دل کے افسانے آنکھوں سے زباں تک پہنچے

17 فروری 2015

کافی اچھا لگا کہ چودھری نثار نے پہلی مرتبہ سچ بولا اور کھلے دل سے غلطیوںکا اعتراف کیا۔ یہ ایک مثبت سوچ کی علامت ہوتی ہے۔ جب آدمی اپنے ضمیر کی بند کھڑکیاں کھول دیتا ہے یا اپنی غلطی یا گناہ کا اقرار کرکے ضمیر کے بوجھ سے باہر نکل آتا ہے ورنہ ہمارے حکمرانوں کا تو یہ مزاج رہا ہے بقول ڈاکٹر حسن رضوی مرحوم کہ …؎
نہ وہ انکار کرتا ہے نہ وہ اقرار کرتا ہے
میرا وہ دوست جو چھپ چھپ کے اکثر وار کرتا ہے
اپوزیشن ہماری سگی اور حکومت ہماری سوتیلی نہیں ہے کہ ہم حکومت کی مخالفت کریں۔ یہ پہلا موقع ہے جب حکومت کی طرف سے اپنی کوتاہی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ چودھری نثار نے راولپنڈی میں خطاب کے دوران مانا کہ حکومت محض دعوئوں تک محدود ہے اور عوامی توقعات پوری کرنے سے قاصر رہی ہے۔ چودھری نثار نے دل کو چُھو لینے والی جو بات کہی‘ وہ یہ ہے کہ ’’حکومت کو دیوانگی سے کام کرنا چاہئے تھا کیونکہ پہاڑ جیسے مسائل درپیش ہیں مگر ایسا نہیں ہوا۔‘‘ اگر حکومت کو اس بات کا ادراک ہوتا کہ پاکستان اس وقت مسائل کی دلدل اور امریکہ کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے جس کیلئے دن رات محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ خدا جب اختیار‘ اقتدار‘ عہدہ اور مرتبہ دیتا ہے تو خدا کی اس عنایت اور مہربانی کا ناجائز فائدہ اٹھانا یا اس میں غفلت برتنا دونوں ہی گناہ ہیں۔ اگر خدا نے میاں نوازشریف کو اٹھارہ کروڑ انسانوں میں سے چُن کر پاکستان کا وزیراعظم بنایا ہے تو نوازشریف کو وزارت عظمیٰ کو انجوائے کرنے کے بجائے اس عظیم منصب سے انصاف کرنا چاہئے۔ وہ تیسری بار وزیراعظم بنے ہیں۔ جو مزہ پہلی بار وزیراعظم بننے میں ہے وہ دوسری یا تیسری بار بننے میں نہیں ہے اس لئے نوازشریف کیلئے وزارت عظمیٰ کوئی مستی یا نشہ نہیں کہ شیروانی پہننی ہے یا کوٹ واسکٹ پہننی ہے یا ٹائی‘ لال پہننی ہے یا نیلی… کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نوازشریف اگر ظاہری باتوں کو چھوڑ کر دن رات عوامی بہبود کے کاموں اور اپنے منصب جلیلہ سے انصاف کریں تو تحریک انصاف سے بھی سب لوگ (ن) لیگ کی طرف آجائینگے۔ اس ملک کے لوگوں کو کیا چاہئے۔ وہ انصاف‘ حق‘ روزگار اور امن ہی تو مانگتے ہیں۔ یہ کوئی انہونی چیزیں تو نہیں ہیں کہ نہ دی جا سکیں۔ نوازشریف سے میں اور میرے جیسے لوگ اس لئے بھی مایوس ہیں کہ ہم نوازشریف کو زرداری‘ فضل الرحمن‘ مشرف‘ عمران سے اچھا سمجھتے رہے۔ میاں نوازشریف کو خوشامدیوں‘ چاپلوسوں اور ابن الوقتوں کے ٹولے سے باہر نکل کر حقائق دیکھنے چاہئیں۔ اگر وہ پانچ سال پورے کرنا چاہتے ہیں تو انہیں محض بیانات‘ تقاریر اور خوش کن نعروں اور وعدوں سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں واپس آنا چاہئے۔ ایک بہت خوبصورت مقولہ ہے ’’وقت موقع دیتا ہے کہ زندگی بدل دی جائے مگر زندگی کبھی دوبارہ موقع نہیں دیتی کہ وقت کو بدلا جا سکے۔‘‘ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب وزیرداخلہ چودھری نثار نے دبنگ اندز میں یہ کہا کہ امریکہ یا بھارت کے کہنے پر کسی پر پابندی نہیں لگائیں گے۔ اس بیان کا فی الفور اثر ہوا۔ امریکہ بھی ہل گیا اور بھارت بھی ڈر گیا۔ فوراً ہی امریکہ سے صدر باراک اوباما کا خیرسگالی فون آ گیا اور اس کا رویہ بدل گیا اور یہ بھی کہہ ڈالا کہ جی پاکستان اہم اتحادی ہے۔ اسی دن نریندر مودی نے بھارت سے محبت آمیز انداز میں فون کر ڈالا۔ وہی نریندر مودی جو سلام دعا کا بھی روادار نہ تھا‘ جو ہاتھ ملانے سے بھی گریزاں تھا‘ یکایک دوستانہ اور محبت آمیز رویہ اختیار کر لیا۔ فوراً سیکرٹری خارجہ کے دورے کا اعلان بھی کر ڈالا اور خوشگوار تعلقات کا عندیہ بھی دیدیا۔ تیسرے ہی دن چین سے وزیرخارجہ نے آکر وزیراعظم سے ملاقات کی اور توانائی بحران میں پاکستان کی مدد کا وعدہ کیا۔ گویا وزیر داخلہ کے ایک بہادرانہ بیان سے صورتحال بدل گئی۔ یہ بات میاں نوازشریف کو سمجھنی چاہئے کہ عزت‘ غیرت‘ بہادری اور سچائی وہ جوہر ہیں جس سے انسان ناقابل شکست ہو جاتا ہے۔ کردار میں عظمت ہمیشہ سچائی‘ بہادری اور مجبوری سے آتی ہے۔ میاں نوازشریف کو بہادرانہ کردار ادا کرنا چاہئے تب اصل مقبولیت حاصل ہوگی اور وہ لوگوں کے دلوں پر راج کرینگے۔ سب سے پہلے تو وہ دوست اور دشمن کو پہچاننا سیکھیں اور معاصر حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولنا سیکھیں۔ آئی ایم ایف کی گود سے نکل کر اپنے قدموں پر چلنا سیکھیں اور دولت ذخیرہ کرنے کی عادت سے نجات حاصل کرنا سیکھیں تب وہ چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم بن سکیں گے اور لوگ انہیں خود وزارت عظمیٰ کی مسند پر بٹھائینگے۔ دہشتگردی سے نمٹنا ہے تو وزیراعظم کو شفاف‘ دبنگ اور طاقتور کردار ادا کرنا ہوگا۔ میرا آپ سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سارا اختلاف آپکے طریق کار کا ہے۔ آپ میں جس دن قوت مشاہدہ اور قوت فیصلہ پیدا ہو گئی‘ اس دن آپ (ن) لیگ کے نہیں پوری قوم کے قائد بن جائینگے۔ عمران خان‘ (ق) لیگ‘ ایم کیو ایم‘ زرداری آپ کو کسی کی طرف دیکھنے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ صرف اپنے کام پر توجہ دیں۔ پورا پاکستان آپکے ساتھ کھڑا ہوگا‘ لیکن خدا کیلئے کبھی تو بات مانئے۔ حال ہی میں میاں نوازشریف نے صحافیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھرنوں میں میڈیا کا کردار اچھا نہیں رہا اور یہ کہ میڈیا ضابطۂ اخلاق بنائے۔ کیا کبھی آپ نے غور فرمایا کہ جتنے فنڈز‘ پلاٹ‘ کیش‘ عہدے‘ مراعات اور عنایات حکومت کی طرف سے صرف ان صحافیوں کو دیئے جاتے ہیں جو حق میں کالم لکھتے ہیں‘ یہ تمام فنڈز‘ مراعات اور عہدے کبھی کسی ایسے صحافی کو نہیں ملتے جو ناقص کارکردگی اور قومی حالات کی بہتری پر بات کرتے ہیں۔ آپ کو بھی چاپلوس‘ خوشامدی صحافیوں کو نوازنا اور سچے کھرے صحافیوں کو نظرانداز کرنا بند کرنا چاہئے کیونکہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔