بھارت امریکہ گٹھ جوڑکے محرکات

17 فروری 2015

جنوبی ایشیاء کے خطے کے جغرافیائی و سیاسی خدوخال متعین کرنیوالے محرکات کی ایک پہچان ہے جو مودی کے نظریہ ’’ایکٹ ایشیائ‘‘ اور اوبامہ کے ’’ ایشیائی مرکزیت‘‘ کے خیال سے عبارت ہے۔در اصل دوونوں نظریات کا ماخذ نائن الیون کے بعد اختیار کی جانیوالی ناکام پالیسی ہے ۔2005 ء میں مرتب کی جانیوالی بھارت ۔امریکہ سٹریٹیجک پارٹنرشپ کا مقصد افغانستان سے بنگلہ دیش تک کے علاقے میںبھارت کی بالادستی قائم کرناتھا۔ افغانستان کو جنوبی ایشیاء کا حصہ قرار دینے کے پیچھے بھی یہی حکمت کارفرما تھی ۔ بھارت نے اس سوچ سے فائدہ اٹھایا اوراتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان کی سرزمین سے تمام ہمسایہ ممالک‘ خصوصاً پاکستان کیخلاف جاسوسی کے مراکز تعمیر کئے اور دہشتگردی کی لعنت تھوپ دی۔ 2005 ء میں ہی سول نیوکلیر معاہدے پر مفاہمت ہوئی جسکے حصول کیلئے بھارت نے ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت میں ووٹ دیاتھا اور امریکہ اور اسکے اتحادیوں کیساتھ مل کر خطے میں بڑھتے ہوئے اسلامی انتہا پسندی کے خطرات کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کاحوصلہ پیدا کیالیکن افسوس کہ امریکہ اور اسکے اتحادی اس مقصد میںبری طرح ناکام و نامرادہوئے۔
حالیہ دنوں میںمودی نے امریکہ کے ساتھ تذویراتی طور پر ہم رکاب ہوکر خطے کے جغرافیائی و سیاسی حالات کو نئی جہت دی ہے ۔’’غیر جانبدار ملک کی حیثیت سے بھارت اپنے نظریے سے منحرف ہوکر ایک جانبدارانہ تشخص اختیار کرچکا ہے اور خلیج عدن سے لے کرآبنائے ملاکا تک پھیلے ہوئے طویل المدتی عسکری تعلقات میں بندھ چکا ہے۔یہ معاہدہ دس سالوں تک قابل عمل ہوگا۔ اسکے علاوہ دفاعی و تکنیکی و تجارتی معاہدے پر بھی دستخط ہوئے ہیں جس کی رو سے بھارت ہوائی جہاز بردار بحری جہاز بنانے کے قابل ہو سکے گا۔‘‘ بھارت‘ امریکہ اور جاپان کی سرکردگی میں تشکیل پانے والے ایشیاء پیسیفک اکنامک کوآپریشن فورم میںبھی شامل ہو چکاہے ‘ جس سے وہ چین کے نیو سلک روڈ پارٹنرشپ منصوبے کا توڑ کرنے کاعملی طور پر پابندہے۔اسکے علاوہ بھارت‘ چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کو کم کرنے کا پابند ہے اس لئے کہ چین نے اپنے بنائے ہوئے یورو ایشین زمینی رابطے اور مختلف ممالک کی بندگاہوں کی سہولت حاصل کرلینے کے بعد بہت ہی اہم مفادات حاصل کر لئے ہیں جو مشرق وسطی سے چین تک پھیلے ہوئے ہیں۔ چین کا یہ بڑھتا ہوا اثرورسوخ امریکہ‘بھارت اور انکے اتحادیوں کو قطعأ ناقابل قبول ہے۔
مودی کا اہم ہدف ’’اقتصادی ترقی کے ثمرات جلد از جلدغریب عوام تک پہنچاناہے‘ مروجہ عالمی اقتصادی نظام کی طرح اوپر سے نیچے کی طرف ترقی کے ثمرات کو لوگوں تک پہنچانا مودی کا مقصد نہیں ہے بلکہ نیچے سے اوپر کی طرف ترقی کے ثمرات کو غریب طبقے تک پہنچانا مقصود ہے جس کیلئے ملک کے اندر تیار کی ہوئی مصنوعات پر انحصار ضروری ہوگا۔اوبامہ کا مقصد بھی بھارت کو ترقی دیکر ایشیا میں اہم طاقت بنانا ہے‘ کیونکہ بھارت کی طاقت کو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے امریکہ اہم سمجھتا ہے۔‘‘ اس مقصد کے حصول کیلئے امریکی ٹیکنالوجی کی فراہمی بہت مفید ثابت ہوگی اور یہ بات مودی بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں۔لہذابھارت اور امریکہ نے باہمی تجارت کو ایک سو ملین امریکی ڈالر سے بڑھا کر پانچ سو ملین امریکی ڈالر سالانہ تک کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جو کہ چین کے ساتھ تجارت کے برابر ہے اسکے علاوہ اوبامہ کی بھارت یاترا کا ایک اوراہم مقصد وہ فارمولا تلاش کرنا تھا جس کے ذریعے بھارت کے ایٹمی قوانین میں 2005 ء سے موجود خامیاں نظر انداز کی جا سکیں اور بھارت کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی جا سکے۔ یہ معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔
تذویراتی لحاظ سے امریکہ کے ہم رکاب ہونے کے باوجود’’بھارت کی جانبدارانہ پالیسی اس کے حق میں مفید اورقابل عمل ہوگی‘ اوربھارت ‘ چین اورروس کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات قائم کر سکے گا جس کے سبب واشنگٹن کی اختیار کردہ حکمت عملی متاثر ہوگی اور امریکہ پر دبائو بڑھے گا کہ وہ کثیر المرکزی عالمی نظام کو قبول کر لے کہ جس کے تحت امریکہ نے بھارت کی جغرافیائی و سیاسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے اوراس کی ترقی کی رفتاردیکھتے ہوئے ‘اسے مستقبل کے عالمی نظام کے لئے انتہائی اہم سمجھا ہے۔‘‘اسکے برعکس 1950 کی دہائی میں ‘ جوسردجنگ کا دورتھا ‘ پاکستان‘ امریکی اتحادی بننے پر مجبور ہوا لیکن اپنی کمزور پالیسیوں کے سبب اسے بہت تلخ تجربات سے گزرنا پڑا کہ کس طرح اس کے طاقتور شراکت دار نے اپنی ضرورت کے وقت پاکستان کواستعمال کیا اور جب ضرورت نہ رہی تو آنکھیں پھیر لیں۔اسکی بدترین مثال 2001 ء میں قائم کی گئی جب پاکستان سے کہا گیا کہ ’’یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا پھر ہمارے خلاف‘‘ جس سے گھبرا کر پاکستان نے برادر اسلامی ملک افغانستان کے خلاف امریکہ کی جنگ میں شامل ہونے کا غیر اخلاقی و غیر منطقی فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑاہے اور ابھی تک اٹھائے جا رہا ہے۔
حالیہ دور میں ابھرنے والے حالات پاکستان کیلئے خاصے پریشان کن ہیں خصوصاً جبکہ اندرون ملک دہشتگردی اورسیاسی انتشار پھیلا ہوا ہے اور ہماری شمال مغربی سرحدوں پر جنگ کی کیفیت ہے لیکن اس الجھے ہوئے منظر نامے میں بھی امید افزا اشارے ہیں جن کا تقاضا ہے کہ ہم نہایت تدبر اور فہم و فراست سے فیصلے کریں اوران مواقع سے بھرپور طور پر مستفید ہوں۔ ’’منطقی طور پر یہ بات درست ہے کہ بھارت اور امریکہ کی سٹریٹیجک پارٹنر شپ کا واضح ہدف چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنا ہے۔یہ بات چین کیلئے پریشان کن ضرور ہے لیکن اسکے رد عمل میں چین‘ پاکستان اور روس کے مابین عسکری و اقتصادی تعلقات میں مفاہمت کی فضا ہموا ر ہو رہی ہے جس سے پاکستان کی سلامتی کی نئی راہیں کھلیں گی۔‘‘ افغان صدر اشرف غنی نے بیجنگ میں منعقد ہونیوالی The Heart of Asia  کانفرنس میںاعلان کیا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ منفرد انداز سے کیا جائیگا جس کیلئے انہوں نے اپنے چھ قریبی ہمسایہ ممالک ‘ پاکستان‘ ایران‘ چین‘ روس اور وسطی ایشیائی ممالک سے بہت ہی قریبی روابط قائم کئے ہیں اوربھارت اور امریکہ کو الگ رکھا ہے جن کی سازشوں کے سبب 1990ء کے بعدافغانستان میں خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوئی تھی‘ لہذا افغان قوم اب تہیہ کرچکی ہے کہ وہ کسی دھوکے میں نہیں آئینگے اورپرامن انتقال اقتدار کے تمام معاملات کافیصلہ خود کرینگے۔ پاکستان کیلئے اب باہمی احترام اور مفادات پر مبنی پاک امریکہ تعلقات کی نئی بنیادیں استوار کرنے کایہ نادر موقع ہے‘ لہٰذا ’’یہ امر ذہن میں رکھنا لازم ہے کہ امریکہ صرف ایک عام ملک نہیں بلکہ وہ ایک سپر پاور ہے جس نے دنیا کو ایک خطرناک سرزمین بنا دیا ہے۔ حالیہ عرصے میں جہاں کہیں بھی امریکہ نے مداخلت کی‘ وہاں بربادی ہی چھوڑی ہے‘ اور وہ بھی ایسی کہ کسی آمر نے بھی نہ کی ہو‘ افغانستان‘ عراق‘ لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔‘‘ لہٰذا یہ بات سمجھنا ہمارے لئے اہم ہے کہ ا ب ہم کتنی جلدی امریکہ کی مضبوط گرفت سے نکل کر دوستانہ اور پراعتماد تعلقات قائم کرسکیں تاکہ آزادفضا میں آزادی سے سانس لینا ممکن ہو۔