آئین اور جمہوریت پرقومی اتفاق رائے!

17 فروری 2015
آئین اور جمہوریت پرقومی اتفاق رائے!

  14فروری 2015ء کوسی پی این اے نے اپنا اجلاس منعقدکیا جس میں وزیراعظم نواز شریف مہمان خصوصی تھے جبکہ سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے دانشور اور صحافی ہال میں موجودتھے۔ مجھے بطورکالم نویس پہلی مرتبہ اس محفل میں شریک ہونے کا موقع ملا جبکہ مجھے نوائے وقت میں باقاعدہ کالم لکھتے ہوئے تقریباً چار ماہ ہو گئے ہیں۔ میرے لئے اس محفل میں شرکت زندگی کا نیا تجربہ تھا۔ 1981ء میں پنجاب یونیورسٹی کی صدارت کا الیکشن لڑنے سے لیکر 2013ء میں پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑنے تک میں نے بھرپور عملی سیاست کی۔ اس دوران ہر جمہوری جدوجہدکا ہمیشہ حصہ رہا، جیل بھی گیا اور جلاوطنی بھی برداشت کی۔ سیاسی کارکن کی حیثیت سے 32 سال گزارنے کا تجربہ لیکرکالم لکھنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ بہرحال انسان زندگی کہاں سے شروع کرتا ہے اور کہاں جا کر اس کا وسطی سفر ہوتا ہے اور کس منزل پر سفر کا اختتام ہوتا ہے یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ ایک بات ضرور ہے کہ انسان کو اپنے ملک و قوم کیلئے Contribute کرنا چاہئے۔ مجیب الرحمن شامی کا خطبہ استقبالیہ شاندار تھا انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں وزیراعظم کا خیرمقدم کیا۔ حکومت کی کارکردگی کوسراہا، پرنٹ میڈیا کے مسائل سے آگاہ کیا اور سلگتے مسائل کی طرف توجہ بھی دلائی۔ کسی کو Offend کئے بغیر بات کرنے کا سلیقہ شامی صاحب سے سیکھنا چاہئے۔ ویسے تو معروف اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا بھی اس فن میں کوئی مقابلہ نہیں۔ شامی صاحب نے سی پی این ای کیلئے پلاٹ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر حکومت جگہ دیگی توسی پی این ای اس کو قبول کریگی۔ وزیراعظم کو خوب انجوائے کرنے کا موقع دیا۔ وزیراعظم نے صحافیوں کیلئے 5 کروڑ کی امدادکا اعلان کر کے کہا کہ سی پی این ای یہ فنڈز قبول کر کے حکومت پر احسان کریں۔اتنی بڑی تعداد میں صحافیوں کی وزیراعظم نواز شریف سے پہلی ملاقات تھی۔ وزیراعظم نے اس موقع کو غنیمت جان کر جنرل مشرف کے دور اور عمران خان کے دھرنے کے وقت میں میڈیا کے رویے پر بڑے اچھے انداز میں شکوہ کیا۔ جمہوریت اور آئین پر سٹینڈ لینے والوں کو سراہا بھی۔ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ جب بھی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹا گیا تو کوئی نہ کوئی سیاسی پارٹی اور صحافی ایسے موجود ہوتے ہیں جو ڈکٹیٹر کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ شاید وہ اسی انتظار میں ہوتے ہیں اور اسی مقصدکیلئے جمہوری حکومتوں کیخلاف سازشیں کر رہے ہوتے ہیں۔ جنرل مشرف کے رخصت ہونے کے بعد2008ء کی اسمبلی نے اپنی مدت پوری کی جبکہ 2013ء کی اسمبلی اپنا پہلا سال مکمل ہونے کے بعد دھرنا کا شکار ہوئی۔ سی پی این ای کے اجتماع میں وزیراعظم اور صحافیوں کا آئین اور جمہوریت پر کاربند رہنے پر اتفاق تھا۔ اس موقع پر سی پی این ای کے صدر نے درست کہاکہ ’’قومی سیاست اور صحافت کے بغیر جمہوریت کی گاڑی نہیں چل سکتی۔ پاکستان جمہوریت کے ذریعے وجود میں آیا اور صحتمند جمہوری عمل ہی اسکی ترقی اور خوشحالی ہی نہیں، اس کے وجودکی بھی ضمانت ہے۔ یہ بات طے ہو جانی چاہئے اور ہر شخص کو اسے اچھی طرح یاد کر لینا چاہئے کہ حکومت کو ووٹ ہی کے ذریعے بننا اور ووٹ ہی کے ذریعے رخصت ہونا ہے‘‘۔ جے آئی ٹی نے پہلی رپورٹ بلدیہ ٹائون پر دی تھی اور بعد ازاں 12 مئی کے واقعہ پر بھی رپورٹ آ گئی ہے۔ بدقسمتی سے دونوں سانحوں میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ جے آئی ٹی نے ایم کیو ایم کے کارکنوں پر ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ عمران خان نے بہت اچھا مؤقف لیا اور الطاف حسین کو معافی مانگنے پر مجبور کر دیا۔ ایم کیو ایم کے لیڈرز بھی بڑے عجیب لوگ ہیں۔ انکی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی۔ الطاف حسین نے عمران خان کو للکارا تو سارے لیڈر سڑکوں اورٹی وی چینل پرآ کر بُرا بھلا کہنے لگے۔ دوسرے دن الطاف حسین نے معافی مانگ لی تو سارے لیڈر خاموشی سے گھروں میں بیٹھ گئے۔ ایم کیو ایم کو قتل و غارت، بھتہ اور دوسرے الزامات سے نکلنا چاہئے۔ کراچی کو پھر سے روشنیوں کا شہر بنانا چاہئے اس لئے میں نے پہلے بھی کہا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ اصول ہونے چاہئیں۔ قتل و غارت بند ہونی چاہئے۔ بلدیہ ٹائون اور 12 مئی کے حادثوں میں ملوث لوگوں کو کسی طرح معاف نہیں کرنا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کو کراچی کی فکر ہے نہ سندھ کی، انہیں ہر حالت میں اقتدارکو قائم رکھنا ہے۔ افسوسناک پہلو دیکھیں کہ پوری قوم کیلئے Shocking خبر تھی کہ بھتہ نہ دینے کی وجہ سے 279 افرادکو جلا دیا گیا اور ایم کیو ایم اس کی ذمہ دار ہے۔ سچ یہ ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹائون پر وزیراعظم نواز شریف کا ردعمل کمزور تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری ایکشن لیا جائے۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ پرچی کے خاتمے کیلئے سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر فیصلے کئے جائیں۔ وزیراعظم صاحب صحافیوں سے تو مطالبہ کر رہے ہیںکہ وہ دو سال کیلئے ریٹنگ بھول کر قومی ایکشن پلان کیلئے حکومت کا ساتھ دیں لیکن حکومت کچھوے کی رفتارکو ختم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ اب اس کا اعتراف وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خاں نے بھی کر دیا ہے اور کہا ہے کہ انکی حکومت ڈیڑھ سال میں عوامی توقعات پر پوری نہیں اُتر سکی۔ پٹرول کی قیمت کم ہوئی لیکن اس کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکے۔ پٹرول کی لائنیں لگیں تو حکومت نے اسکے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کی تحقیق کئے بغیرپی ایس او بورڈ ختم کر دیا گیا ہے اور چیئرمین اوگرا کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کوکسی نے اس حقیقت سے آگاہ نہیں کیا کہ اوگرا کا پٹرول کی تقسیم یاسٹوریج کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ایسے تمام وفاقی وزیر جن کا پٹرول کے بحران سے تعلق بنتا تھا ان کو جبری چُھٹی پر بھیجا جاتا اور پھر بڑی سطح کی انکوائری کمیٹی بنائی جاتی جو کہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے پٹرول بحران کے اصل ذمہ داروں کا تعین کرتی۔صحافیوں پرذمہ داری ڈالنا یا کسی کو موردِ الزام ٹھہرانا بہت آسان کام ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معاملات کو صحیح رُخ پر چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بروقت فیصلے کرنا اور ان پر عملدرآمد کرنا بھی حکومت کا فرض ہے۔ محض اعلانات کا سلسلہ بندکرنا چاہئے ۔ بلاامتیاز اور بلاتفریق جرائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔