ہائرایجوکیشن کمیشن کے نئے چیئرمین کی تعیناتی، مخصوص گروہ کی احتجاجی کال مسترد

17 اپریل 2018

اسلام آباد(نا مہ نگار) اعلیٰ تعلیمی ادارں کے اساتذہ نے ہائرایجوکیشن کمیشن کے نئے چیئرمین کی شفاف تعیناتی اور سابق چیئرمین کے خلاف ملک بھر کے اساتذہ کے نام پر ایک مخصوص گروہ کی جانب سے بلائی گئی احتجاجی کال کو مسترد کردیاہے،دس تنظیموں کے نام پر بلائے گئے احتجاجی مظاہرے میں سات طلبہ سمیت کل پندرہ افراد نے شرکت کی اور چھ نکاتی چارٹر پیش کیاجس میںا یچ ای سی ، قائد اعظم یونیورسٹی، اسلامی یونیورسٹی،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ،نیشنل کالج آف آرٹس و دیگر اداروں کے سربراہان کی شفاف تعیناتی کامطالبہ شامل ہے۔تفصیلات کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اصلاحات کے نام پر بنائے گئے غیر معروف ورکنگ گروپ کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی تھی جبکہ اس میں فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسو سی ایشن، یوتھ کونسل آف پاکستان و سول سوسائٹی کی معاونت بھی شامل تھی ۔ 6نکاتی چارٹر میں مطالبہ کیا گیاہے کہ اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں تمام تقرریاں سپریم کورٹ کے احکامات اور مجوزہ کوائف کو مد نظر رکھ کر کی جائیں۔ ایسے امید واروں سے اجتناب کیا جائے جن کی انکوائریاں اور کیس نیب یا مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہوں ، جبکہ مدت ملازمت میں توسیع کی حوصلہ شکنی کی جائے ،تعیناتی کے عمل کے دوران متعلقہ منسٹری کے افسران کی مداخلت بند کی جائے ،اہم تعیناتیوں کے امید واروں کے ماضی کی کار کردگی کا جائزہ لینے کے لئے تھرڈ پارٹی اکیڈمک آڈٹ کروایا جائے اور اس کو تعیناتی کے عمل کا لازمی جزو قرار دیا جائے۔ واضح رہے مذکورہ مظاہرے کے منتظمین کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ تصویر میں محض پندرہ کے قریب افراد احتجاج کرتے دیکھے جاسکتے ہیںجبکہ ان میں بھی ایک طلبہ تنظیم کے چھ سے سات طلباء شامل ہیں۔