پسند کی شادی کرنیوالے بھائی پر ایک بہن قربان دوسری شدید زخمی

17 فروری 2015

محمد نعیم سلطان
بہنوں کا اپنے بھائیوں سے رشتہ اور پیار ایک حقیقت ہے بہنیں اپنے بھا ئیوں کی ذرا سی تکلیف پر صدقے اور واری (قربان) چلی جاتی ہیں۔ بھائی کو اگر کچھ ہو جائے تو اپنے ربّ کے حضور خیریت اور سلامتی کی طلب گار ہو جا تی ہیں اور اگر بھا ئی کے سامنے کوئی آفت آجائے تو بے دریغ سامنا کر نے کو تیار ہو جاتی ہیں چاہے اسے موت ہی کیوں نہ آ جائے اسی طرح کا ایک واقعہ ضلع قصور کے تھانہ سرائے مغل کے علاقہ تارا گڑھ میں رہائشی محمد عباس کے گھر میں ہوا بہن اپنے بھائیوں پر واری (قربان) چلی گئی اور دوسری موت حیات کے کشمکش میں۔ مخالفین نے گھر میں داخل ہو کر 3 گھنٹے اندھا دھند فائرنگ کی بہنیں اپنے بھائیوں کو بچانے کے لئے ہاتھ میں قرآن پاک لے کر کھڑی ہو گئےں، واسطے، ترلے، منتیں کیں مگر درندوں نے سیدھی فائرنگ کر کے بچیوں پر گو لیوں کی بوچھاڑ کر دی ہاتھوں میں پکڑے سپارے اور قرآن پاک کو شہید کرتی گولیاں ان کے جسموں کے پار سے نکل گئیں جس پر ایک بہن ہلا ک اور دوسری شدید زخمی ہو گئی۔
یہ کو ن لو گ تھے جو آئے اور محمد عباس کے گھر میں داخل ہو کر دہشت گردی کر کے قیامت ڈھائی اور بچیوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے للکارے مارتے ہوئے فرار ہو گئے گھر کا کوئی ایسا کونہ نہ تھا جس پر فائرنگ نہ کی گئی ہو ، پیٹیاں ، بھڑولے ، ٹرنک ، سوٹ کیس غرض ہر جگہ با تھ روم تک فائرنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے اور ان کے گھر میں قیا مت ڈھا کر پو لیس کے آنے پر فرار ہو گئے۔ محمد عباس جو کہ ضلع ننکا نہ کے تھا نہ منڈی فیض آباد کے گاو¿ں قلعہ قمر سنگھ میں چھوٹا موٹا زمیندارہ کر تا تھا اس کے آٹھ بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں ہنسی خوشی زندگی بسر ہو رہی تھی۔ محمد عباس کا ایک بیٹا سیف علی تھا جو کہ منڈی فیض آباد میں دو سال قبل کے ایک پرائیویٹ سکول میںنویں کلاس میں پڑھتا تھا پاس ہی کے گا و¿ں جانی دا ٹھٹھہ کا رہا ئشی بااثر زمیندار اشرف علی کی بیٹی (ر) بھی اسی سکول میں پڑھتی تھی دونوں میں جان پہچان ہوئی اور گھر سے بھا گ کر ضلع کچہری لاہور میں شادی کر لی اور دونوں کسی اور علاقہ میں رہنے لگے محمد اشرف اور اس کے بیٹو ںکو اس بات کا بہت دکھ اور رنج ہوا محمد اشرف نے محمد عباس اور اس کے بیٹوں پر اغوا کی ایف آئی آر درج کروا دی۔ کیس کورٹ کچہری چلتا رہا، لڑکی نے جج کے سامنے رضا مندی سے شادی کا اقرار کیا جس پر ایف آئی آر خا رج ہو گئی۔ محمد اشرف اور اسکے بیٹوں فیاض اور پھول بادشاہ نے لڑکے اور لڑکی کو قتل کر نے کا ارادہ کر لیا پونے دو سال تک وہ سیف علی اور (ر) کو ڈھونڈتے رہے اس دوران سیف علی کو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھر میں ایک چاند سا بیٹا بھی عطا کر دیا۔ اِدھر محمد اشرف اسکے بیٹے فیاض اور پھول بادشاہ مسلسل محمد عباس کے گھر میں آتے اور دھمکیاں دیتے رہے اور تنگ کرتے رہے مسلسل دھمکیوں سے تنگ آخر محمد عباس اپنے پو رے خاندان کو لے کر تارا گڑھ چک 44 تھا نہ سرائے مغل آ کر آباد ہو گئے اسی دوران محمد اشرف اسکے بیٹے فیاض اور پھول بادشاہ وغیرہ ان کو ڈھونڈتے رہے بلا آخر ان کو پتہ چلا کہ و ہ تارا گڑھ میں ہیں تو محمداشرف اپنے بیٹوں اور14-15 سا تھیوں کے ساتھ ایک گا ڑی میں رات بارہ بجے آئے اور آتے ہی حویلی کا محاصرہ کر لیا اور فائرنگ کرنا شروع کر دی گا و¿ں کے لوگوں نے ڈاکو سمجھ کر اپنی طرف سے فائرنگ شروع کر دی محمد اشرف وغیرہ نے گاو¿ں والوں کی طرف فائرنگ کا رخ کیا اور کہا کہ ہماری تم سے کو ئی دشمنی نہیں اور نہ ڈاکو ہیں ہم محمد عباس اور اس کے خاندان کو ختم کرنے آئے ہیں ۔ پھول بادشاہ نے گھر کی چار دیواری پھلانگ کر اندر داخل ہو کر گھر کا مین گیٹ کھول دیا جس پر محمد اشرف اس کے بیٹوں کے علا وہ 9-10 افراد اندر آئے اور للکارے مارتے رہے، شور سُن کر محمد عباس اپنے بیٹوں کے ہمراہ کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ محمد اشرف نے للکارا مارا کہ ایک بھی بندہ زندہ نہ رہنے پائے ملزموں نے بے دریغ فائرنگ کر دی محمد عباس اور اسکے بیٹوں نے واپس کمروں میں بھاگ کر اپنی جان بچائی، دو سرے کمروں میں محمد عباس کی بیٹیا ں امتل بی بی اور شفقت بی بی قرآن پا ک لے کر باہر آئیں اور قرآن کے واسطے دیتی رہیں مگر درندہ صفت ملزموں نے ایک نہ سنی اور سامنے ہی سے فائرنگ دی گولیاں امتل بی بی کے دل اور پسلیوں میں پیوست ہو گئیں اور شفقت بی بی کی پسلیوں اور رانوں سے پار ہو گئیں ملزمان محمد اشرف اسکے بیٹے فیاض ، پھول بادشاہ اور دوسرے ساتھی لڑکیوں کے پاس کھڑے ہو کر بڑھکے مارتے رہے اور کہا کہ ہم اسی طرح سیف اور اس کی بیگم کو بھی قتل کر دیں گے۔ اہل علاقہ نے اس دوران 15 پر کال کر دی پو لیس کے آنے پر ملزمان فرار ہو گئے۔ امتل بی بی اور شفقت بی بی کو قریبی تحصیل ہیڈ کوراٹر پتو کی میں لے جا یا گیا امتل بی بی تو راستے میں ہی دم تو ڑ گئی جبکہ شفقت بی بی موت و حیات کی کشمکش میں چلی گئی۔ ایس ایچ او تھانہ سرائے مغل میاں محمد جسیم نے کہا ہے کہ ملزمان کو پکڑنے کے لئے مختلف ٹیمیں تشکیل دے کر روانہ کر دیی گئی ہےں۔ امتل بی بی کے بوڑھے والدین نے وزیراعظم میاں نواز شریف ، وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اور آئی جی پنجاب سے روتے ہوئے اپیل کی کہ اگر ملزمان گرفتار نہ کیا گیا اور ان کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تواےساواقعہ دو بارہ رو نما ہو سکتا ہے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...