ریڈیو اور موسیقی کے لئے استاد تصدق علی خان کی خدمات

17 فروری 2015
ریڈیو اور موسیقی کے لئے استاد تصدق علی خان کی خدمات

اصغر ملک
ریڈیو پاکستان کے سابقہ اور حالیہ دور میں بڑے بڑے ذہین لائق، قابل اور براڈسٹنگ کے علم و فن میں مہارت رکھنے والے پروڈیوسرز آئے اور اپنی شبانہ روز محنت لگن اور کارکردگی کی یادیں چھوڑ کر چلے گئے لیکن ان کے کام اور نام آج بھی ان کی یادیں تازہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک نام شام چوراسی گھرانے کے پروڈیوسر تصدق علی خان کا بھی ہے ان کے آباﺅ اجداد شہنشاہ اکبر کے درباری گائیک تھے اور تصدق علی خاں میاں چاند خاں اور سورج خاں کی نسل کے چشم و چراغ تھے جہاں وہ ریڈیو میں پروڈیوسر کی حیثیت سے جانے جاتے وہاں وہ گلوکار اور میوزک کمپوزر بھی لاجواب تھے اور ریڈیوکی ملازمت کے دوران جہاں بھی گئے موسیقی کا شعبہ ان کے ہی سپرد رہا۔ موسیقی کی تعلیم اپنے بڑے بھائی استاد نزاکت علی خاں اور استاد سلامت علی خاں سے حاصل کی ہوئی تھی یعنی استاد نزاکت علی خاں اور سلامت علی خاں کو ریڈیو کی وجہ سے جب عروج ملا تو انڈین فلم انڈسٹری کے نامور گھرانے کے سربراہ پرتھوی راج کی دعوت پر انڈیا گئے تو 1964میں پرتھوی راج نے اپنے فلم سٹوڈیو میں محفل موسیقی کا اہتمام کیا اور انڈین فلم انڈسٹری سے لیکر کلاسیکل گائیک کو بھی دعوت نامے بھیجے گئے اور جب رات ڈھلے محفل عروج پر آئی تو انڈین کلاسیکل گائیک سے لیکر میوزک ڈائریکٹر بھی ان کے گرویدہ ہو گئے ان کو وہاں رہائش کے علاوہ اکیڈمی بناکر دینے اور ہرقسم کا خرچہ برداشت کرنے کی آفر بھی کی گئی لیکن استاد سلامت علی خاں نے کہا کہ مہاراج آپ کی بڑی مہربانی جو آپ نے ہماری عزت افزائی فرمائی ہے۔ ہم جس حالت میں بھی رہیں گے پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتے۔ تصدق علی خاں کو جب ریڈیو لاہور کے سنٹرل پروڈکشن یونٹ میں خدمات انجام دینے کیلئے تعینات کیا گیا تو انہوں نے مہدی حسن، غلام علی، حسین بخش گلو، افشاں، پرویز مہدی، ریشماں، ملکہ ترنم نورجہاں، ذاکر علی خاں، ثمراقبال، شوکت علی، مہناز وغیرہ سے بہت سارے گیت، غزلیں، دوگانے، ملی ترانے اور دیگر آئٹم بھی ریکارڈ کروائے جو آج بھی گاہے گاہے نشر ہوتے رہتے ہیں۔ تصدق علی خاں کی محنت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے فلم اللہ مالک میں میوزک دینے کا موقع ملا اس کے بعد فلم پنج دریا میں ایک نابینا کا کردار بھی ادا کیا۔ ان کی ریڈیو اور دیگر شعبوں کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انڈین فلموں کے مایہ ناز ہیرو دلیپ کمار نے بھی کہا کہ ان کی بنائی دھنیں مجھے بہت پسند ہیں اور خاص کر اس گیت کی میں جانا پردیس، تصدق علی خاں جہاں پروڈیوسر تھے وہاں کمپوزر کے علاوہ گلوکار بھی تھے۔ تصدق علی خاں اپنے کام کی لگن میں مگن رہتے دوستوں کے دوست، فنکاروں کے ہمدرد، ریڈیو پاکستان کے اعلی حکام نے ان کی پروگراموں میں دلچسپی اور جستجو کو دیکھتے ہوئے ان کو ریڈیو پاکستان سکردو کا اسٹیشن ڈائریکٹر تعینات کردیا اور ایک عرصہ گھر اور بچوں سے دور رہنے کی وجہ سے نہ تو کھانا وقت پر کھاسکے نہ آرام کرنے کی وجہ سے شوگر کے مریض بن گئے گھر والوں کی جدائی اور فرائض کی ادائیگی نے بلڈ پریشر بھی بڑھا دیا جس کی وجہ سے بیماری زور پکڑتی گئی۔ ریڈیو والوں نے ان کو علاج کے لئے ہر قسم کی سہولیات مہیا کررکھی تھیں اور ریڈیو والوں نے 1977ءمیں PBC گولڈن ایوارڈ دیا۔ 1985میں گریجوایٹ ایوارڈ حاصل کیا۔ آل پاکستان میوزک کانفرنس ایوارڈ 1994ئ، 1995ئ، 1996ئ، 1997ءتا 1998ءتک ایوارڈ ملتے رہے۔ آفتاب موسیقی کے نام سے 2000ءمیں ایک ایوارڈ ملا دیگر اداروں نے جو موسیقی سے دلچسپی رکھتے بہت ساری شیلڈیں وغیرہ بھی دے رکھی تھیں آخر تک بیماریوں کا مقابلہ کرتے کرتے اس جہاں فانی سے 23-12-2013کو کوچ کرگئے میانی صاحب لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ خدا ان کو جوار رحمت میں جگہ دے جو بھی جاتا تہ خاک وہ آتا ہی نہیں ارے کوئی بتلائے کہ خاک تماشہ کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل غلام مرتضیٰ سولنگی تک جب تصدق علی خاں کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے ان کے بیٹے ثروت علی خاں کو ریڈیو پاکستان لاہور میں بطور پروگرام پروڈیوسر ملازم رکھ کر بہت بڑی نیکی کی سولنگی چونکہ پروفیشنل براڈ کاسٹر اور ریڈیو کے ہرشعبہ سے تعلق رکھنے والے تھے۔ اور ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے لیکر وائس آف امریکہ میں خدمت انجام دے چکے تھے لوگ آج بھی ان کو یادکرتے ہیں اور یہی زندگی کا حاصل ہے۔