پاک بھارت معرکہ،ابھی ورلڈ کپ اوپن ہے

17 فروری 2015

ورلڈ کپ 2015ء کا رنگا رنگ افتتاح 14فروری کو بیک وقت نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں ہوا۔گزشتہ ورلڈ کپ کے میزبان بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش تھے۔ پاکستان سیکورٹی وجوہات پر میزبانی سے محروم رہا تھا۔پاکستان کو کھیلوں کے حوالے سے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کارستانی ہمارے ہمسائے بھارت نے کی۔سری لنکا کی ٹیم پر لاہور میں حملہ ہواکچھ کھلاڑی زخمی ہوئے ،متعدد پاکستانی جاں بحق ہوگئے۔اس کے بعد کسی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا رُخ نہ کیا۔یہ صورت حال یوں کی توں ہے۔ پاکستان دوسرے ممالک میںکھیلنے کیلئے جاتا ہے،دوسرے ممالک کی ٹیموں کی میزبانی پاکستان کوتیسرے ملک عرب امارات میں کرنی پڑتی ہے۔یہ ایک مسلسل خسارے کا سودا ہے جس پر بھارت کی پاکستان کونقصان سے دوچار کرنے کی پالیسیوں کی وجہ سے مجبور ہونا پڑا۔ورلڈ کپ 2015ء کے آغاز پرنریندرمودی نے ورلڈ کپ میں حصہ لینے والے ممالک کے سربراہان سے رابطہ کیا اور ان سے ورلڈ کپ میں کامیابی کے حوالے سے نیک تمنائوں کا اظہار کیا۔میاں نوازشریف کو بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ٹیلیفون کیا ان سے بھی پاکستا نی ٹیم کیلئے نیک خواہشا ت کا اظہار کیا۔ نریندر مودی نے کہا کہ کرکٹ ورلڈ کپ تمام ممالک کے مابین رابطوں کو فعال بنانے اور ممالک کو ایک دوسرے کیساتھ منسلک کرنے کا باعث بھی بنتا ہے۔دونوں وزراء اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں پاک بھارت میچ کا انتظار ہے۔ٹیلیفونک رابطے کے دوران پرانی یادیں بھی تازہ کی گئیں۔ وزیراعظم نے نریندر مودی کو کرکٹ ورلڈ کپ 1987ء کا ایک قصہ سنایا، مودی نے نوازشریف سے کہا کہ 1987 میں آپ نے ایک میچ کھیلا تھا، عمران خان بھی اس ٹیم میں موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاش وہ دن واپس آجائیں۔ نواز شریف 1987ء میں وزیراعلیٰ پنجاب تھے، انہوں نے ورلڈکپ سے پہلے نمائشی میچ کھیلا تھا، اس نمائشی میچ کے کپتان عمران خان تھے۔ مودی نے ایک نمائشی میچ کھیلنے پر نواز شریف کی نجانے تعریف کی تھی یا عمران خان کی کپتانی میں کھیلنے پر طنز کیا تھا۔ نریندر مودی کا پاکستا نی ٹیم کیلئے نیک خواہشا ت کا اظہار، بغل میں چھری منہ میں رام رام کی ایک عمدہ مثال ہے۔بہرحال وہ میچ ہوا جس کا پاک بھارت وزراء اعظم اور دونوں ممالک کے عوام کو شدت سے انتظارتھا،اس میں بھارت فاتح رہا۔پاکستان کی جیلوں میں موجودبھارتی قیدیوں کو ٹی وی پر میچ دیکھنے کی سہولت فراہم کی گئی اور گزشتہ روز 172ماہی گیر رہا کردیئے گئے۔کیا بھارت سے ایسے رویے کی توقع کی جاسکتی ہے؟ پاکستان اور بھارت کے میچ دیگر ممالک کی طرح نہیں ہوتے۔آسٹریلیا اور انگلینڈکرکٹ میں ایک دوسرے کے دشمنی کی حد تک حریف جانے جاتے ہیں۔ انکے مابین ایشز سیریزمعرکہ آرائی سے کم نہیں ہوتی۔پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے حقیقی دشمن ہیں۔عوام کی سطح پر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ کرکٹ ایک کھیل ہے، جس میں ہار جیت ایک معمول ہے۔ مگر پاکستان اور بھارت کے لوگوں کو اپنی ٹیم کی ہار ہضم نہیں ہوتی۔میچ جیتنے پر جشن رات تک جاری رہتا ہے۔ ہارنے پر کھلاڑیوں کے پتلے جلتے اور لوگ یہ کہتے دل کا ابال نکالتے ہیں ’’کھلاڑی بِک گئے‘‘۔ 2015ء ورلڈ کپ کا پہلا میچ بھارت سے میچ جیتنا بہت ضروری تھا۔بھارت متکبر تھا کہ 92کے بعد اس نے پاکستان کو ہر ورلڈ کپ میں شکست دی اب بھی ایسا ہی کرینگے۔پاکستانی اپنی ٹیم سے توقع کرتے تھے کہ وہ بھارت کا غرور خاک میں ملا دے گی مگر ہماری ٹیم عوام کی توقعات پر پوری نہ اتر سکی۔بھارت کو یہ تو یاد ہے کہ بانوے کے بعد پاکستان اس سے ورلڈ کپ کا کوئی میچ نہیں جیت سکا یہ یاد نہیں کہ اب تک کھیلے گئے ون ڈیز میں پاکستان نے بھارت کو 72میچوں میں شکست دی جبکہ بھارت صرف 50جیت سکا ہے۔
ہر میچ کی اپنی اہمیت ہوتی ہے،ورلڈ کپ کا پہلا میچ وہ بھی اپنے دشمن کے ساتھ ،اس میں جیت کیلئے تو جان لڑا دی جاتی ہے۔ پاکستانی ٹیم نے شاید ایسا کیا بھی ہو مگر اس روز شائد قسمت کی دیوی پاکستان کے حریف پر مہربان تھی۔بھارتی ٹیم نے بھی کچھ کم غلطیاں نہیں لیکن اسکی غلطیاں جیت میں چھپ گئیں، ہماری ٹیم کی غلطیاں ہار کی صورت میں نمایاں ہوگئیں۔کرکٹ کے ماہرین اور حقیقی تجزیہ نگار یونس خان کی ٹیم میں شرکت اور ان کو اوپنر بھجوانے پر تنقید کررہے ہیں۔ہر تجزیہ کار نے مصباح کے اوپر کے نمبروں پر بیٹنگ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ٹیم کی فیلڈنگ متاثر کن نہیں رہی اور ڈسپلن کا بھی فقدان نظر آیا۔ شاہد آفریدی سینیئر کھلاڑی ہیں وہ جونیئر کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر کلبوں میں گھومتے رہے اور ایک مرتبہ پھر بیٹنگ میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئوٹ ہوئے جبکہ انہیں حالات کی نزاکت کا احساس ہونا چاہیے تھا۔ مصباح الحق بطور بیٹسمین جتنا اچھا کھیلے اتنی ہی انہوں نے بری کپتانی کی۔ ا ن کا اپنی ٹیم پر کنٹرول نظر نہیں آیا ۔کوئی ٹیم بغیر سپیشلسٹ وکٹ کیپر کے بغیر ادھوری ہوتی ہے ۔ آپ نے سرفراز کو باہر رکھا اورعمر اکمل سے کیپنگ کرائی جو سپیشلسٹ کیپر کا متبادل ثابت نہ ہوسکے ۔ان سے کیچ چھوٹے اور بھارت نے پہاڑ جیسا سکور کھڑا کردیا۔ جن کھلاڑیوں کو ٹارزن سمجھ کر خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا ان کو موقع ہی نہیں دیا گیا۔ٹیم مینجمنٹ اور ٹیم کی بہت سی غلطیوں کی نشاندہی ہوگئی۔اگلے میچوں میں ان کا اعادہ نہیں ہونا چاہیئے۔قوم کی دعائیں یقینا اپنی ٹیم کے ساتھ ہیں مگر وہ اسی وقت کام آئیں گی جب ٹیم بھی بہت کچھ کرگزرنے کا عزم لیکر میدان میں اترے گی۔ یہ تجربات کا وقت نہیں ہے۔جو بہترین 11 کھلاڑی ہیں ان کو پہلے میچ سے آخری میچ تک برقرار رکھیں، تبدیلی کسی انجری کی صورت میں کی جائے،تجربات کیلئے نہیں۔بے خوف ہوکر کھلاڑی کھیلیں گے تو ان کی کارکردگی یقینا خوف کے سائے میں کھیلنے سے بہتر ہوگی۔اگر کچھ سیکھنا ہے تو آئر لینڈ سے سیکھیں جس نے ویسٹ انڈیز کے پہاڑ جیسے سکور 305کا کامیابی سے تعاقب کر کے ویسٹ انڈیز کو ہرا دیا۔ ابھی ورلڈ کپ اوپن ہے اور پاکستان کے جیتنے چانسز موجودہیں۔ ہوسکتا ہے کہ فائنل بھارت سے ہو اور پاکستانی ٹیم کو حساب برابر کرنے کاموقع مل جائے۔