’’سانحہ بلدیہ کی دوبارہ تحقیقات‘‘ وزیراعظم دبائو، بلیک میلنگ میں آکر پیچھے ہٹ گئے: سراج الحق

17 فروری 2015

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے سانحہ بلدیہ ٹائون کی دوبارہ تحقیقات کروانے کا اعلان دراصل ان 6سرکاری اداروں پر عدم اطمینان کا اظہار ہے جنہوں نے بڑی محنت سے جے آئی ٹی رپورٹ مرتب کی تھی، قوم توقع کر رہی تھی کہ وزیراعظم کراچی جا رہے ہیں تو وہ 260خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھیں گے جن کے پیاروں کو زندہ جلا دیا گیا لیکن اسکی بجائے وزیراعظم دبائو اور بلیک میلنگ میں آکر پیچھے ہٹ گئے اور اگر حکومت کے اندر عزم اور ہمت نہیں ہے تو وہ دہشت گردی کیسے ختم کریگی۔ انہوں نے یہ بات آل پاکستان پروفیسر اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے پچاس رکنی وفد سے منصورہ میں ملاقات، اجتماع ارکان سے خطاب اور شوکت خانم ہسپتال میں داخل کسان بورڈ پنجاب کے سیکرٹری جنرل ارسلان خاکوانی کی عیادت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ بلدیہ کی رپورٹ کسی ایک رپورٹر کی بنائی ہوئی نہیں تھی بلکہ 6ذمہ دار سرکاری اداروں نے تیار کی تھی۔ جس میں کراچی کی ایک لسانی تنظیم کو ملوث قرار دیا گیا تھا، جن اداروں نے یہ رپورٹ تیار کی تھی اگر ان کی رپورٹ غلط ہے تو ان اداروں کے ذمہ داران کو قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ میاں نوازشریف اپنی وہ مجبوری قوم کے سامنے رکھیں جس بنیاد پر 260مزدوروں کو زندہ جلانے کی رپورٹ کو انہوں نے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس موقع پر سانحہ بلدیہ ٹائون کے متاثرین کو بلاکر ان کی امداد اور اشک شوئی کرتی لیکن اس کے بجائے اس نے ایم کیو ایم کے ساتھ ناطہ جوڑ لیا ہے۔