صدام حسین کا مقبرہ تباہ ، باقیات بھی قبر سے غائب

17 اپریل 2018 (13:38)

عراق کے سابق صدر صدام حسین کا مقبرہ تباہ ہوگیا جبکہ ان کی میت بھی قبر سے غائب ہے۔غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق کہ عراق کے شہرتکریت کے علاقے الوجامیں صدام حسین کامقبرہ تباہ ہے اور قبر میں صدام کی باقیات بھی موجود نہیں۔سابق عراقی صدر کے قبیلے ابونصر کے سربراہ شیخ مناف علی الندا کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے مقبرے کی چھت پر موجود داعش کے اسنائپر کو نشانہ بنانے کے لئے عراقی طیارے نے بمباری کی جس کے نتیجے میں مقبرہ تباہ ہوگیا۔شیخ مناف نے بتایا وہ حملے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے تاہم مقبرہ تباہ ہوگیاہے اور صدام حسین کی قبر میں ان کی باقیات بھی موجود نہیں ہے۔یاد رہے کہ 28 اپریل کو صدام حسین کی سالگرہ کے موقع پر ان کے قبیلے کے افراد اور حامی مقبرے پر حاضری دیتے ہیں۔اس حوالے سے علاقے کے سیکیورٹی چیف جعفر الغراوی کا کہنا ہے کہ صدام حسین کی میت وہیں موجود ہے جبکہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ صدام حسین کی جلاوطن کی گئی صاحبزادی ہالا نجی طیارے میں تکریت پہنچیں اور اپنے والد کی قبر کشائی کے بعد میت اردن لے گئیں۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہالا کبھی عراق لوٹ کر نہیں آئیں تاہم صدام حسین کی قبر کھدی ہوئی ہے اور نعش بھی غائب ہے، نہیں جانتے کہ نعش کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور اس کے پس پردہ کون لوگ ہیں۔ان لوگوں نے بتایا صدام حسین کے والد کا مقبرہ بھی گائوں کے داخلی راستے پرواقع تھا جسے دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔