آئی ایم ایف کی جی حضوری

17 فروری 2015

ہمارے حکمران شاباش کے لائق ہیں جو آئی ایم ایف کے امتحان میں اے پلس گریڈ میں پاس ہوئے ہیں۔ بغیر چوائس کے آئی ایم ایف کی جملہ شرائط پر من و عن عمل کیا ہے۔ بجٹ میں ریونیو کا ہدف اوپر سے نیچے لایا گیا ہے جبکہ مالیاتی خسارہ ہدف جوںکا توں رکھا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے کاغذوں میں ریونیو ٹارگٹ میں 65 ارب روپے جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے مطابق 119 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف کو بتایا گیا تھا کہ 2014-15 میں آمدنی کا ہدف 2756 ارب روپے ہے جبکہ حکومت کا اعلان ہے کہ وہ 2810 ارب روپے جمع کریگی۔ آئی ایم ایف پروگرام کے چھٹے ریویو کے بعد 30 جون تک آمدنی کا ہدف 2691 ارب روپے طے ہوا ہے۔ بدلے ہوئے حالات میں حکومت کی توجہ کا مرکز نیشنل ایکشن پلان اور آئی ڈی پیز کی بحالی ہے۔ بجٹ میں ان دو اہم کاموں کیلئے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی تھی جو اب ہر قیمت پرکرنا پڑ رہی ہے۔ جیسے 16دسمبر 2014ء سے پہلے حکمران خود بھی نہیں جانتے تھے کہ آئین میں 21 ویں ترمیم لانا پڑیگی اور فوجی عدالتیں قائم ہوں گی پھر پھانسیوں کا عمل شروع ہو گا ۔ جنوری کے اوائل میں توقع تھی کہ اسلام آباد میں تیسری ڈونرز کانفرنس سے 38 کروڑ ڈالر مل جائینگے لیکن امریکہ کے 25 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کے وعدہ سے پھرنے کے بعد مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح آئی ڈی پیز کی بحالی کا بوجھ بھی حکومت کو ہی اٹھانا پڑیگا، اس کیلئے وہ اپنا پیٹ کاٹے یا کشکول اٹھائے۔ شریف حکومت نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ 2018ء تک بجلی کے بحران سے نجات پانے کی خوش خبری پر کسی کو یقین نہیں آتا ایسی جھوٹی خوش خبری پہلی بار دینے کا اعزاز راجہ پرویز اشرف کو حاصل ہے۔ نندی پور پراجیکٹ 87 ارب روپے کے اخراجات کے باوجود ایک میگاواٹ بجلی پیدا نہیں کر سکا۔ گڈانی پراجیکٹ ٹھپ ہو چکا ہے۔ پٹرول بحران کی انکوائری کرنیوالے ہی خود ہوں گے تو نتیجہ تو صفر ہی نکلے گا۔ گردشی قرضہ اکانومی کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ حکومت کے نزدیک یہ 254 ارب کی بات ہے۔ پاور سیکٹر کے 500 ارب تو بجلی کے صارفین کے ذمے واجب الادا ہیں۔ اسحاق ڈالر اعلان کر چکے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان اور آئی ڈی پیز کی بحالی نے اخراجات کی نئی پائپ لائن کھول دی ہے جس سے مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 4.9 فیصد کے ہدف سے تجاوز کر گیا ہے۔ حکومت کے پاس کیا راستہ ہے؟ مالیاتی خسارہ حد سے باہر نہ نکلنے کا ایک آسان راستہ تو یہ ہے کہ انٹرنیشنل لیول پر اپنے آقائوں کی قدم بوسی کی جائے ،دوسرا قرضوں پر قرضے لینے کا گھسا پٹا نسخہ اپنایا جائے خواہ ملکی کمرشل بنک نڈھال ہو جائیں، 55 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط تو مل جائیگی۔ زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر سے زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان اور آئی ڈی پیز کیلئے بیرون ملک رکھوائے گئے 200 ارب ڈالر واپس لانے کیلئے بھی فوجی عدالتوں جیسا تگڑا قدم اٹھانا پڑے گا۔ ملک میں ایسے تگڑے بھتہ خور بھی تو موجود ہیں جو 20 کروڑ نہ ملنے پر 257 لوگوں کو آگ کی نذر کر دینے سے نہیں ہچکچائے۔ ایسے بدبختوں کے پاس کتنے ارب ہونگے۔آئی ایم ایف ٹیم مطمئن ہو جائے تو حکومت مبارکباد کی خواہاں دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ عوام مطمئن ہوں تو حکومت مبارکباد کی مستحق ٹھہرتی ہے۔ اکنامک اعداد و شمار سے بڑا جھوٹ کا پلندہ اور کوئی نہیں۔ آئی ایم ایف بھی جھوٹا اور اس سے ہینڈ شیک کرنے والے بھی سچے نہیں۔ آئی ایم ایف تو خود ہمارے قرضوں کی توثیق کرتا ہے کہ ہم قرضے لینے میں حق بجانب ہیں اس لئے کہ وہ خود دنیا کا سب سے بڑا ساہوکار ہے۔ آئی ایم ایف کے نزدیک ہماری ویلیو اتنی گر چکی ہے کہ اب وہ خود اسلام آباد آنے کی بجائے ہمیں دوبئی بلاتے ہیں۔ جیسے ہماری اوباما سے دوستی کا یہ عالم ہے کہ اوباما پاس سے گزر کر بھی ہمارے ہاں نہ آئے۔ مقروض اور قرض خواہ کبھی برابری کی سطح پر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے ۔مالک مکان اور کرایہ دار، آجر اور اجیر کبھی برابر ہوئے ہیں؟ گروتھ ریٹ، افراط زر کی شرح کچھ مقرر کر لیں، صارفین کو کیا فرق پڑتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی سے حکومتی آمدنی میں 68 ارب کی کمی نظر آئی تو اسحاق ڈار نے تیل پر سیلز ٹیکس 17 فیصد سے بڑھا کر 27 فیصد کر دیا۔
66 سال ٹیکس ریفارمز کا سنتے گزر گئے۔ پورا کھرا سچ یہ ہے کہ شاید ہی کوئی پاکستانی ایسا ہو جو پورا ٹیکس ادا کرتا ہو۔ کون ہے جو الف سے یے تک اپنے اثاثے حکومت پر ظاہر کرے۔ آمدنی اور اثاثے تو لوگ اپنے رشتہ داروں پر بھی ظاہر نہیں کرتے۔ ٹیکسوں کے حوالے سے سب سے طاقتور طبقہ تاجر ہیں۔ ن لیگ کی حکومت کے بہی خواہ یہی تاجر ہیں۔ ہر دور حکومت میں ایمنسٹی سکیمیں بھی انہی تاجروں کیلئے بنائی گئیں۔ نیشنل ٹیکس نمبر رکھنے کے باوجود بڑے بڑے لوگ بھی ٹیکس کے گوشوارے داخل نہیں کرتے۔ خود ایف بی آر نے اپنے ہی اہداف کو کبھی پورا نہیں کیا۔ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر میں اہداف کچھ اور ہوتے ہیں لیکن مالی سال آدھا بھی نہیں گزرتا کہ اہداف پر نظر ثانی شروع ہو جاتی ہے۔ ٹیکس ڈائریکٹریاں چھپتی ہیں مگر کس کام کی؟ ٹیکس کلچر کیلئے کئی بار پیکیج لائے گئے۔ کلچر پولیس کا ہو یا ٹیکس کا اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا۔عام شہری کے یوٹیلٹی بل میں تو 5 روپے کی بھی رعایت نہیں ہوتی۔ دو تہائی درآمدات ڈیوٹی فری ایس آر اوز کی مرہون منت ہیں۔ 17 سے 22 فیصد تک سیلز ٹیکس پاکستان کا بچہ بچہ ادا کر رہا ہے۔ کیا نومولود بچے کے دودھ اور پیمپرزپر سیلز ٹیکس نہیں ہے؟ بسکٹ، آئس کریم، چپس کھانے سے پہلے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں؟