تب وتابِ جا ودانہ

17 فروری 2015

وہ اہل خیبر میں سے ایک شخص کا گمنام غلام تھا،اس نے دیکھا کہ خیبر کے یہودیوںنے جنگ کی تیاری شروع کردی ہے،وجہ پوچھی تو انھوںنے بتایا کہ ہم ایک ایسے شخص سے جنگ آزما ء ہونے لگے ہیں جو خود کو نبی خیال کرتے ہیں،اس سیاہ فام غلام نے یہ سنا تووہ اپنا ریوڑ چرانے کے لیے باہر لے آیا اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا ،اس نے آپ سے پوچھاکہ آپ کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟آپ نے ارشادفرمایا : میں تمہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوںاورکہتا ہوں کہ تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سواء کوئی اورمعبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوںاورتم اللہ کے سواء کسی اورکی عبادت نہ کرنا ، اس غلام نے پوچھا :اگر میں یہ دعوت قبول کرلوں تو مجھے کیا ملے گا ؟آپ نے فرمایا:اگر تم ایمان لے آئو تو تمہیں جنت ملے گی۔وہ غلام مسلمان ہوگیا اورعرض کی : اے اللہ کے پیارے رسول میں ایسا شخص ہوں جس کی رنگت کالی ہے ،جس کا چہرہ بدصورت ہے،جس سے بدبو اُٹھ رہی ہے ،میرے پاس کوئی مال بھی نہیں ہے اگر میں ان یہودیوں کے ساتھ جنگ کروں اورقتل کردیا جائوں تو کیا جنت میں داخل ہوجائوں گا؟حضور نے فرمایا: بے شک !اس نے پھر عرض کی، اے اللہ کے پیارے رسول ،یہ بکریاں میرے پاس اُن کے مالکوں کی امانت ہیں ، میں ان کا کیاکروں؟آپ نے فرمایا: ان کو لشکر سے نکال کر لے جائو اورانھیں کنکریاں مار کر ان کے مالک کی طرف ہنکاردو ،اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے امانت کو ادا فرمادے گا،اس نے ایسا ہی کیا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی دیانت داری کے بارے میں سن کر بڑے متعجب ہوئے ،وہ بکریاں اکٹھی ہوکر بڑی تیزی سے اپنے مالکوں کی طرف چل پڑیں ،یوںمحسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی چرواہا انھیں ہانک کرلے جارہا ہے ،سو! ہر بکری اپنے مالک کے پاس پہنچ گئی ،پھر وہ غلام میدان جنگ کی طرف متوجہ ہوا اوردشمنوںسے نبردآزماء ہوگیا ، جنگ کے دوران ایک تیر سنسناتا ہوا آیا اوروہ اسکے زد میں آکر شہید ہوگیا،اسلام قبول کرنے کے بعد اسے ایک سجدہ کی مہلت بھی نہیں ملی تھی ، صحابہ کرام اسے اٹھا کر اپنے لشکر کی طرف لے آئے ، حضورعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے فرمایا:اسے میرے خیمے میں لے جائو، جب آپ فارغ ہوئے تو خیمے میں اسکے پاس تشریف لے گئے اورارشادفرمایا: اے حبشی غلام ،اللہ تعالیٰ نے تیرے چہرے کو خوبصورت بنادیا ہے ،تیری بدبو کو خوشبو سے بدل دیا ہے اورتیرے مال کو بہت بڑھا دیا ہے،آپ نے فرمایا: میںنے دوحوروں کو دیکھا کہ اس کے چہرے پر لگی گردوغبار کو جھاڑ رہی ہیں اورکہہ رہی ہیں ، اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو خاک آلود کرے جس نے تیرے چہرے کو غبار آلود کیا ہے اوراس شخص کو ہلاک کرے جس نے تجھے شہید کیا ہے ۔(بیہقی،ابن کثیر)