کوئٹہ میں کالعدم تنظیم کے اہم کمانڈر کی ہلاکت

17 فروری 2015

کوئٹہ میں جھڑپ، کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر ساتھی سمیت ہلاک، ایک اہلکار شہید، ژوب میں پولیو ٹیم کی بازیابی کیلئے سرچ آپریشن کے دوران 2 اغوا کاروں نے خود کو اُڑا دیا، ایک اہلکار شہید، سریاب سے 2 دہشت گرد گرفتار!
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گزشتہ روز سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا اہم کمانڈر جو بلوچستان کا امیر بھی بتایا جا رہا ہے ساتھی سمیت فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا۔ اس جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوا۔ اس کالعدم تنظیم نے مبینہ طور پر صوبہ بلوچستان اور خاص طور پر کوئٹہ شہر میں ہزارہ برادری کیخلاف فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا تھا اب اسکے مقامی سربراہ کی ہلاکت جہاں سکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی ہے وہاں امید ہے کہ اب ایسی فرقہ وارانہ قتل و غارت کی وارداتوں میں کمی آئیگی۔ کوئٹہ کے حساس علاقے سریاب میں اس آپریشن کے نتیجہ میں جوابی ردعمل کے طور پر دہشت گرد کوئی بڑی کارروائی بھی کر سکتے ہیں جس کیلئے انتظامیہ کو پہلے سے مؤثر حفاظتی انتظامات کرنا ہونگے۔ دریں اثنا ژوب کے علاقے میں پولیو ٹیم کے مغوی ارکان کی بازیابی کیلئے جاری آپریشن میں بھی اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتا دیکھ کر 2 اغوا کاروں نے خود کو اڑا دیا جبکہ 2 دہشت گرد پکڑے گئے ہیں مگر ہنوز خصوصی ٹیم بازیاب نہیں ہو سکی تاہم انکے زیر استعمال ایمبولینس کے ملنے سے کیا جا سکتا ہے کہ مغوی افراد بھی اس علاقے میں ہی چھپائے گئے ہونگے۔ جیسے جیسے دہشت گردوں کیخلاف سکیورٹی فورسز کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے وہ افغانستان فرار ہونے کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کی وجہ سے اب ان کیلئے آسان راستہ بلوچستان ہی رہ جاتا ہے اس لئے انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کو اب افغانستان سے ملحقہ علاقوں کی بھی کڑی نگرانی کرنا ہو گی تاکہ دہشت گردوں کی آسان فرار کی راہیں بھی مسدود کی جا سکیں اور اسکے ساتھ ساتھ سندھ اور پنجاب کے ساتھ لگنے والے علاقوں میں گیس اور بجلی کی تنصیبات پر حملہ کرنیوالے دہشت گرد شرپسندوں کو بھی آہنی ہاتھوں سے کچلنا ہو گا۔