تدریس عربی کیلئے سعودی و پاکستانی عمدہ کوششیں

17 فروری 2015
تدریس عربی کیلئے سعودی و پاکستانی عمدہ کوششیں

گزشتہ کالم ہم نے لازمی تدریس عربی کی ضرورت بیان کرنے کیلئے وقف کیا تھا۔ 2014 میں بھی ہم نے شریف برادران سے پنجاب اور مرکز میں تدریس عربی کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کیا تھا۔ گزشتہ منگل کو جو کالم ہم نے لکھا اس پر بہت عمدہ پیشرفت ہوئی ہے۔ سعودی سفارت خانے میں اس تجویز پر فوراً غور ہوا قائم مقام سفیر محترم جاسم الخالدی نے تمام شعبہ جات کے سربراہوں کو ساتھ لیکر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر ڈاکٹر معصوم زئی اور صدر ڈاکٹر احمد الدریوش اور ا نکے رفقاء سے عربی زبان کی تدریس، تعلیم اور فروغ کیلئے مذاکرات کیے۔ سعودی حکومت کی طرف سے شاہ فیصل مسجد اور اسلامی یونیورسٹی کے ساتھ مالی تعاون ہی کی طرح تدریس عربی منصوبے میں سعودی حکومت کا تعاون پیش کرنے کی نوید سُنائی۔ اس اجتماع میں تجویز ہوا کہ جامعہ ریاض کے غیر عرب کو عربی سیکھانے کے منصوبے کی پاکستان میں توسیع لائی جائیگی۔ اس پیش رفت میں محترم جاسم الخالدی کے ساتھ محترم بدر العتیبی، الشیخ ابو سعد محمد الدوسری، ثقافتی مرکز کے ڈاکٹر ھزہ الغامدی ، رابطہ عالم اسلامی کے ڈاکٹر عبدہ المتین نے شرکت کی۔ ہم اپنی تجویز کو اتنی عمدہ پذیرائی ملنے پر سعودی علماء و الشیوخ اور سفارت خانے کے شکر گزار ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں 10 فروری کو محترمہ نعیمہ کشور خان رکن اسمبلی نے اسمبلی میں تدریس عربی زبان کا بل پیش کیا۔ رکن اسمبلی مولانا امیر زمان نے تدریس عربی زبا ن کیلئے آئین میں موجود حکومتی ذمہ داری کا ذکر کر کے محترمہ نعیمہ کشور کے بل کی تائید کی اور صاحبزادہ طارق اللہ نے بھی حمایت کی۔ وزیر مملکت آفتاب شیخ نے اس بل کی مخالفت نہ کی اور یوں یہ بل سپیکر کی طرف سے قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ البتہ محترمہ عذرہ افضل نے یاد دلایا کہ تعلیم اب صوبائی معاملہ ہے اور جو بل قومی اسمبلی پاس کرے گی وہ صرف اسلام آباد میں نافذ ہو گا۔ ہم ریکارڈ کی درستگی کیلئے کہنے پر مجبور ہیں کہ صدر زرداری کی اتحادی حکومت مرکز اور چاروں صوبوں میں لازمی تدریس عربی کا قدم اٹھانا چاہتی تھی مگر یہ صرف حکومت پنجاب تھی جس کے تعلیم سے متعلقہ ارباب اختیار نے مخالفت کر دی تھی اور یوں پی پی پی اور ق لیگ کی اتحادی حکومت تدریس عربی کا پروگرام شروع نہ کر سکی تھی۔ ہمیں حیرت ہوئی تھی کہ عربی زبان میں عربوں کے سامنے تقریریں کرنے والے محترم شہباز شریف کی حکومت نے منفی کردار پیش کیا تھا۔ ہمیں یہ آگاہی پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ عربی کے سربراہ سے ملی تھی جن سے جناب شہباز شریف عربی تقریر کیلئے علمی مدد لیتے تھے۔ ممکن ہے ایجوکیشن ٹاسک فورس کے روشن خیال فیصلہ سازوں نے محترم شہباز شریف کو بتائے بغیر یہ منفی قدم اٹھا لیا ہو گا۔ اب محترم شہباز شریف کو پنجاب اسمبلی سے فوراً بل منظور کرانا چاہئے اور تدریس عربی کیلئے حکومتی ذمہ داری ادا کر دینی چاہئے۔ چند دن پہلے دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے دینی مدارس اور دہشت گردی کے موضوع پر کالم لکھا اور سعودی عرب کے حوالے سے بتایا کہ جب پاکستان ائر فورس کو ایف سولہ طیاروں کی خریداری کرنا تھی تو اس کی تمام ادائیگی سعودی عرب نے کی تھی۔ دفاع پاکستان میں اتنا عمدہ کردار رکھنے والے دوست ملک کے اوپر الزامات لگانے سے پہلے ہمیں سوچ لینا چاہئے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ ہم ڈاکٹر عائشہ کے اس اظہار حقیقت لکھنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ جمعرات کی شام (12 فروری) اسلام آباد ہوٹل میں ڈاکٹر احمد الدریوش کو تمغہ امتیاز دیے جانے پر ایک عمدہ تقریب کا اہتمام حافظ مقصود احمد نے اپنے اہلحدیث علماء کے ساتھ کیا جس میں پنجاب، خیبر پی کے اور آزاد کشمیر کے تمام مسالک کے علماء کو بھی مدعو کیا گیا تاکہ ڈاکٹر احمدالدریوش کی فکری اور علمی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔ مہمان خصوصی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، سابق وزیر مذہبی امور اعجازالحق، ڈاکٹر معصوم زئی ریکٹر اسلامی یونیورسٹی ، ڈاکٹر طاہر منصوری اور یونیورسٹی کے استاتذہ کرام کے ساتھ ساتھ سعودی سفارت خانے کے امور دینیہ کے سربراہ جناب بدر العتیبی ، مکتب الدعوہ کے الشیخ الدوسری ، رابطہ کے ڈاکٹر عبدہ المتین اور مولانا عبدالعزیز حنیف بھی موجود تھے۔ علماء کی اتنی کثیر تعداد بہت کم دیکھنے میں آئی جو اس تقریب میں موجود تھی۔ حافظ مقصود احمد نے عربی زبان میـں، ڈاکٹر معصوم زئی نے اردو زبان میں اور ڈاکٹر الدریوش نے عربی زبان میں بہت عمدہ باتیں کیں۔ سردار یوسف نے حکومت کی طرف سے پرائمری سے انٹرمیڈیٹ تک لازمی تدریس عربی کیلئے قانون سازی کر نے کا اعلان کیا اور قرآن کمپلیکس بنانے کی نوید سنائی۔ ڈاکٹر معصوم زئی نے بتایا صدر پاکستان ممنون حسین یونیورسٹی چانسلر ہیں شریک چانسلر سعودی پروفیسر سلمان ابا الخیر ہیں اور صدر بھی سعودی مفکر و مجتحد ڈاکٹر احمد الدریوش ہیں۔ سعودی حکومت کی اس بے پناہ علمی محبت پر اہل پاکستان شکریہ پیش کرتے ہیں۔ ڈاکٹر الدریوش نے حکومت پاکستان کی طرف سے انکی علمی اور فکری کاوشوں پر تمغہ امتیاز کو حقیقت میں سعودی حکومت اور اسلامی یونیورسٹی کے تمام اہل علم اور اساتذہ کرام کیلئے اعتراف خدمت کا نام دیا۔ انہوں نے بتایا کہ تدریس عربی پروگرام کا فوری طور پر آغاز کیا جا رہا ہے اور پچاس طلبہ کی کلاس شروع ہو رہی ہے۔ جامعہ ریاض کے غیر عرب کیلئے تدریس عربی پروگرام میں پاکستانی اساتذہ اور طلبہ کو مزید تربیت دلوائی جائے گی اور اس پروگرام کو آہستہ آہستہ توسیع دی جاتی رہے گی۔ انہوں نے کراچی میں یونیورسٹی کیمپس کے قیام کی نوید سنائی اور لاہور میں بھی یونیورسٹی کو مسلمان دنیا کیلئے علمی فکری اور قانونی عظیم درس گاہ بنانے کے عمل کا اظہار کیا۔ وزیر مذہبی امور نے انہیں تحائف پیش کیے۔ ریکٹر معصوم زئی نے بتایا اس وقت یونیورسٹی میں پندرہ ہزار طالبات اور پندرہ ہزار طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حافظ ڈاکٹر محمد انور نے ہمیں ڈاکٹر احمد الدریوش کی ہر موضوع پر لکھی ہوئی کتب دکھائیں۔ یہ تقریباً پچاس کتب ہیں۔ ہم حافظ محمد انور کے مشکور ہیں کہ انکے ذریعے ڈاکٹر احمدکی علمی حیثیت ہم پر آشکار ہوئی۔ حافظ مقصود احمد کا شکریہ کہ انہو ں نے وزیر مذہبی امور کو مدعو کیا اور یوں انکے ذریعے حکومت کا لازمی تدریس عربی کا عزم ظاہر ہوا ہے۔ ہم متحدہ عرب امارات، الکویت، بحرین، قطر کی حکومتوں سے بھی استدعا کرتے ہیں کہ وہ حکومت پاکستان کیساتھ تدریس عربی پروگرام میں مالی تعاون کرے۔