خدا اور وجود زن

17 فروری 2015

پاکستان میں عورتوں کا قومی دن منایا گیا۔ لیکن شاید ہی عورتوں کی اکثریت اس سے واقف ہو کہ انہیں بھی معاشرے میں ایک حقیقی وقار عطا کرنے کیلئے اقدامات کا آغاز ہو چکا ہے۔سنا ہے کہ کسی ماں نے اپنے پولیس آمیز بیٹے کو شدت جذبات سے فون کیا کہ وہ کار سرکار انجام دینے کے بعد اپنے کمرے میں جانے سے پہلے انہیں ضرور مل لے چاہیے رات کے کسی پہر ہی گھر پہنچے۔ ضروری بات کرنی ہے اور ساتھ ہی تلقین کی کہ جو وہ کرنے جا رہا ہے اس سے رک جائے۔ تجسس کے باوجود ماں نے بیٹے سے باالمشافہ بات کرنے کو ترجیح دی۔ فجر کی اذا ن سے تھوڑا قبل بیٹا گھر پہنچا تو دیکھا ماں لونج میں بیٹھی ہوئی آنکھوں میں نیند لئے انتظار کر رہی ہے۔ بیٹے نے باضابطہ سیلوٹ کے بعد انتظار کی وجہ پوچھی جس پر ماں نے بیٹے کی تحویل میں دو سگے بھائیوں کے بارے میں دریافت کیا ۔ بیٹے نے گزارش کی کہ وہ ڈکیت ہیں اور ڈکیتی کی وارداتوں کے دوران قتل اور عورتوں کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ماں خاموشی اختیار کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ اگلی شام ماں نے اپنے بیٹے کو جلد گھر آنے کی تلقین کی۔ بیٹا تعمیل حکم میں گھر پہنچا تو دیکھا پاس ہی ایک عمر رسیدہ عورت آنکھوں میں خوف کے آنسو اور چہرے پر مایوسی لئے بیٹھی ہے۔ دریافت پر ماں نے بتلایا کہ اسکی تحویل میں دونوں ڈکیت اسکے سگے بیٹے ہیں اور اسے خدشہ ہے کہ انہیں کسی کارروائی میں پار کردیا جائے گا۔ بیٹے نے ماں کیطرف حیرت سے دیکھا کہ وہ کن لوگوں کی سفارش کر رہی ہیں۔ لیکن پاس بیٹھی ماں نے ڈوپٹہ بیٹے کے قدموں کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ اسکے بیٹے ڈکیت ہیں لیکن وہ ماں ہے وہ کہاں جائے اور ساتھ عہد کیا کہ وہ اپنا سب کچھ بیچ کر لوگوں کو انکا لوٹا ہوا مال واپس کرنے کیلئے تیار ہے اور اگر آئندہ اسکے بیٹوں نے واردات کی تو وہ خود انہیں حوالہ پولیس کر دیگی کہ سخت ترین کارروائی کرسکے۔ یوں دو مائووں نے ایک سخت ترین اور ایماندار افسر کو منا لیا۔ اور آ ج وہ دونوں ڈکیت بیٹے ایک کامیاب ترین بیوٹی سیلون چلا رہے ہیں او ایک معزز شہری بن کر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ضیا ء دور میں پھانسی چڑھتے ہوئے ایک بدنام زمانہ ڈاکو اور قاتل نے آخری ملاقات پر ماں کو گلے لگاتے ہوئے اسکا کان کاٹ کھایا۔ کہ جب اسکی پہلی واردات اسکے علم میں آئی تھی۔ اگر اسی وقت سے اسے روک لیتی تو آج وہ پھانسی گھاٹ تک نہ پہنچتا۔
عورت درحقیقت امن اور شر دونوں کا سبب اور ماخذ ہے جو گن اور ناگن کے دونوں روپ کائنات میں دیکھے جاتے ہیں۔ ماں کے عہد نے بیٹوں کو نہ صرف چور سے قطب بناتے ہوئے انکی اپنی زندگی بچا لی بلکہ معاشرے کو مزید شر سے بچالیا اور امن فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ادھر پھانسی چڑھتے ڈاکو نے ماں کو اپنا کردار ادانہ کرپانے کی سزا دی ۔عورت کائنات کے انتظامی امور کا مطلق حصہ دکھائی دیتی ہے۔ کائنات اپنی انسانی اور حیواناتی تخلیق کو ماں کے پیٹ کا سہارا لینے پر مجبور نظر آتی ہے۔کہاوت ہے کہ فرشتے نے موسیٰ ؑ کو ماں کی وفات پر آئندہ محتاط رہنے کی تلقین کی، اختلاف رائے کی جسارت تو قطعاً نہیں کی جاسکتی لیکن ایمان ہے کہ مائیں کبھی نہیں مرتیں۔ وہ مر کے کائنات کے اور قریب ہو جا تی ہیں اور اولاد کا بھلا سوچتی نظر آتی ہیں۔ اور شاید جس دن عورت اور ماں کی روح مرگئی۔ کائنات اپنا نظام لپیٹ لے گی۔ماں اور عورت کا تعلق کسی دھرم سے نہیں ہے۔ وہ صرف ماں، بہن، بیٹی، بہو او شریک حیات ہے اور ہر صورت میں راحت العین ہے۔ عورت کے قومی دن منانے سے اسے بلاشبہ ایک اہمیت کا احساس دلایا جاسکتا ہے لیکن اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہوئے پاکستانی معاشرہ میں ایسے کردار پیدا کرنے ہونگے جنہیں ہم رابعہ بصری، مدر ٹریسا کے نام سے جانتے ہیں۔ تاکہ ہر خاندانی اکائی کی بنیاد مضبوط ترین خطوط پر استوار ہو اور نہ کوئی عورت کسی مرد کو رشوت ستانی اور لوٹ مار کیلئے اکسا سکے اور نہ ہی حوا کی بیٹی کو زن، زر، زمین کے محاورہ پر قائم رہتے ہوئے پاکستانی معاشرے میں جرم اور شر کی اصل بنیاد تصور کیا جاسکے۔ تاہم عورت کی فطری محبت اور شفقت مرد کو اسکے حقیقی مقاصد کے حصول کیلئے غالب کردار ادا کرسکتی ہے جس کا حتمی تعین انفرادی اور اجتماعی مرد قیادت کو ہی کرنا ہوگا۔

وجود زینت

انسان کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ دنیا کیلئے اس کا وجود زینت کا باعث ہو اور جیسا ...