واٹر کمیشن کا میئر کراچی کو نالوں کی فی الفور صفائی شروع کرانے کا حکم

17 اپریل 2018 (14:59)

واٹرکمیشن کے سربراہ جسٹس(ر)امیر ہانی مسلم نے نالوں کی صفائی نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور میئر کراچی وسیم اختر کو نالوں کی فی الفور صفائی شروع کرانے کا حکم دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں واٹر کمیشن نے نالوں کی صفائی اور توسیع کے معاملے کی سماعت کی، اس موقع پر میئر کراچی، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ڈائریکٹر اور دیگر پیش ہوئے۔اس موقع پر پراجیکٹ ڈائریکٹر پیش نہ ہونے پر کمیشن نے ڈائریکٹر کے ایم سی کی سرزنش کی جس پر انہوں نے بتایا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر ظفر بلوچ چھٹی پر ہیں۔ڈائریکٹر کے ایم سی نے کمیشن کو بتایا کہ 6 ہزار فٹ نالوں کی صفائی کے لیے 306 ملین فنڈز جاری کیے گئے جس کی مدد سے 5600 فٹ نالوں کی صفائی مکمل کرلی ہے۔کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر)امیر ہانی مسلم نے ڈائریکٹر کے ایم سی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ کاغذوں کی بات کر رہے ہیں ہم آنکھوں سے دیکھ کر آئے ہیں، کہیں صفائی نہیں ہوئی، بتائیں یہ کاغذات ٹھیک ہیں یا ہمارا مشاہدہ۔واٹر کمیشن کے سربراہ نے وسیم اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میئر صاحب، آپ کے افسر کمیشن کے سامنے سچ نہیں بولتے، پراجیکٹ ڈائرکٹر کو بلائیں میئر کو ساتھ لے کر جائیں گے اور نالوں کا دورہ کریں گے۔نالوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کمیشن کو بتایا کہ نالے کی لمبائی 12 ہزار فٹ ہے جس میں 6 ہزار فٹ تجاوزات ہیں جبکہ لوگ مسلسل کچرا پھینک رہے ہیں اس لئے گندگی ہے، جس پر سربراہ کمیشن نے کہا کہ اگر تجاوزات تھیں تو آپ کو ختم کرنی چاہیے تھیں، اگر یہی حال ہے تو کروڑوں روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ انہی نالوں پر مارکیٹس بنائی گئیں، کیا افسران سو رہے تھے، اگر یہ مستقل عذاب ہے تو چھوڑ دیں شہریوں کو اسی حال میں۔جسٹس(ر)امیر ہانی مسلم نے کہا کہ ہم نالے کے ساتھ ساتھ پیدل چلے ہیں جو عزت وہاں مل رہی تھی ناقابل بیان ہے۔سربراہ کمیشن نے میئر کراچی وسیم اختر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں گندگی کے ڈھیر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، میئر صاحب اگر یہ صفائی ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔کمیشن نے میئر کراچی وسیم اختر کو نالوں کی صفائی فی الفور شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے اور نیسپاک سے کام کی کوالٹی چیک کرائیں گے۔