افغان حکومت اپنے شہریوں کی واپسی کے اقدامات کرے

17 فروری 2015
افغان حکومت اپنے شہریوں کی واپسی کے اقدامات کرے

پاکستان سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل دسمبر 2015ء تک مکمل نہیں ہو سکے گا کیونکہ کابل حکومت نے انکی باعزت واپسی کیلئے ابھی تک مطلوبہ اقدامات نہیں کئے نہ ہی انکی واپسی کیلئے سازگار ماحول بنایا جا سکا۔ 1.6ملین نان رجسٹرڈ مہاجرین بھی ہیں۔ دہشت گرد ان میں پناہ گاہ بنا سکتے ہیں۔
پاکستان دہشت گردی میں گھرا ہوا ہے جبکہ زیادہ تخریب کاروں کا تعلق بھی کالعدم مذہبی تنظیموں اور کالعدم تحریک طالبان سے ہے۔ پشاور سکول پر حملہ آوروں کا تعلق بھی انہی سے تھا۔ ان حالات کے پیش نظر حکومت پاکستان نے افغان مہاجرین کو دسمبر 2015ء تک واپس بھیجنے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن افغان حکومت نے مہاجرین کی واپسی کے ابھی تک اقدامات نہیں کئے۔ اسلام آباد نے 80ء کی دہائی کے شروع سے اب تک 40 لاکھ کے قریب افغانیوں کی مہمان نوازی کی ہے لیکن ان مہمانوں نے سہولت کاروں کا کردار ادا کرتے ہوئے ہماری سرزمین کو خون میں نہلایا ہے۔ اس وقت حکومت کے پاس 16 لاکھ رجسٹرڈ مہاجرین کی معلومات ہیں۔ یو این ایچ سی آر کی ایک رپورٹ کیمطابق 16لاکھ ہی غیر رجسٹرڈ افغانی بھی یہاں رہ رہے ہیں۔ انکی رہائش گاہیں بھی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بن سکتی ہیں۔ عالمی برادری افغانستان کی تعمیر نو کے اقدامات کر رہی ہے۔ وہ ان مہاجرین کی واپسی کا بھی بندوبست کرے۔ کابل حکومت اپنے شہریوں کو بسانے کے اقدامات کرے۔ پاکستان کے پاس تو اپنے شمالی وزیرستان کے 10 لاکھ آئی ڈی پیز ہیں ہمیں ان کی دیکھ بھال کرنے دیں۔ حکومت پنجاب نے بعض شہروں میں سرچ آپریشن کرکے مساجد اور مدارس میں مقیم غیر قانونی افغانیوں کو پکڑا ہے۔ وفاقی حکومت بھی اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل تشکیل دے۔ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ڈی پورٹ کرکے اپنے شہریوں کے تحفظ کو مثالی بنایا جائے۔ مدارس دینیہ کے چاروں وفاق اور مساجد کی کمیٹیوں کے سربراہوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو تحفظ فراہم نہ کریں۔ بعض افغانیوں نے تو یہاں کے شناختی کارڈ بنوا کر باقاعدہ جائیدادیں خرید لی ہیں۔ انکی بھی تحقیق کی جائے اور اس دھندے میں ملوث نادرا کے ملازمین کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔