منگل ‘ 27؍ ربیع الثانی‘ 1436ھ‘ 17 ؍ فروری 2015ء

17 فروری 2015

قومی ٹیم میں سیاست، سلیکشن کی سمجھ نہیں آ رہی، شکست کی ذمہ دار مینجمنٹ ہے : سابق ٹیسٹ کرکٹرز!
ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں پاکستان کی بھارت کے ہاتھوں شکست پر پوری قوم افسردہ ہے اور اس افسردگی کے عالم میں اس شکست پر طرح طرح کے شکست خوردہ اور افسردہ تبصرے ہو رہے ہیں۔ ہماری ٹیم افغانستان سے ہارے یا آئرلینڈ سے کسی کو کوئی ٹینشن نہیں ہوتی مگر جب مقابلہ بھارت کے ساتھ ہو تو ہم اسے معرکہ حق و باطل بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ صرف کھیل ہے۔ کرکٹ ہو یا ہاکی، کبڈی ہو یا فٹ بال، ہمیں بس اگر جیتنا ہے تو صرف اور صرف بھارت سے، یہ ہم سب کی پہلی اور آخری خواہش ہوتی ہے۔
پوری قوم اس مسئلہ کو زندگی موت کا مسئلہ بنا دیتی ہے اگر کسی کو فکر نہیں ہے تو وہ ہے ہماری قومی کرکٹ یا ہاکی ٹیم کی مینجمنٹ۔ انہیں صرف اور صرف سیاست کرنا ہوتی ہے۔ کھلاڑیوں میں اختلافات پیدا کرنا، ان میں دھڑے بندی کو فروغ دینا اور انہیں معاوضے سے لے کر سنٹرل کنٹریکٹ تک ہر معاملے میں پریشان کرنا ہماری مینجمنٹ کا دل پسند مشغلہ ہے اور وہ من مرضی کے کھلاڑی بھرتی کرنے کیلئے اچھے سے اچھے ٹیلنٹ کو ضائع کرنے میں عار محسوس نہیں کرتی اور دوسری بات کھلاڑیوں کو کھیل کے اسرار و رموز سے آگاہ کرنا ٹیم کے کوچ کا کام ہوتا ہے اور یہ کام کرنے والا شاید ہماری ٹیم کو دستیاب ہی نہیں۔ عرصہ ہوا ٹیم کے کوچ کے نام سے شاید ہی کوئی واقف ہو۔ رہی بات پی سی بی کے سربراہ اور انکے ارد گرد جمع یارانِ خرابات کی تو …؎
کس نے توڑا دل تمہارا
یہ کہانی پھر سہی …
جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہو تو ٹیم سے گلہ کیا کرنا، ہاں اگر یہ بگڑی ہوئی ٹیم اتفاقاً بھی بھارت کو ہرا دیتی تو پھر یہی تنقید کرنے والے اسکی فتح پر یوں شادیانے بجاتے کہ گویا اس سے مکمل ٹیم کبھی وجود میں ہی نہ آئی ہو۔ اس لئے اب بہتر یہی ہے کہ جب ان کھلاڑیوں پر اعتماد کر ہی لیا ہے تو انہیں کھل کر کھیلنے دیں، فی الحال تنقید کے نشتر اور تیر چلا کر ان کے حوصلے پست نہ کریں۔ انہیں اعتماد سے نوازیں وہ بہتر رزلٹ بھی دے سکتے ہیں۔ آخر 92 ء میں بھی تو ہم بھارت سے ہارے تھے مگر ورلڈ کپ تو جیت لیا تھا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
تحریک انصاف کو مسلم لیگ (ن) سے زیادہ نااتفاقی سے خطرہ ہے : چودھری سرور!
اس بیان سے لگتا ہے تحریک انصاف کو ایک اچھا ناقد میسر آ گیا ہے جو اس کے اچھے بُرے پر نظر رکھنے کے علاوہ اس کی اصلاح کے اقدامات بھی تجویز کر سکتا ہے مگر یہ سب کچھ تب ہی مؤثر ہو سکتا ہے جب قائد تحریک عمران خان ان تجاویز پر عمل کرنے پر آمادہ بھی ہوں ورنہ پہلے بھی مشورہ دینے والے، اصلاح کرنیوالے کیا کم تھے جو کھڈے لائن لگائے جا چکے ہیں۔ یہ تو عمران خان کی شخصیت کا جادو ہے کہ لوگ انکی آواز پر کان دھرتے ہیں ورنہ ان کے ارد گرد جو نورتن آراستہ و پیراستہ ہیں وہ تو ہر ایک اپنی ذات میں انجمن بنا پھرتا ہے۔
سب اہل کمال و باہُنر اپنے اپنے اپنے فن میں کامل ہیں۔ عوام اور ان میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا چاند اور سورج میں ہے یا پھر آج کل بلاول اور آصف زرداری صاحب میں اور اسی نااتفاقی کا اشارہ چودھری سرور نے دے کر اصل حقیقت بیان کر دی ہے کہ تحریک انصاف اب مسلم لیگ (ن) کی بجائے اپنے اندر پائی جانے والی نااتفاقی پر توجہ دیگی کیونکہ وہاں سب رہنما بھی ہیں، قائد بھی اور مخدوم بھی۔ اگر کوئی نہیں ہے تو وہ سچا سیاسی کارکن یعنی جاوید ہاشمی جیسا کوئی اور نہیں ہے جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت عمران کو ہو سکتی ہے۔ مگر چلیں شکر ہے چودھری سرور جیسا مخلص پاکستانی اب تحریک انصاف میں آ گیا ہے جو ہماری دعا ہے اس جماعت کو حقیقی عوامی جماعت بنا دے اور امرا کے، اشرافیہ کے طبقات میں خاموش حیرانی کے عالم میں پھنسے کارکنوں کو عمران کے نئے پاکستان میں ان کاجائز حق دے جو ہماری اکثر سیاسی جماعتوں نے غصب کر رکھا ہے۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
جنرل راحیل نے مسئلہ کشمیر بہترین انداز میں اجاگر کیا ہے : پرویز الٰہی!
چودھری پرویز الٰہی سنجیدہ سیاستدان ہیں مسکراتے ہوئے بھی انکے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آتی، چاہے من ہی من میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے ہوں کیا مجال ہے کہ انکے چہرے پر اندازہ بھی ہو کہ چودھری صاحب بہت خوش ہیں۔
اب انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جنرل راحیل کی جی کھول کر تعریف کی ہے تو ہمیں بے ساختہ سابق چیف آف آرمی جنرل مشرف یاد گئے ہیں۔ کسی زمانے میں پرویز الٰہی اور انکے حواری اسی طرح جنرل مشرف کی بھی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے اور یہ جنرل مشرف ہی تھے جو مسئلہ کشمیر پر کھل کر اپنے مؤقف کا اظہار بھی کرتے تھے اور اس مسئلہ کے حل یا یوں کہہ لیں اس مسئلہ کو ختم کرنے کیلئے انہوں نے کئی حل بھی تجویز کر رکھے تھے جنہیں ’’بے وقوف‘‘ لوگ تقسیم کشمیر کا نام دے کر آج تک اسکی مخالفت کر کے اپنی سیاسی بلوغت کا ثبوت دینے کی کوشش کرتے پھرتے ہیں۔
اب چودھری صاحب نے جنرل راحیل کی تعریف کر کے کہیں ان کو بھی جنرل مشرف بننے کے خواب دکھانے کی کوشش تو شروع نہیں کر دی کہ جیسے پہلے ہمارے سیاستدان فوجی جرنیلوں کو محمد بن قاسم یا جنرل طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر قرار دے کر ان کو فتح اسلام آباد کی پر راغب کرتے تھے اور بعد میں انکی زیر قیادت آرام سے حکومت کے مزے لوٹتے پھرتے تھے۔ ایسا ہی کچھ مشرف کے ساتھ بھی ہوا تھا اور آج کل وہ انہی سیاستدانوں کا بویا کاٹ رہے ہیں اور انکے ہر غلط کام کا الزام سہہ رہے ہیں۔ اب خدا جنرل راحیل کو ایسے سیاستدانوں سے محفوظ رکھے جو مسئلہ کشمیر کے بعد ملک و قوم کے تمام مسائل کا حل انہی میں تلاش کرتے ہوئے انہیں ملک و قوم کی قیادت سنبھالنے کا مشورہ بھی دیتے نظر آئینگے کیونکہ ہمارے ہاں ایسے چودھریوں اور شیخوں کی کمی نہیں۔