مذاکرات کیلئے بھارتی سنجیدگی کا اندازہ اسکے خیرسگالی کے اقدامات سے ہی لگایا جا سکتا ہے

17 فروری 2015

سرتاج عزیز کا پاکستان میں بھارتی مداخلت بھی بھارتی سیکرٹری خارجہ سے مذاکرات کے ایجنڈا میں شامل کرنے کا عندیہ

بھارت کے خارجہ سیکرٹری جے شنکر اگلے مہینے مارچ کے وسط میں اسلام آباد کا ایک روزہ سرکاری دورہ کرینگے۔ نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کی اس دورہ کی تیاریوں کے سلسلہ میں جے شنکر کے ساتھ ملاقات ہو چکی ہے۔ دفتر خارجہ اور سفارتی ذرائع کے مطابق خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر دو طرفہ مذاکرات منسوخ کرنے کے بعد بھارت کو اپنی غلطی کی تلافی کرتے ہوئے مذاکرات کی بحالی کیلئے ازخود پاکستان سے رجوع کرنا پڑا ہے۔ بھارتی حکمران جماعت کو اندرون ملک سے مسلسل دبائو اور عالمی سطح پر منفی ردعمل کے بعد پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے کوششیں شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ سرتاج عزیز نے بھارت کے ساتھ بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات میں پاکستان میں بھارتی مداخلت بھی ایجنڈا کا حصہ ہوگی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام مسائل کے حل کیلئے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات چاہتا ہے، عالمی برادری بھی دونوں ممالک پر زور دے رہی ہے کہ وہ مذاکراتی عمل میں پیشرفت کریں۔ امریکہ اور دیگر ممالک تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت نے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات یکطرفہ طور پر ختم کرکے اچھا نہیں کیا تھا۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات میں سرکریک اور سیاچن کے مسائل پر پہلے ہی پیشرفت ہوچکی ہے۔ اب سیکرٹری سطح کے مذاکرات میں پاکستان میں بھارتی مداخلت بھی ایجنڈا کا حصہ ہوگی۔
ورلڈ کپ 2015ء کے آغاز سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ان تمام ممالک کے سربراہان کو فون کرکے خیرسگالی کا پیغام دیا تھا جو ورلڈ کپ میں حصہ لے رہے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب میاں نوازشریف کو بھی فون کرکے پاکستانی ٹیم کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ مودی نے شاید میاں نوازشریف اور دیگر ممالک کے سربراہوں کو اس لئے فون کیا ہو کہ بھارت 2011ء سے ون ڈے کرکٹ کا چیمئن ہے۔ نریندر مودی نے میاں محمد نوازشریف کے ساتھ اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ انکے نئے سیکرٹری خارجہ سارک ممالک کے دورے کے دوران پاکستان بھی آنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے رسمی طور پر انکے دورے کا خیرمقدم کیا۔ مودی کا فون اور جے شنکر کے دورہ کی کوئی خصوصی وجوہات نظر نہیں آتیں کہ جس سے بڑی توقعات وابستہ کرلی جائیں اور انڈوپاک تعلقات میں کشیدگی کی فضا میں اسے ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا قرار دیا جائے۔ جے شنکر ایک روزہ دورے پر پاکستان آرہے ہیں۔ ایک دن تو ان کو تھکاوٹ اتارنے اور انکے استقبال میں گزر جائیگا‘ بہرحال جے شنکر کی آمد سے پاکستان بھارت مذاکرات کی بحالی میں پیشرفت کی امید رکھی جا سکتی ہے۔
پاکستان بھارت تعلقات میں کشیدگی کی انتہاء کے دوران بھی دونوں ممالک کے مابین رابطے منقطع نہیں ہوئے۔ تجارت معمول کے مطابق اور پاکستان کو خسارے کے باوجود جاری رہی۔ وفود کے تبادلے ہوتے رہے۔ میاں صاحب نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں بھارت تشریف لے گئے اور بھارت کے یوم جمہوریہ پر تہنیت کا پیغام بھی بھیجا گیا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے بقول پاکستان بھارت کے ساتھ بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات چاہتا ہے۔ سرتاج عزیز یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ بھارت سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت بھی بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات کیلئے تیار ہے؟ اور وہ واقعی اپنے اٹوٹ انگ کے مؤقف سے رجوع کرکے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات پر آمادہ ہو جائیگا؟ مذاکرات تو اس نے پہلے بھی کئے گئے مگر وہ کبھی پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ بھارت حیلے بہانوں سے مذاکرات کو سبوتاژ کرتا رہا۔ اگر بھارت واقعی ہمارے مشیر خارجہ اور دفتر خارجہ کی خوش فہمی کے مطابق مذاکرات کیلئے تیار ہو گیا ہے تو اسے پاکستان کی سفارتکاری کی معراج قرار دیا جا سکتا ہے جس کا کریڈٹ بجا طور پر میاں نوازشریف اور انکی ٹیم کو جاتا ہے۔
ادھر نریندر مودی کا فون آیا‘ انہوں نے سیکرٹری خارجہ کے دورے کی نوید سنائی‘ اُدھر پاکستان کی طرف سے خیرسگالی کے اقدامات شروع کر دیئے گئے۔ گو کہ کھیل کھیل ہوتا ہے‘ ہار جیت اس کا لازمی جزو ہے مگر پاکستان بھارت میچز کو دونوں اطراف کے عوام زندگی و موت کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ ورلڈ کپ 2015ء میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت اتوار کو مدمقابل تھے‘ طرفین نے اپنی جیت اور حریف کو چاروں شانے چت کرنے کے بلند بانگ دعوے کئے‘ بھارت یہ میچ جیت گیا‘ اس پر پاکستانی شائقین دلبرداشتہ اور کئی ماتم کناں تھے۔ بھارت میں جیت کا جشن منایا گیا۔ میچ کا نتیجہ مختلف ہوتا تو پاکستان میں جشن اور بھارت میں سکوتِ مرگ طاری ہوتا۔ اگر بے صبری اور عدم برداشت کی بات کی جائے تو بھارتی حکمران اور عوام اس حوالے سے بہت آگے ہیں۔ ان کیلئے تو پاکستان کی کسی دوسرے ملک کیخلاف جیت بھی ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان کی جیت پر خوشی منانے والے کشمیریوں کو زندہ جلایا گیا اور کئی کو تعلیمی ادارے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اتوار کو آسٹریلیا میں پاکستان اور بھارت مدمقابل تھے۔ اس موقع پر پاکستان کی جیلوں میں موجود بھارتی قیدیوں کو میچ دکھانے کا خصوصی اہتمام کیا گیا اور عین میچ کے روز 172 ماہی گیروں کو بھارت کے حوالے کرنے کا اعلان کیا گیا۔ بھارت سے آنیوالے پاکستانی قیدی عموماً تشدد سے اپاہج اور خوراک و ادویات کی کمی کے باعث بیمار اور لاغر ہوتے ہیں۔ بھارت اگر مذاکرات کیلئے واقعی سنجیدہ ہے تو اسکی طرف سے بھی ایسے ہی اعتماد سازی اور خیرسگالی اقدامات کا مظاہرہ ہونا چاہیے۔ وہ کم از کم لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ تو روک دے اور پاکستانی قیدیوں کو بھی اسی طرح عزت کے ساتھ رہا کر دے جس طرح پاکستان نے کیا۔
سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ سرکریک اور سیاچن پر پہلے ہی پیشرفت ہو چکی ہے‘ اب سیکرٹری خارجہ سے مذاکرات میں پاکستان میں بھارتی مداخلت بھی ایجنڈا کا حصہ ہو گی۔ مشیر خارجہ اسکی بہتر وضاحت کر سکتے ہیں کہ وہ کونسی بھارتی مداخلت کی بات کر رہے ہیں۔ ایک مداخلت کی تو فوجی ترجمان جنرل عاصم سلیم باجوہ نے یہ بیان کی کہ بھارت فاٹا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اس سے اگلے روز وزیراعظم نوازشریف کہتے ہیں کہ بلوچستان میں غیرملکی مداخلت کے شواہد ملے ہیں۔ پہلے حکومت یہ تو طے کرلے کہ بھارت فوجی ترجمان کے بقول دہشت گردوں کی مدد کررہا ہے یا وزیراعظم کے مطابق انکی حکومت ابھی شواہد کے چنگل میں ہی پھنسی ہے اور اس ملکی طاقت کا نام لینے سے بھی گریز کیا جا رہا ہے۔ پھر دعویٰ ہے کہ پاک فوج اور حکومت ہر معاملے میں ایک پیج پر ہیں۔ مذاکرات جس سطح پر بھی ہوں‘ بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور کنٹرول لائن پر بھارتی اشتعال انگیزی کی بات ضرور ہونی چاہیے مگر اصل اور بنیادی ایشو کشمیر ہے جس کو کسی صورت نظرانداز نہ کیا جائے۔ دیگر تمام مسائل اور ایشوز مسئلہ کشمیر کے باعث ہی پیدا ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو بھارت اور پاکستان کے مابین موجودہ ہر تنازعہ خوش اسلوبی سے طے پا جائیگا۔