چڑیاں دی موت تے گنواراں دا ہاسہ!

17 فروری 2015

تاریخ کیا بدلنی تھی اُلٹی ایک نئی تاریخ بن گئی، شکست کے کلنک کی۔ٹیکا ڈبل ہیٹرک کیساتھ پوری قوم کے ماتھے پر سجا دیا گیا ہے لیکن اس سے کرکٹ بورڈ، جوا مافیا اسکاروبار سے وابستہ افراد کو ان سب سے کیا غرض ۔ میڈیا سے وابستہ ایک خاص کاروباری طبقے نے پوری قوم کو ہیجان کی سولی پہ لٹکایا ہوا تھا۔ صرف پاکستان کے بیس کروڑ عوام ہی پہ کیا موقوف خطے اور دنیا بھر کے اربوں لوگوں کو ایک خاص قسم ’’ہائیپ کریئیٹ‘‘ کرکے اربوں ڈالرز کا کاروبار کیا گیا۔ باوجود اسکے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور اسکی انتظامیہ کو یہ سب پتہ تھا کہ جس ’’ممولے‘‘ کو وہ شہباز سے لڑانے کیلئے بھیج رہے ہیں اس میں وہ سکت نہیں ہے لیکن پیسہ بنانے والی ان مشینوں کو بھلا عوامی جذبات سے کیا غرض۔ قارئین! شاید یہ ہمارے خطے کی روایت بن چکی ہے کہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے جھوٹ، فریب اور دغا بازی کو جمہوریت کا نام دے دیا گیا ہے جبکہ حصول اقتدار کیلئے ہر ناجائز راستہ اپنا نا ،مدِ مقابل کی عزتوں کو نیلام کرنا اور اپنوں کو ہی قتل کروا دینے اور پھر ان سب پہ مٹی ڈال دینے کا نام مفاہمت کی سیاست رکھ دیا گیا ہے۔ گذشتہ الیکشن 2013سے پہلے الیکشن مہم کے دوران مسلم لیگ ن کے قائدین بالخصوص میاں شہباز شریف کی طرف سے ببانگ دہل اس بات کا اعادہ کیا جاتا رہا کہ قومی خزانہ لوٹنے والے مجرموں اور انکے کرپٹ وزراء کو نہ صرف سزا دی جائیگی بلکہ ان کو سڑک پر گھسیٹا اور لکشمی چوک کے کھمبوں پر لٹکایا جائیگا اور پھر پاکستانی عوام کی ایک کثیر تعداد نے اس سلوگن پر یقین کر لیا مگر شومئی قسمت آج وہی عوام اپنے زخموں کو چاٹ رہے ہیں اور کل کا مجرم گردانے جانیوالا ٹولہ جس کو آج جیلوں اور پھانسی گھاٹ پر ہونا چاہیے تھا ،وہ آج حکمرانوں کا حلیف بن کر ملک کے تین صوبوں اور مرکز میں اقتدار کے مزے لوٹ رہا ہے اور مجھے قوی یقین ہے کہ جب یہ لوگ کسی محفل، تقریب یا میٹنگ میں بیٹھتے ہوں گے تو آپس میں عوام کو اس طرح بے وقوف بنانے پر قہقہے ضرور لگاتے ہونگے۔ میاں برادران نے گذشتہ الیکشن سے پہلے عوام سے تاریکیاں دور کرنے اور پہلے نوے دنوں کے دوران ملک میں بجلی کی پیداوار کو پوری کرنے کا وعدہ کیا تھا او رمشہورِ زمانہ راجہ رینٹل کیس کے متعلق کہا گیا کہ ہم اس قومی مجرم کو پھانسی پر لٹکائیں گے مگر آج اقتدار حاصل کرنے کے بیس ماہ بعد بڑے بھائی اور وزیراعظم نوازشریف فرماتے ہیں کہ چھوٹے میاں صاحب جوش خطابت میں عوام کے سامنے ایک انہونا وعدہ کر بیٹھے تھے مگر کیا اس بات کا جواب شریف برادران کے پاس ہے کہ جن کمپنیوں سے راجہ رینٹل نے غیر قانونی معاہدے کیے تھے انہی کمپنیوں اور ممالک سے موجودہ وزیر بجلی خواجہ آصف انہی معاہدوں کی تجدید کر رہے ہیں۔ برادر عمران خاں گذشتہ الیکشن کے دوران ایک عالمی سازش کو بے نقاب کرکے جوڈیشل کمیشن بنانا چاہتے ہیں مگر وہ سانحہ ماڈل ٹائون، سانحہ بلدیہ ٹائون اور سانحہ پشاور پر حکمرانوں کی بے حسی کو خاطرمیں ہی نہیں لا رہے ۔گذشتہ سات سالوں کے دوران پنجاب اور پورے پاکستان میں اسّی ہزار سویلین اور دس ہزار فوجی افسر اور جوانوں کو شہید کر دیا جاتا ہے مگر بے رحم قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کی بساط بچھائی جاتی ہے اور یہاں ہر سانحہ کے بعد ایک جوڈیشل کمیشن یا کمیٹی بنانے کی سفارش کر دی جاتی ہے۔ 1971ء میں ملک کا آدھا حصہ الگ ہوا تو اس پر بھی حمودالرحمن نامی جوڈیشل کمیشن بنا دیا گیا۔ قائد ملت لیاقت علی خاں، اوجڑی کیمپ،ایبٹ آباد میں اسامہ کی ہلاکت، تاشقند معاہدہ، جنرل ضیاء طیارہ حادثہ ، ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی شہادتوں پر بھی جوڈیشل کمیشن بنے مگر ان کی رپورٹس عوام کے سامنے لانے سے احترازکیوں کیا گیا؟ دراصل پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں پر پچھلی سات دہائیوں سے نسل در نسل وہ طبقات قابض ہیں کہ جو اپنے مفادات پر ذرہ سی آنچ آنے پر یک جان ہو جاتے ہیں۔ اس کا ایک نظارہ پاکستان کی بیس کروڑ عوام کو اس وقت ہوا جب گذشتہ سال دھرنوں اور شدید ملک گیر احتجاج کے بعد حکمران شدید سیاسی و عوامی دبائو میں تھے تو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں موجود یہ لوگ اپنے مفادات پر ضرب لگنے پر اکٹھے ہو گئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ایسے ہی موقع پر کہا تھا کہ جب تک پاکستان کا ہر فرد یہ تہیہ کرکے اپنے گھر سے نہ نکلے گا کہ یا تو یہ باطل نظام رہے گا یا پھر میں زندہ رہوں گا، آپ جتنی مرضی کوشش کرکے دیکھ لیں دنیا بھر کی تاریخ کے اوراق اکٹھے کر لیں آپ کو پتہ چلے گا کہ انقلابات ٹیلی ویژن چینلز کے آگے بیٹھ کر پریشان ہونے سے نہیں آتے بلکہ ہر فردِ ملت کو عملی قربانی دینا پڑتی ہے۔ قارئین گذشتہ دنوں سانحہ بلدیہ ٹائون کراچی کے واقعہ کی جوڈیشل وانکوائری رپورٹ بشکریہ رینجرز عوام کے سامنے آ گئی ہے۔ جس پر حکمرانوںاور اپوزیشن کو تو کوئی لفظ کہنے کی توفیق نہ ہوئی مگر عمران خاں اور مولانا سراج الحق نے دل کھول کر بھڑاس نکالی اور ان کا ہدف یقینا ایم کیو ایم اور اس کی قیادت تھی۔ تینوں اطراف سے ایک دوسرے پر اخلاق سے گرے اور بے ہودہ الزامات لگائے گئے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے تیسری عالم گیر جنگ کا آغاز انہی وجوہات کی بنا پر ہوگا۔ جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی قیادت نے اخلاقیات کی تمام حدود پھلانگ کر ایک دوسرے پر رکیک الزامات لگائے اور ثبوت پیش کرنے کے بھی اعلانات کیے، مگر پھر کیا ہواخود میں بیٹھا ایک نجی چینل پر ٹاک شو دیکھ رہا تھا کہ ایک دم سے ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین نمودار ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت دھرنے کی خواتین اور محترمہ شیریں مزاری سے ان کا نام لے کر معافی مانگی اور نفسیاتی حدود کو کراس کر چکی وہ ہائی ٹینشن پانی کی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ دوستوں نے مجھے اس سارے واقعے پر تبصرے کیلئے کہا تو میں فقط اتنا کہہ سکا:
’’چڑیاں دی موت تے گنواراں دا ہاسہ‘‘