سی پی این ای کی عزت افزائی

17 فروری 2015
سی پی این ای کی عزت افزائی

پاکستانی اخبارات وجرائد کا ایک محترم ادارہ ہے، سی پی این ای۔ جو کونسل آف نیوز پیپرز ایڈیٹرز کامخفف ہے۔ اسے محترم میںنے اس لئے لکھا ہے کہ ہمارے ایڈیٹر جناب مجید نظامی بھی اس کے صدر رہے ۔ ایک زمانے میں اس کے ارکان بھی وہی ہوتے تھے جو مالکان کے ادارے اے پی این ایس میں شامل تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ بعض اخباری ادارے اللہ کے فضل سے اس قدر پھیل گئے کہ ان کے مالکان کے لئے دو اداروں میں فعال رہنا مشکل ہو گیا ور انہوں نے سی پی این ای میں پروفیشنل ایڈیٹرز کو نامزد کر دیا۔ویسے بھی مالک کی حیثیت سے اخبارا ت کو جو مسائل درپیش ہیں ، وہ ان مسائل سے مختلف ہیں جن کا سامنا ان کے ایڈیٹرز کو کرنا پڑتا ہے۔ ایک ایڈیٹر کے لئے بنیادی مسئلہ آزادی اظہار کا ہے، جس پر قدغن یوں لگتی ہے کہ حکومت یا بڑے پریشر گروپ اخبار کے اشتھار بند کر دیتے ہیں اور ایڈیٹرز کومجبور کیا جاتا ہے کہ وہ پالیسی کے مسئلے پر کمپرو مائز کریں۔سارے ایڈیٹرز مجید نظامی یا حمید نظامی جیسے دلیر نہیں ہوتے جنہیں ادارے کے نفع نقصان کا خیال نہ ہو۔ایوب خان نے نوائے وقت کا ناطقہ بند کیا اور جناب حمید نظامی اس گھٹن کا شکار ہو کر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ محترم مجید نظامی نے اخبار سنبھالا تو انہیں بھی حکومتی جبر کا شکار کرنے کی کوشش کی گئی، یہ واقعہ اسی دور کا ہے جب گورنر کالا باغ نے مجید صاحب سے کہا کہ نر بندہ بن کے رہنا ہے۔بھٹو ایک جمہوری وزیر اعظم تھے مگر وہ بھی نوائے وقت کو برداشت نہ کر سکے اور وہی اشتھاروں والا ہتھیار آزمایا مگر جس انسان کا نام مجید نظامی تھا،وہ جھکنے کے لئے تیار نہ ہوا، جناب مصطفی صادق، بھٹو کے بھی دوست تھے اور نظامی صاحب کے بھی، ایک روز انہیں ملاقات کے بہانے بھٹو کے پاس لے گئے۔کافی دیر تک تبادلہ خیال جاری رہے ، مگر بھٹو نے دیکھا کہ نظامی صاحب کی زبان پر اشتھاروں کا مسئلہ نہ آیا تو وہ چڑ کو بولا©:اوئے مصطفی ، وہ اشتھاروں کی بات کیوں نہیں کرتے۔نظامی صاحب نے سوچا کہ یہ تو ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا، انہوں نے جھٹ کہا کہ مصطفے صاحب ،چلیں ،یہاں سے ،مجھے اشتھار کی کوئی بات نہیں کرنی۔
یوں اخباری مالک اور ایڈیٹر کے عہدے آپس میں گڈ مڈ ہو جاتے ہیں کیونکہ اشتھاروں کی بندش یا سرکو لیشن میں رکاوٹ یا نیوز پرنٹ کوٹے میں کمی یا نیو پرنٹ کی پریس تک ترسیل میں رکاوٹ سے در اصل مالک کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ اس لئے سی پی این ای میں بھی زیادہ تر مالکان ہی کو خود نمائندگی کرناپڑتی ہے۔واٹر گیٹ اسکینڈل میں واشنگٹن پوسٹ کا کردار تو سب کے علم میں ہے لیکن اس اسکینڈل کی اشاعت ممکن ہی نہ تھی اگر اخبار کی مالک خاتون دلیری نہ دکھاتی۔ ہمارے اخبار نویس صرف اس اخبار کے رپورٹر باب وڈ ورڈ کو جانتے ہیں لیکن ایک مرحلہ ایساآیا کہ باب وڈ ورڈ اخبار کی پبلشر کے گھر پہنچا تو خاتون نے کہا کہ ان کی گفتگو ڈارئنگ روم میں محفوظ نہیں ہے ، وہ دونوں باہر لان میں نکلے اور ٹہلتے ٹہلتے اگلی اسٹریٹیجی بنائی گئی۔
پاکستان جیسے تھرڈ ورلڈ ملک میں اخباری مالک کو ایڈیٹری کے منصب سے علیحدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ادارے کا گلا گھونٹنے میں کسی کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔میںنوائے وقت کا میگزین ایڈیٹر تھا کہ ہمارے ساتھی رپورٹر محمد رفیق ڈوگر نے حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کا ایک حصہ اشاعت کے لئے فائل کیا ، اس خبر کی اشاعت پر جنرل ضیا الحق سیخ پا ہو گئے، فون پر فون آنے لگے کہ ڈوگر صاحب کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔ مجھے فون کر کے اچانک گھر سے طلب کیا گیا، میں نظامی صاحب کے کمرے میں پہنچا تو وہاں محترم مجیب الرحمن شامی صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔ اس مسئلے پر صلاح مشورہ ہوا۔ میںنے کہا کہ مجھے واپس گھر جانا پڑے گا ، میںنے آئی ایس پی آر کے اس وقت کے سربراہ بریگیڈیئر صدیق سالک کی کتاب ۔۔میںنے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا۔۔ شائع کی تھی۔اس میں یہی واقعہ حرف بحرف شامل تھا اور یہ کتاب جی ایچ کیو کے سنسر کے بعد شائع ہوئی تھی۔ اگلے روز ہم نے کتاب میں سے پورا واقعہ شائع کر دیا، یہ آدھے صفحے پر پھیلا ہوا تھا، بہر حال اس کی اشاعت سے قبل نظامی صاحب نے حکومت کو یہ جواب دیا کہ ا خبار کا مالک بھی میں ہوں اور ایڈیٹر بھی میں خود ، اس لئے کوئی جرم بنتا ہے تو مجھ سے سرزد ہوا ، میں گھر سے کپڑوں کا بیگ لے کر آ گیا ہوں جس نے لے جانا ہو مجھے جیل لے جائے، کس میں ہمت تھی کہ نظامی صاحب پر ہاتھ ڈالتا مگر صدیق سالک والا مواد شائع ہونے کے بعد حکومت کو بالکل چپ لگ گئی۔
سارے مالک اور سارے ایڈیٹر نظامی صاحب کی طرح دلیر اور حق گو نہیں ہوتے، اور سارے اخبار نوائے وقت بھی نہیں ہوتے۔ اس لئے ہمارے اخبارات ، اس کے مالکان اور ایڈیٹروں کو ہمہ وقت مسائل درپیش رہتے ہیں۔ان دنوں جناب مجیب شامی سی پی این ای کے سربراہ ہیں۔ وہ بات کہنے کا ہنر جانتے ہیں ، میںنے ان کا وہ خطبہ استقبالیہ بار بار پڑھا ہے، باریک بینی سے پڑھا ہے، محدب عدسے کی مد د سے پڑھا ہے ، کوئی ایسی بات نہیں جو کہنے والی ہو ، اور انہوںنے وزیر اعظم کے سامنے اس کا تذکرہ نہ کیا ہو۔مگر ان کا انداز اپنا ہے، لہجہ دوستانہ ہے، انہوںنے ساتھیوں کے لئے ہاتھ پھیلانے میں بھی عار محسوس نہیں کی اور آفرین ہے وزیراعظم پر انہوںنے ان کی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں پوری کرنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کی، اس پر شامی صاحب کو حیرت بھی ہوئی اور انہوں نے کھانے کی میز پر وزیر اعظم سے پوچھ لیا کہ اس قدر جلدی کیوں کی، وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے ڈر تھا کہ ذرا چپ رہا تو آپ دس، بیس کروڑ کی بات نہ کر دیں کیونکہ میںنے وہ بھی دے دینے تھے، اس پر شامی صاحب نے حساب لگایا تو پتہ چلا کہ وہ گھاٹاکھا کے نکلے ہیں۔
وزیر اعظم تک میری آواز نہیں پہنچتی اور اگر کوئی پہنچا سکے تو میری درخواست ہے کہ وہ شامی صاحب کا نہیں ، سی پی این ای کا گھاٹا پورا کر دیں ، ایک کالم نویس نے لکھا ہے کہ یہ رقم ناراض صحافیوں کے لئے مانگی گئی حالانکہ شامی صاحب کے لکھے ہوئے خطبے میں موجود ہے کہ انہوں نے اپنے نادار ساتھیوں کے لئے اعانت کا مطالبہ کیا تھا، اب کہاں نادارا ور کہاں ناراض ، شاید یہ تبدیلی ٹائپنگ کا سہو ہے۔
اب سی پی این ای چشم زدن میںکروڑ پتی ادارہ بن گیا ہے، کہاں یہ لوگ اپنی جیب سے چائے نہیں پلا سکتے تھے اور کہاں ایک دم پانچ کروڑ کی رقم ان کے اکاﺅنٹ میں پہنچ جائے گی،یہ رقم فی زمانہ کوئی بڑی رقم نہیں ہے مگر ابتدا اچھی ہے، اور خدا کرے کہ اس رقم سے ان ایڈیٹروں کے بچوں کے نان نفقہ کا اہتمام ہو جائے جو اخبار چھاپتے تو ہیں مگر سراسر گھاٹے میں رہتے ہیں، سارے اخبار تو بکتے نہیں ہیں ، اس لئے ننانوے فی صد اخبارات و جرائد کا مسئلہ کسی حد تک حل ہونے کی صورت پیدا ہو گئی ہے، یہ اتنا بڑا کام ہو گیا ہے کہ شامی صاحب کے ساتھیوں نے ان کے لئے تا حیات صدارت کا نعرہ بلند کر دیا ہے۔ شامی صاحب نے واقعی اپنی برادری کے لئے ایک نیک کام کیا ہے۔ صحافیوں کو رامے صاحب کے دور میں پلاٹ ملے، اس کے بعد نواز شریف بھی پلاٹ دیتے رہے اور آخر میں پرویز الہی بھی ایک کالونی دے گئے ، اب جو صحافی محروم ہیں ، ان کے لیئے خادم اعلی سے توقعات باندھی گئی ہیں جو کہ میرے خیال میں پوری ہو جائیں گی۔مگر اخبارات کے ایڈیٹروں کو کم ہی پلاٹوں کی ا لاٹ منٹ کی گئی ۔ اس کے لئے شامی صاحب کو جدو جہد جاری رکھنی چاہئے۔شامی صاحب کو ڈاکٹر جبار خٹک کی شکل میں ایک اچھے ساتھی کی معاونت حاصل ہے، وہ برادری کے مسائل کو ہر لحاظ سے سمجھتے ہیں اور ان کے حل کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہں رہنے دیتے۔ وزیر اعظم ، ان کے وزیر اطلاعات پرویز رشید اور معاون خصوصی عرفان صدیقی کی موجودگی سبھی مسائل کے حل کے لئے امید افزا ہے، شامی صاحب ہمت کرتے رہیں اسباب پید اہوتے رہیں گے۔