بھارت کے ہاتھوں شکست آخر کیوں؟

17 فروری 2015
بھارت کے ہاتھوں شکست آخر کیوں؟

مکرمی! ورلڈ کپ کے پہلے ہی میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے پیچھے آخر کیا عوامل ہیں یہ سوال جاننے کے لئے آج پاکستان کا ہر کرکٹ کا پرستار پوچھنے پر مجبور ہے۔ کرکٹ کی اس شکست میں جہاں بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں وہاں پاکستان کرکٹ بورڈ میں بیٹھے بڑی بڑی تنخواہوں پر تعیش عہدیدار اژدھے برابر کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے اپنے سفارشی گورننگ بورڈ کے عہدیداروں کے چہیتے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم کی زینت بنا کر کامران اکمل، یاسر عرفات، شعیب ملک، عمر امین اور اسد شفیق کو کارنر کیا۔ بھارت کے خلاف ناقص فیلڈنگ، بائولنگ اور بیٹنگ نے سخت مایوس کیا۔ ابتدائی اوورز میں پاکستانی بائولروں نے کومل ، رائنا اور دھونی کو جہاں کھل کر بیٹنگ کرنے کا موقع دیا۔ وہاں ہمارے فیلڈروں نے بھی ان کو ڈراپ کیچز اور گرائونڈ فیلڈنگ میں بھر پور ساتھ دیا۔ کرکٹ میں کوچنگ اصطلاح ہے کہ جو بلے باز سنگلز اور گیند چھوڑ نہیں سکتا وہ بلے باز کہلانے کا حقدار نہیں ہے۔ میں شروع سے لکھ رہا ہوں کہ دنیا کی تمام ٹیمیں ہمیں شارٹ پچ گیندوں سے نشانہ بنائیں گی جس کی حقیقت بھارت کے معمولی درجہ کے فاسٹ بائولروں کے سامنے کھل کر سامنے آ گئی، قومی ٹیم کی فوج ظفر فوج کو اس شکست کو بھول کر آئندہ کے میچز کے لئے حکمت عملی تیار کرنی چاہئے۔ (طاہر شاہ سابق فرسٹ کلاس کرکٹر لاہور)