کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا!

17 فروری 2015
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا!

قومی اسمبلی کا اجلاس تھا، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا چہرہ امید و بیم سے تمتما رہا تھا۔ جذبات کا ایک مدو جزر تھا جس نے سینے کی دھونکنی سے نکلتی ہوئی ہر سانس کو طوفان آشنا کر دیا تھا۔ ہر کسی کو گمان تھا کہ کوئی خاص اعلان ہونیوالا ہے۔ وہ ہے کیا؟ کوئی نہیں جانتا تھا۔ بالآخر وزیراعظم اپوزیشن پر ایک طنز آمیز نگاہ ڈالتے ہوئے گویا ہوئے ’’اس صدی کی سب سے بڑی خوشخبری، اس مفلوک الحال قوم کیلئے نوید مسرت، تیل نکل آیا ہے۔ قلیل مقدار میں نہیں بلکہ سعودی عرب کی طرح دریائے سیال سونا! خوشحالی ملک میں مستقل ڈیرے ڈالے گی۔ کاروان بہار خیمہ زن ہو گا، غربت قصہ پارینہ بن جائیگی، ہر گھر میں من و سلویٰ اُتریگا، روٹی، کپڑے اور مکان کا وعدہ پورا ہو گا۔ انہوں نے ایک فاتحانہ نگاہ حاضرین پر ڈالی اور کرسی کے نیچے پڑی ہوئی تیل کی بوتل مفتی محمود کو تھما دی۔ بولے! مولانا سونگھ کر بتائیں کہ یہ تیل ہی ہے ’’ کوئی ا ور چیز تو نہیں؟‘‘ محفل کشت زعفران بن گئی۔ جب مفتی مرحوم نے تصدیقاً سر ہلایا تو بھٹو صاحب نے جنرل الیکشن کا اعلان کر دیا۔ انکے خیال میں عوام کے جذبات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ پیپلز پارٹی کی کامیابی یقینی تھی۔ الیکشن کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ دھاندلی کیخلاف جو صدائے احتجاج اُٹھی اُسکی بازگشت آج بھی سُنائی دیتی ہے۔فریب وعدہ فردا کا جو بیج اس وقت بویا گیا تھا وہ اب پل کر تن آوردرخت بن چکا ہے۔ تیل تو کیا نکلنا تھا غربت کے کولہو میں پسے ہوئے لوگوں کا تیل نکلتا رہا۔
یہ بھولا بسرا واقعہ آج ہمیں اسلئے یاد آیا ہے کہ میاں نواز شریف نے چنیوٹ رجوعہ جا کر پوری قوم کو مژدہ جانفرا سنایا ہے کہ سرسبز زمینوں کے نیچے سونے، تانبے اور کوئلے کے بہت بڑے ذخائر نکل آئے ہیں اور یہ ان نیکیوں کا ثمر ہے جو حکومت سے مسلسل سرزد ہوتی رہی ہیں۔ اب عُسرت اور تنگدستی کے دن ’’تھوڑے‘‘ رہ گئے ہیں۔ میاں صاحب حاکم وقت ہیں اس لئے شاہوں کی باتوں کا اعتبار تو کرنا ہی پڑتا ہے‘ البتہ ان سے چند باتیں بصد ادب پوچھی جا سکتی ہیں اور اس لفظی رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ تلخ حقائق گوش گزار بھی کئے جا سکتے ہیں۔
چنیوٹ کے ذخائر تو ہنوز زیر زمین ہیں۔ یہ کس قدر ہیں کوالٹی کیسی ہے۔ نکالنے میں لاگت کتنی آئیگی۔ کب تک عوام ان سے مستفیض ہونگے۔ دو سال، دس برس یا سو سال؟ سوال یہ ہے کہ وطن عزیز میں جو Proven Reserves ہیں ان کا کیا بنا ہے؟ ریکوڈک میں سونے کی کانیں، بلوچستان میں تانبے کے پہاڑ، تھر میں کوئلے کے وسیع ذخائر، ان تمام پراجیکٹس پر کافی تحقیق ہو چکی ہے۔ حکومت ان سے عوام کو رائی بھر فائدہ نہیں پہنچا سکی تو رجوعہ میں کون سی جادو کی چھڑی ہلانے سے ہُن برسنے لگے گا۔High thinking and low living کی اس سے بہتر مثال نہیں دی جا سکتی۔ جب بھی (ن) لیگ کی حکومت آتی ہے لوگوں کو سبز باغ دکھانے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا دیا جائے گا۔ گوادر کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر بلٹ ٹرینیں چلیں گی۔ موٹر ویز کا جال بچھایا جائیگا۔ بجلی سے سارے ملک کو بُقعہ نور بنایا جائیگا۔ کسی گھر کا چولہا گیس کی بندش کی وجہ سے ٹھنڈا نہیں ہو گا۔ پہلی ٹرم میں زرمبادلہ کے ذخائر نصف بلین ڈالر رہ گئے۔ جناب ڈار نے لوگوں کے فارن کرنسی اکائونٹس منجمد کر دئیے پھر بھی ملک defaultکی حدوں کو چھونے لگا۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ معیشت ایٹمی دھماکے کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہوئی ہے۔ یہ مدقوق منطق تھی۔ کیا راتوں رات زرمبادلہ کے ذخائر سکڑ اور سمٹ گئے تھے؟ اگلی دفعہ غلام اسحاق کیساتھ چپقلش کو جواز بنایا گیا۔ حکومت کی writ اسلام آباد تک محدود ہو گئی۔ اسکے تعینات کردہ چیف سیکرٹری پرویز مسعود کو نصف شب کے وقت ضمانت قبل از گرفتاری کروانا پڑی۔ اس دفعہ عمران اور قادری کے دھرنوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ کہا گیا کہ انکی وجہ سے چینی صدر کا دورہ منسوخ ہوا اور اس طرح تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری رک گئی۔ اب تو دھرنے ختم ہو گئے ہیں۔ اب کون سا امر مانع ہے چند دن قبل قوم کو بتایا گیا کہ یوم پاکستان کے موقع پر چینی صدر آئینگے۔ ابامہ کی دہلی یاترا کے بعد یہ ڈپلومیسی کے نہلے پر دہلا ہو گا۔ اب کہا گیا ہے کہ وہ کسی ’’مناسب موقع‘‘ پر آئینگے۔ پتہ نہیں کہ وہ تیس ارب ڈالر کے MOU کدھر گئے ہیں۔ سرمایہ کاری کے ثمرات عوام تک کیوں نہیں پہنچ پائے؟ حکومت نے اپنے پہلے دو سال میں کیا کارکردگی دکھائی ہے؟ سرکلر قرضے کی مد میں پانچ سو ارب روپے بانٹنے کے بعد بھی قرضہ نہیں اترا۔ پیداوار آدھی ہو گئی قیمت دگنی کر دی گئی ہے۔ ایک بات کی سمجھ نہیں آتی یہ بات عوام کے سمجھنے کی بھی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کی نااہل حکومت نے 500 ارب روپے مقروض ہونے کے باوصف بجلی کے نرخ نہیں بڑھائے تو اب ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ اگر اس وقت گیس کی اس قدر شدید کمی نہیں تھی تو اب یہ جنس نایاب کیوں ہو گئی ہے؟ ویسے تو اس حکومت کا ہر وزیر ارسطو ہے۔ ایسے دلائل دیتے ہیں کہ بغیر قائل کئے کسی کو محفل سے جانے نہیں دیتے لیکن دو ایسے ہیں جن کی باتیں سن کر آدمی عش عش کر اٹھتا ہے۔ وزیر خزانہ جناب ڈار صاحب اور ہردلعزیز پرویز رشید۔ تیل کی قیمتیں تمام دنیا میں نصف ہو گئی ہیں۔ حکومت نے اس تناسب سے عوام کو ریلیف نہیں دیا۔ پرویز رشید نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا، پاکستان میں اب بھی قیمتیں امریکہ، برطانیہ اور فرانس وغیرہ سے کم ہیں۔ اگر وہ یہ بھی بتا دیتے کہ امریکہ میں مزدور کی تنخواہ 2000 ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں 100ڈالر ہے تو لوگوں کو سمجھنے میں آسانی رہتی۔ ڈار صاحب آئے دن ٹیکسوں کی بھرمار کرتے رہتے ہیں۔ ایک ہاتھ سے جو دیتے ہیں دوسرے سے دوگنا وصول کر لیتے ہیں اسکی وجہ؟ ڈار صاحب لوگوں کو ’’اپنے آدمی‘‘ سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اپنے بندے احتجاج نہیں کرتے۔ بلوچستان کے ACکہدا جان محمد نے ایک ملزم کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ ملزم نے اپیل کرنے کیلئے فیصلے کی نقل مانگی تو موصوف بڑے جزبز ہوئے۔ بولے بڑا افسوس ہے اپنے آدمی ہو کر ہمارے حکم کے خلاف اپیل کرتے ہو! میں نے تو پہلے ہی تمہارے ساتھ بڑی رعایت کی ہے۔ ڈار ملکی معیشت کا کہدا جان محمد ہے۔
چنیوٹ میں جس شخص نے بریفنگ دی اس کا نام ثمرمبارک مند ہے۔ یہ ایٹمی سائنسدان آجکل امرت دھارا بنا ہوا ہے۔ کوئلے سے پچاس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ملک میں سونے کے محل بنانے کا دعویدار ہے۔ ابھی تک کچھ کر نہیں پایا۔ دراصل حکومتیں اسے ڈاکٹر قدیر خا ن کا توڑ سمجھتی ہیں اس لئے موقع بے موقع بیان دلواتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نیوکلیئر فزکنس میں یقیناً یکتا ہونگے۔ ہرفن مولا نہیں ہو سکتے۔ مولانا ابوالکلام آزاد ایک جید عالم دین تھے۔ جب سیاست میں ٹامک ٹوئیاں مارنی شروع کیں تو قائداعظم نے انہیں Show boy of Congressکہا تھا۔ سمجھ نہیں آتی کہ ڈاکٹر صاحب کو کون سا لقب دیا جائے۔حکومت کو علم ہونا چاہئے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ اصل سونا یہ دھاتیں نہیں بلکہ پانی ہے۔ پانی جو بتدریج نایاب ہو رہا ہے۔ یہ لہلہاتے ہوئے کھیت، چہچہاتے ہوئے طیور اور سرسراتے ہوئے پھلوں کے پیڑ اسکی عظمت کے امین ہیں۔ جب تک پانی کو Harnes نہیں کیا جاتا خوشحالی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ اس کیلئے ڈیم بنانے ضروری ہیں۔ بغیر کالاباغ ڈیم کے زرعی اور انرجی کی ضروریات کبھی پوری نہیں ہو سکتیں۔ بیس کروڑ عوام کے مستقبل کو اس لئے گروی نہیں رکھا جا سکتا کہ کچھ مفاد پرست اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگلی جنگیں پانی پر ہوں گی۔ ہندوستان مسلسل پانی روک رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہند و پاک ٹکرائو کی بجائے خدانخواستہ پاکستان اندرونی خلفشار کا شکار ہو جائے! یہ بات سمجھنے کی ہے اور لمحہ فکریہ بھی!