جس نے دیوار کے جھگڑا پر ایک معزز گھرانے کے تین افراد کو اپنے ذاتی پستول سے گولیاں مار کر مضروب کردیا تھا جس کی ایف آئی آر تھانہ سٹی شکر گڑھ میں اے سی کے خلاف درج ہو چکی ہے۔ گوجرانوالہ ڈویژن کے عوامی نمائندگان کے معاملات کو حل کروانے کیلئے وزیراعلیٰ کی طرف سے مقرر کردہ شاہد اقبال نے مجاز اتھارٹی کو کہہ کر اے سی کا تبادلہ کر دیا لیکن ڈی سی او نارووال نے تبادلہ رکوا دیا۔ اس حوالے سے میں نے 9فروری کو ڈی سی او نارووال سے بات کی تو انہوں نے متکبرانہ انداز سے کہا جب تک اے سی شکر گڑھ کے خلاف درج ایف آئی آر ختم نہ کرائو گے اے سی کا تبادلہ نہیں ہونے دوں گا۔ میں نے کہا مجھے اے سی سے جان کا خطرہ ہے۔ جواباً ڈی سی او نے طنزیہ انداز سے کہا تیرے لئے بلٹ پروف گاڑی کا بندوبست کرتا ہوں۔ سپورٹس رپورٹر کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی طاہر سندھو اور میاں رفیق نے نقطہ اعتراض اٹھاتے ہوئے سرگودھا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں واقع شوگر ملوں کے مالکان کی جانب سے کسانوں کو گنے کی ادائیگیاں نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کسانوں کے ساتھ اس طرح ناانصافیاں ہوتی رہیں تو کسان سڑکوں پر نکل آئیں گے اور خدشہ ہے کسی دن وہ موٹروے کو بند نہ کردیں۔ اجلاس میں صوبائی وزیر جیل خانہ عبدالوحید جنہیں الیکشن کمشن نے تاحیات نااہل قرار دیا تھا عدالتی حکم پر بحال ہوکر اجلاس میں آئے تو ارکان اسمبلی نے ڈیسک بجا کر انہیں خوش آمدید کہا۔ وزیر داخلہ شجاع خانزادہ سپیکر کے طلب کرنے پر ایوان میں آئے اور کہا سرکاری مصروفیات کی وجہ سے وہ اجلاس میں شرکت سے قاصر رہے اور توجہ دلائو نوٹس کا جواب نہیں دے سکے اس پر وہ معذرت خواہ ہیں۔ اپوزیشن رکن ڈاکٹر وسیم اختر نے تحریک انصاف کے استعفوں کی وجہ سے پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس نہ ہونے کی جانب توجہ دلائی تو وزیر قانون مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا لاء ڈیپارٹمنٹ سے اس حوالے سے تفصیلات مانگی ہیں۔ رواں ہفتے اس مسئلے کو حل کرکے اجلاس بلایا جائے گا۔ پنجاب حکومت نے خواجہ سرائوں کی تعداد کا تعین کرنے میں ناکامی کا اعتراف کرلیا، پنجاب اسمبلی کو بتایا گیا خواجہ سرائوں کے لئے ملازمتوں میں کوٹہ مختص نہیں کیا جا سکتا، پنجاب اسمبلی میں تحریری طور پر فراہم کیے جواب میں پنجاب حکومت کی طرف سے آگاہ کیا گیا وفاقی حکومت نے 1998ء کی مردم شماری محض مرد اور عورت کی بنیاد پر تھی۔ پنجاب اسمبلی کو بتایا گیا محکمہ اوقاف کی اراضی واگزار کرانے کے لئے پالیسی منظوری کے لئے وزیراعلیٰ کو بھجوائی جائے گی تاہم زیر قبضہ اراضی واگزار کرانے میں سول عدالتوں کے حکم امتناعی بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ وزیر اوقاف میاں عطا محمد مانیکا نے کہا سول عدالتوں سے چھٹکارا دلایا جائے۔ارکان کی دلچسپی کم ہونے اور روز روز کورم کا مسئلہ پیدا ہونے کے باعث پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں دو روز کا وقفہ کردیا گیا ہے اب اجلاس جمعرات 19فروری کی سہ پہر تین بجے ہوگا۔ این این آئی کے مطابق پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کہا گیا حکم امتناعی ختم نہ ہوئے تو محکمہ اوقاف کی زمینیں کبھی واگزار نہیں کرائی جاسکیں گی، اب تہیہ کرلیا ہے کہ محکمہ اوقاف کی زرعی، غیر آباد، شہری رقبہ، دکانوں پر قبضوں کوختم کرائیں گے۔ سینئر وزیر اشفاق سرور نے محمود الرشید کی جانب سے استعفے کے بعد پی اے سی ون کا چیئرمین منتخب کرنے کیلئے ڈاکٹر وسیم اختر کا نام تجویز کردیا۔