بجلی کے بحران میں عوام اور حکومت کی ذمہ داری

17 فروری 2015

مکرمی! اس وقت ملک پاکستان توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے بجلی کی طلب اور رسد میں بہت زیادہ فرق ہے جس کی وجہ سے کئی سالوں سے لوڈشیڈنگ عوام کے معمولات زندگی میں ناکردہ گناہ کی سزا کی طرح شامل ہے۔ بات اگر لوڈشیڈنگ تک رہتی تو معاملہ ٹھیک تھا مگر گذشتہ دنوں ہونے والے بریک ڈاؤنوں کی وجہ سے تو عوام بلبلا اٹھے ہیں۔ پوراملک کئی گھنٹے تاریکی میں ڈوبارہا جبکہ حکمران طبقہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ بریک ڈاؤن تو ایک طرف لوڈشیڈنگ ہی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ عوام کا جینا محال ہوگیا ہے۔ ابھی تو سردیوں کا موسم ہے اور بجلی کی ضرورت بھی انتہائی کم ہے مگر پھر بھی کئی کئی گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے کہ سردیوں میں بجلی کی یہ صورتحال ہے تو گرمیوں میں ان پر کیا قیامت نازل ہوگی جب گھروں میں اے سی اور فریج وغیرہ چلیں گے۔ موجودہ حکومت نے الیکشن کے وقت توانائی کے بحران کو حل کرنے کا نعرہ لگا کرووٹ تو حاصل کرلیے مگر تاحال توانائی کے بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔حکومت کو چاہئے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے جو بجلی گھر بند پڑے ہیں ان کو فوری طور پر چلایا جائے جبکہ نئے بجلی گھروں کی تعمیر پر توجہ دی جائے اس کے علاوہ حکومت کو چاہئے کہ چھوٹے بڑے ڈیموں کی تعمیر کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرے تاکہ سستی بجلی مہیا ہو اور بہت سا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہونے سے بچ جائے۔ دوسری طرف عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ بجلی کی بچت کو اپنا شعار بنائے جس کیلئے ضروری ہے کہ غیر ضروری اشیا استعمال نہ کی جائیں اکثر دیکھنے میں آتاہے کہ بہت سے لوگ لاپرواہی برتتے ہوئے الیکٹرک آلات کو چالو حالت میں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی کھپت میں اضافہ ہوتا ہے۔آپ کے موثرجریدے کے توسط سے میری حکمران طبقے اور عوام سے گزارش ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے باہم دست و بازو کا کردار اداکریں حکومت زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے ذرائع تلاش کرے جبکہ عوام کم سے کم بجلی استعمال کر کے اس بحران پر قابو پانے میں حکومت کا ساتھ دے (شمیم کوثر،ادارہ علوم ابلاغیات، جامعہ پنجاب لاہور)