بچے کا اغواءبرائے تاوان

17 فروری 2015

تحریر: سعید قیصر
معاشرے میں جرائم کا ایک سبب نئی نوجوان نسل کا فلمیں اور ڈرامے دیکھنا بھی ہے جوکرائم سٹوری کو دیکھنے کے بعد اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اس وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہو گا ایسا ہی ایک واقعہ ماموں کانجن کی آبادی غوثیہ کالونی میں پیش آیا جہاں 8دسمبر کی صبح بلاک نمبر 2گلی نمبر 12کے رہائشی ملک ابراہیم کا آٹھ سالہ بیٹا علی ابراہیم مسجد سے قرآن پاک پڑھ کر واپس گھرآرہا تھا کہ راستے سے نامعلو م کار سواروں نے اسے اغواءکر لیا ۔بچے کے اغواءکی خبر جہاں گھر والوں پر قیامت بن کر گزری ۔وہاں پرپو ری کالونی میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا بچے کے والدین پر غشی کے دورے پڑنے لگے ۔ گھر والوںاور اہل محلہ نے تلاش شروع کر دی ایس ایچ او مرزا الیاس بیگ ، اے ایس آئی حاجی سخاوت اور پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر ہمراہ پہنچ گئی۔ تلاش کرتے شام ہو رہی تھی جوں جوں وقت گزر رہا تھا گھر والوں پراور بھی بھاری پڑ رہا تھا اور کئی وسوسے اور خدشے جنم لے رہے تھے بچے کو اغواءکرنے والے دو نوجوان بھی بچے کے ورثاءاور اہل محلہ کے ساتھ تلاش کرنے میں مدد کے بہانے ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے اپنے ساتھیوں کو آ گاہ کر رہے تھے اس وقت پو لیس سمیت یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ اغواءکرنے والے دو نوجوان بھی ان میں موجود ہیں اسی دوران ملزمان نے چالاک ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محلے کے ایک لڑکے شیخ افضال کا یہ کہہ کر نام لے دیا کہ آج صبح اسے مشکوک حالت میں گھومتے ہو ئے دیکھا گیا ہے تاکہ بچے کے ورثاءادھر الجھ جائیں اور ہم پر شک نہ گزرے جس پر پولیس نے شیخ افضال اور دو نامعلو م سمیت مقدمہ بھی درج کر لیا پولیس کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج تھا اور گھر والے سمیت لوگ پریشان تھے یہ خبر پورے علاقہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی بچے کو اغواءکرنے والے ملزمان جن کی عمریں 17,18سال کے لگ بھگ تھیں حالات و واقعات دیکھ کر پریشان ہو گئے ان میں سے ایک نوجوان اسد نامی نے ایک کونے میں کھڑے ہو کر اپنے دیگر اغوا کارساتھیوں کو فون کیا کہ حالات کافی بگڑ چکے ہیں یہ نہ ہو کہ ہمارا علم ہو جائے بچے کو وآپس چھوڑ جائیں اے ایس آئی حاجی سخاوت علی نے موبائل فون پر گفتگو کو مشکوک بھانپتے ہوئے انہیںگرفتار کر لیا جوپوچھ گچھ پر صحیح جواب نہ دے سکا پولیس انہیں تھانہ لے گئی اسی دوران دیگر اغوا کاربچے کو ویران کالونی میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھا نہ میں جا کر ملزم اسد نے بتایا کہ میرے ساتھ نواحی گاﺅں 555کے سرفراز اور وارث جبکہ غوثیہ کالونی کے ہی علی رضا ہیں ہم نے مل کر پلان بنایا کہ ملک ابراہیم جو مال دار ہے کے بڑے بیٹے کو اغوا کر کے پچاس لاکھ تاوان لے کر چھوڑ دیں گے ایک ہفتہ تک ریکی کی تاہم وہ ہتھے نہ چڑھ سکا جس کے بعد ہم نے اس کے چھوٹے بیٹے علی ابراہیم کو اغوا کیا اور اسے نواحی گاﺅں 555 گ ب کے ممتاز نامی کے خالی احاطہ میں رکھااگلا ہمارا پلان تھا کہ فون پر پچاس ہزار تاوان لیں گے اور اسے چھوڑ دیں گے چونکہ ہمارا یہ پہلا وقوعہ تھا اس لیے زیادہ حوصلہ نہ بڑھا اور ساتھیوں کو کہا کہ وہ اسے چھوڑ جائیں مغوی بچے علی ابراہیم کے والد بتایا کہ علاقہ کی با اثر شخصیات صلح کے لیے مجھ پر دباﺅ ڈال رہی ہیں اپنے لخت جگر کو اغوا ءکر نے والوں کسی صورت معاف نہیں کروں گا چاہے مجھے سب کچھ ہی لٹانا پڑے جبکہ ملزمان کے والدین کا کہنا ہے کہ کہ اگر ہمارے بچے جیل چلے گئے تو وہاں کا ماحول انہیں بہت بڑے ڈکیت بنا دے گا اس لیے مدعی کی منت سماجت کر کے معافی لینے کی کوشش کریں گے جبکہ اہل علاقہ چاہتے ہیں کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جا ئے تاکہ مستقبل میں ایسا کو ئی واقعہ نہ ہو اگر انہیں معاف کیا گیا تو ان کی حوصلہ افزائی ہو گی اور یہ مزید ایسے واقعات کریں گے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...