ایک قدم آگے دو پیچھے

17 اپریل 2018

 حکومت کی معیاد ختم ہونے میں 45 دن رہ گئے ہیں ،اس کے بعد نگران سیٹ آپ آ جائے گا ، پانچ سال قبل ملک کہاں موجود تھا اور اب آٹے دال کا بھائو کیا ہے اس کی بیلنس شیٹ بھی بنے گی بلکہ کہیںنہ کہیں بن بھی چکی ہو گی ،وزیر آعظم ہر روز کسی منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں ،یہ بھی کہہ چکے ہیںکہ جانے سے پہلے بتائیں گے کہ کیاکچھ کر چکے ہیں اور ملک میں کتنی بہتری لائی گئی ہے،وہ جب بتائیں گے تو ہو سکتا ہے ایسے کارہائے بیان کریں جو نظر سے اوجھل رہ گئے ہوں،اس وقت عام شہری کیا محسوس کر رہا ہے ؟ اس کی زندگی میں کیا بدلائو آیا ہے ،اس کو جاننا کوئی مشکل بات نہیں ہے ،شہر کے کسی عام محلے میں چلے جائیں ،کسی گائوں کا دورہ کر لیں،کسی آسامی کے لئے آنے والی درخواستوں کی تعداد جان لیں،یا ہرپاکستانی خود سے سوال کر لے کہ اس کے شب وروز کتنا مثبت اثر آیا ہے ،تو کسی تقریر سننے یا پڑھنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے، آ پ بیتی سب سے بڑا ثبوت ہوا کرتی ہے ،سکول کے زمانے میں ’’بزم ادب‘ کے نام سے ہفتہ میںایک پیریڈ ہوا کرتا تھا جس میں طالب علم نظم ،لطیفہ یا واقعہ سنایا کرتے تھے ،اس زمانے میں ایک ساتھی طالب علم کا سنایا ہوا ایک لطیفہ آج بھی یاد آجاتا ہے جس نے سکول تاخیر سے آنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ سخت بارش کی پیدا کردہ کیچڑ کے باعث وہ ایک قدم آگے بڑھاتا تھا تو دو قدم پیچھے کی جانب چلا جاتا تھا ، یہ تو ایک لطیفہ تھا مگر کیا ملک میں معاشی اور سماجی سطح پر کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے ،کیچڑ کون پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے اب تک پر امن اور خوشحال معاشرہ قائم نہیںکیا جاسکا ہے،اربوں ڈالر کی غیر ملکی امداد اور ملک کے اپنے وسائل کے باوجود معیشت اور نہ سماجی سروسز میں کوئی نمایاں پیشرفت نہیں ہوسکی ہے،خط غربت کے نیچے کتنی آبادی ہے اس کا کچھ پتہ نہیں ،مردم شماری نہیں کراتے ،ہوتی بھی ہے تو اس پر کوئی یقین کرنے کے لئے تیار نہیں،لوڈ شیڈنگ 80کی دہائی میں آ دھمکتی ہے اور جانے کانام نہیں لے رہی،سماجی گراوٹ کا یہ حال ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا جب کوئی واقعہ منظر عام پر نہ آیا ہو،نہروں، بلند عمارتوں سے بچوں سمیت کود پڑنا عام سی بات بن گئی،دادا کے دور کا مقدمہ پوتا بھگت رہا ہے ،ایگزیکٹو شاکی ہے کہ کام میں مداخلت ہو رہی ہے ،لیکن جو بھی کیس عدلیہ میں لگتا ہے اس کی داستانوں میں کونسا پہلو قابل فخر ہوتا ہے؟،کوئی نہ کوئی طلسماتی مخلوق ضرور ہے جو ’’کنفیوژن‘ کو پیدا کرتی ہے، اس کو برقرار بھی رکھتی ہے ، اور کیچڑ پیدا کرتی ہے ،ترقی سمت کے بغیر ہے ،اس کا کوئی چہرہ نہیں ہے،کبھی میٹرو بنانے کانام ترقی بن جاتا ہے اور کبھی ’’روشن خیال جدیدیت کو ترقی کہا جانے لگتا ہے، اچانک ایک دن انکشاف کیا جاتا ہے کہ ملک میں درجنوں ہسپتال قائم کئے جائیں گے ،سرکاری شفا خانوں کی حالت اور ملک میں فی کس ڈاکٹر اور بستر کی دستیابی دیکھی جاتی تو 2013ء میں اس کی منصوبہ بندی ہو جانا چاہئے تھی ،اب تک بیس ،25 ہسپتال بن چکے ہوتے ، اب نہ جانے یہ اعلان کس سرد خانے میں پڑا ہے ،اس کاذکر کسی سرکاری منہ سے نہیں ہو رہا ہے ترجیحات میں سقم ہے جس کی وجہ سے درست راہ پر سفر نہیں پاتا ہے،نجکاری کو لیں،پی آئی اے گلے کی پھانس بنی ہوئی ہے ،ریاست کی کاروبار کرنے والے اداروں کے بارے میں پالیسی کیا ہے اس کاکسی کو کچھ علم نہیںہے ،حکومت ان کو اپنے تحویل میںرکھنا چاہتی ہے یا بیچنا اس کا ہدف ہے،ان دونوںمیں سے ایک راستہ اختیار کر لینا اور اس پر عمل کرنا چاہئے تھا،5سال میں کیا ،کیا گیا ،کبھی نجکاری پروگرام کا حوالہ دے کر اقدامات اور کبھی ان کو رول بیک کر کے ادارے کی بحالی کے اعلانات،یہی دو دلی کیچڑ ہے،سیاست کو سامنے رکھ کر جب بھی کچھ کیا جائے گا اس کا اثر یہی ہو گا ،یہ پبلک پرائیویٹ شراکت ایک دھوکہ ہے ،جو خود کو دیا جارہا ہے ،کوئی نجی سرمایہ کا راس میںپیسے لگانے کے لئے تیار نہیں ہو گا جس کے پاس ’’ہائیر اینڈفائیر ‘‘ کا اختیار نہ ہو،اس طرح کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہو گا ،اس سے کہیں بہتر ہے کہ پی آئی اے کے ملازمین کی پیشہ ورانہ تنظیموں اور فنانشیل ماہرین کی مدد سے ادارے کی بحالی کا عمل شروع کر دیا جائے ،یہی حال پاکستان سٹیل ملز کا کیا گیا ہے ،نہ بکتی ہے اور نہ چلتی ہے ،یہ سب’’عزم ‘‘ کی کمزوری کا شاحسانہ ہے ،ایک فیصلہ کریں اور پھر اس پر عمل شروع کیا جائے ،لیکن یہ تو فطری بات ہے کہ جو فیصلہ ہو وہ پاکستان کے مفاد میں ہونا چاہئے ،اب جبکہ ملک میں نگران حکومتیں بننے والی ہیں اس لئے ائندہ چند ماہ میں تو کچھ نہیں ہونے والا ہے ،جو بھی منتخب حکومت آئے گی اس کے لئے درد سر پہلے ہی سے پیداکر دیا گیا ہے ،کیونکہ 5سال میں ان دونوںاداروں کے مستقبل کے لئے کچھ نہیں کیا گیا،وزیر آعظم اس بارے میں کیا وضاحت دیں گے اس کا تو علم نہیں مگر یقین کریںیہی کہا جائے گا کہ ہم تو کرنا چاہتے تھے لیکن کرنے نہیں دیا گیا ،اس طرح اور بہت سی مثالیںدی جاسکتی ہیں،ناکامی کا جواز تلاش کرنا ہی ناکامیابی کی وجہ ہوا کرتی ہے ،موافق حالات میسر ہوں تو پھر قیادت کے عیب چھپ جایا کرتے ہیں،مشکل حالات اور بھول بھلیوں میں سے راستہ بنانا ہی قیادت کا ہنر ہوا کرتا ہے اس کے لئے وژن کا ہونا اور اس پر قائم رہنے کا عزم کامیاب اور با مراد بناتا ہے ،آج ہی غور کر لیا جائے تو حقیقت کھل جائے گی کہ پہلے وژن بناو اور اس کو عزت دو تو عزت خود بخود مل جائے گی،ورنہ باقی ساری ٹکرین ہیں ،اور کیچڑ میںراستہ ہے، ایک قدم آگے دو پیچھے۔