پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود۔۔۔۔۔۔۔ہوشربا مہنگائی برقرار

17 فروری 2015

احمد جمال نظامی

ahmadjamal@hotmail.com
وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے گذشتہ دنوں پرائس کنٹرول کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں ٹرانسپورٹ کے مقررہ کرایوں کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے تمام ڈویژنل کمشنروں اور ڈی سی اوز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اوورچارجنگ کی آڑ میں عوام کا استحصال نہیں ہونا چاہیے اور کرایوں کے ساتھ ساتھ آٹے، پولٹری اور گھی کی قیمتوں میں بھی کمی آنی چاہیے۔ وزیراعلیٰ کی طرف سے تمام اضلاع کی مقامی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ وہ بس اڈوں پر نئے کرایوں کی باقاعدگی سے چیکنگ کریں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح کمی کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے بناسپتی گھی و آئل کی قیمتوں میں پانچ روپے فی کلو کمی کر دی گئی ہے اور قیمتوں میں اس کمی کا اطلاق پورے صوبے میں 9 فروری سے ہوچکا۔ بناسپتی گھی و آئل کی قیمتوں میں پانچ فیصد کمی کا اطلاق کس حد تک ہوتا ہے ؟ لیکن عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جو گذشتہ چھ ماہ سے بھی زیادہ عرصے سے بتدریج کم ہو رہی ہیں اور ڈیزل، پٹرول و فرنس آئل کی قیمتوں میں اب تک تقریباً 60فیصد کمی آ چکی ہے،ہونا یہ چاہیے تھا کہ یونہی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ حکومت عوام کو ریلیف دیتے ہوئے اسی شرح سے ڈیزل، پٹرول اور فرنس آئل کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی کا اعلان کرتی۔ اس وقت عوام کو پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے واضح اور مثبت ثمرات حاصل نہیں ہو سکے جیسا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبائی پرائس کنٹرول کمیٹی سے خطاب کے دوران ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عملاً پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے تناسب سے نہ تو ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہوئے ہیں اور نہ ہی دیگر اشیائے ضروریہ خصوصاً اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں ہونے والی کمی سے گھی، چینی، چائے، گوشت، ڈبل روٹی، انڈے، مٹھائیاں، دودھ، دہی، سرخ مرچ، مصالحہ جات، صابن اور سرف سمیت دیگر اشیاءکی قیمتوں میں 15 سے 35فیصد کمی کی جانی چاہیے جس کا ریلیف عوام کو کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں کمی کر کے دیا جا سکتا ہے تاہم یہ امر واقع ہے کہ انتظامیہ کی غفلت اور دکانداروں کی ناجائز منافع خوری کے باعث عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی کمی سے ملنے والا ریلیف نہیں مل رہا اور جن اشیاءکی قیمتوں میں گذشتہ سال یہ کہہ کر اضافہ کیاجاتا رہا تھا پٹرولیم کی قیمتوں میں کمی کے بعد قیمتوں میں کئے گئے اضافہ کو واپس نہیں لیا گیا ہے۔ گذشتہ سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران فیصل آباد کے مضافاتی علاقوں سے موٹرسائیکلوں پر گھروں میں دودھ فراہم کرنے والے 60 روپے فی کلو سے 65روپے فی کلو میں دودھ سپلائی کرتے تھے۔ جو دودھ فروش 65روپے فی کلو دودھ سپلائی کرتے تھے ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ بالکل خالص اور ملاوٹ کے بغیر دودھ سپلائی کرتے ہیں اور انہوں نے سال گذشتہ کے پہلے چھ مہینوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر دو ماہ یا تین ماہ بعد ہونے والے اضافے کو جواز بنا کر اور نئے مالی سال کے آغاز پر دیگر اشیاءکے نرخوں میں اضافہ کے بہانے گھروں میں 70روپے فی کلو دودھ سپلائی کرنا شروع کر دیا اور اب جبکہ حکومت چار مختلف وقفوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچھی خاصی کمی کر چکی ہے۔ اندرون شہر گھروں میں دودھ سپلائی کرنے والے دودھ کی 70روپے فی کلو قیمت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ پورے پنجاب میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود صوبہ کے زیادہ تر علاقوں میں مہنگائی میں کوئی خاطرخواہ کمی نہیں ہوئی۔ اس وقت دودھ 70روپے فی کلو، دہی 80روپے فی کلو۔ بکرے کا گوشت 650روپے فی کلو، بیف 400روپے فی کلو، مرغی کا گوشت 230روپے فی کلو، انڈے 115روپے فی درجن، گھی اور کوکنگ آئل 170 سے 190روپے فی لیٹر، چینی 60روپے کلو اور چائے کا 250 گرام کا پیکٹ 110روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ تمام ڈویژنل کمشنروں اور ڈی سی اوز کو ان نرخوں میں عملی طور پر کمی کرانی چاہئے اور ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کر کے پٹرولیم مصنوعات میں کمی کے ثمرات عوام تک منتقل کرانے چاہئیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کو حکمران جماعت اور حکومت کی مدح سرائی کرنے والے اپنے کھاتے میں ڈالتے ہوئے اس کا تمام تر کریڈٹ حکومت کو ہی دینا چاہتے ہیں۔ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار فرماتے ہیں کہ ملک کو مہنگائی کے عفریت سے نجات مل چکی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا دوسرے ممالک کے ساتھ تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ خطے میں سب سے سستا پٹرول پاکستان کے عوام کو مل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پٹرول 70روپے فی لیٹر ہے جو کہ خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سستا ہے۔ انہوں نے بعض دوسرے ممالک میں پٹرول کے نرخوں کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی پیش کیا ہے اور ان کے مطابق بھارت میں پٹرول کی قیمت 103روپے 39 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ بھارت میں ان دنوں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 59روپے ہے، روس میں پٹرول فی لیٹر 55.51روپے، امریکہ میں 65.60روپے اور اسی طرح خطے کے بہت سے ممالک ایران، بحرین، اومان، سوڈان، برونائی، قطر، ملائیشیا، عرب امارات، نائیجیریا، یمن، انگولا وغیرہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان سے کئی گنا کم ہیں۔ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا کریڈٹ ضرور لینا چاہیے لیکن حکومت یہ کیوں بھول جاتی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی ہو رہی ہے حکومت اس کے مطابق عوام کو فائدہ نہیں پہنچا رہی ۔ گذشتہ ایک ماہ میں سیلزٹیکس کی مد میں دس روپے اضافہ کر کے عوام کی جیبوں میں سے پیسے بٹورے جا رہے ہیں۔ تاجروں نے پٹرولیم مصنوعات پر 10فیصد اضافے سمیت بجلی کمپنیوں کے لائن لاسز کی تلافی، بجلی قرضوں اور اس پر بھاری سود کی ادائیگی کے لئے بجلی صارفین پر 30پیسے فی یونٹ اضافہ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر 27فیصد جی ایس ٹی وصول کر رہی ہے جس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ حکومت نے ایک ماہ قبل بجلی کے بلوں میں 15فیصد یونیورسل اوبلیگیشن اور 3فیصد ڈویلپمنٹ سرچارج عائد کیا تھا اور اس طرح بجلی کی قیمت میں اضافہ اور پٹرول کی قیمت میں کمی سے ملنے والا ریلیف کم ہو گئے۔ جب حکومت عوام کو تمام ممکنہ ریلیف دینے سے قاصر رہے گی تو ملک کو مہنگائی کے عفریت سے نجات کیسے ملے گی۔ بے روزگاری اور عوامی مشکلات کیونکر کم ہوں گی۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اپنے منصب جلیلہ سے استعفیٰ دینے کا جواز یہ کہہ کر پیش کیا ہے کہ ایسی حکومت میں رہنے کا کیا فائدہ جو عوام کو ریلیف نہ دے پائے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان اگلے دو سال تک چل سکتا ہے لیکن حکومت کی اس ضمن میں کوئی واضح پالیسی نظر نہیں آتی کہ وہ اپنے عوام کو اس کے ثمرات کس طرح پہنچائے گی۔ بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی ہونی چاہیے تھی اور فرنس آئل کی قیمتوں میں کمی سے بجلی کی پیداوار بڑھا کر لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی طرف پیش رفت کرنی چاہیے تھی۔ چلتا ہوا پہیہ زندگی اور ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور صنعت کے پہیے سے لے کر ہر قسم کی ٹرانسپورٹ کا پہیہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی سے چلتا ہے۔ اس وقت فرنس آئل کی قیمتوں میں کمی سے حکومت کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ ملک میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کر کے پٹرولیم مصنوعات میں کمی سے عوام کو ریلیف پہنچائے۔ ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی پر عوام کو ملنے والے ثمرات دوسرے ہاتھ سے واپس حکومت کے پاس چلے جاتے ہیں۔ حکومت کے کارپردازوں کو اس صورت حال کا حقیقت پسندانہ بنیادوں پر جائزہ لینا چاہیے۔ اسٹیٹ بینک نے ایک رپورٹ میں شاہراہوں، پلوں، سڑکوں، سیوریج اور پانی سپلائی بارے حکومت کے بلندوبانگ دعو¶ں کی قلعی کھول دی ہے اور انکشاف کیا ہے کہ حکومت مواصلات اور صفائی کے شعبے پر جی ڈی پی کا صرف 0.1فیصد خرچ کر رہی ہے۔ اس نے سماجی خدمات پر صرف 33.6ارب روپے خرچ کئے ہیں۔ جنوری 2015ءمیں سی بی آئی 3.8فیصد کی سطح پر آ گیا ہے جو کہ گذشتہ سال کے اس مہینے میں 7.9فیصد کی سطح پر تھا تاہم ماہانہ بنیادوں پر ملک میں افراط زر کی شرح میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنوری 2015ءمیں سی بی آئی میں 0.1فیصد کا معمولی اضافہ ہو گیا ہے جبکہ دسمبر 2014ء1.0فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ جنوری 2014ءمیں سی بی آئی میں 0.5فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ ٹاپ لائن سیکورٹیز کی رپورٹ کے مطابق افراط زر کی شرح میں یہ کمی دراصل عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا نتیجہ ہے جس کے بعد ملک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنے کی صورت حال پیدا ہوئی تھی اور حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا ریلیف عوام کو دینا پڑا ہے۔