شام وسحر

17 اپریل 2018

صلیبی و یہودی سازشوں سے اسلام اور مسلمانوں کو بہت نقصانات اٹھا نا پڑے۔ آج بھی مسلمانوں کے خلاف وہی پرانااندازجاری ہے۔ کشمیر میں نہتے مسلمانوں کو گولیوں سے چھلنی کیا جارہا ہے تو فلسطین میں اپنی ہی زمیں پرپرائے کردئیے گئے مسلماں صیہونی وطاغوتی طاقتوں کے ظلم وستم کا شکارہیں عراق میں امریکہ اوراس کے اتحادیوں کے ہاتھوں برستی موت کی تباہی کی داستاں آج بھی ہرجانب بکھری نظرآتی ہیں تو مشرق وسطیٰ میں امریکی ایجنڈے کے تحت لیبیا،یمن ،لبنان ،سوڈان تمام مسلم ممالک میں عدم استحکام کو فروغ دیا جارہا ہے انتشارکا شکاران بیشترممالک میں مسلمان ہی مسلمانوں کا خون بہائے جارہا ہے۔داعش جیسے خوفناک فتنے کی آبیاری بھی امریکا اورعالمی طاقتیں ہی کرتی ہیں اوراس کے مظالم پرسب سے زیادہ رنجیدہ ہونے اورانسانی حقوق پامال ہونے پردھاڑیں مارکررونے کا ڈرامہ بھی۔افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے نام پرخوفناک جنگی ہتھیاراستعمال کرنے والا بھی امریکا ہے لیکن بدقسمتی سے نہال ہونیوالے بدمست ہاتھی یعنی امریکہ کے نام نہاد اتحادی ہونے کے دعویدارمسلمان ملک ہی ہیں۔عراق میں انسانیت کیلئے قاتل جنگی ہتھیاروں کی موجودگی کا دعویٰ کرکے امریکا اوراس کےاتحادی مسلم ملک،اسکی سرحدوں ،اسکے عوام اوراسکی عزت وتوقیرکو پامال کرتے ہیں اوران کا ساتھ دینے والوں میں ہم بھی شامل ہوتے ہیں روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کی وہ داستانیں رقم ہوتی ہیں کہ انسانیت شرما جاتی ہے لیکن عالمی برادری وہاں مسلمانوں کیساتھ ہونیوالے سلوک پرخاموش ہے۔عالمی برادری کو کیا کہنا مسلم ممالک میں سے کوئی ٹھوس آواز تک نہیں اٹھتی۔دنیا بھرکا جائزہ لیں کوئی ایسا ملک بھی ہے جہاں مسلمانوں دوسروں کا خون بہا رہے ہوں یقیناً ایسا کہیں نظرنہیں آئے گا لیکن دنیا میں استحصال اوربربریت کی مثالیں دیکھیں توبیشترانسان مسلم ہونگے جو اس کا نشانہ بن رہے ہوں۔اس کے باوجوہ مسلم ممالک ہیں کہ متحد ہونے کو تیار ہی نہیں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے ہرکوئی اوردوسروں پرہوتے مظالم کا تماشائی بنا ہوا ہےاسی تماشے میں محود درجنوں مسلم ممالک اوران کی قیادت اس انتشاری تماشے کی زد میں آچکے ہیں جبکہ دیگرکی باری آنے کو ہے لیکن خواب غفلت ہے اس قدرحسیں کہ جاگنے کو دل چاہتا ہی نہیں۔اقبال نے کشمیر کا نوحہ ان اشعار میں بیان کیا جوآج بھی انکے دکھوں اور تکلیفوں کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔؟
آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر
کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر
سینہ افلاک سے ا±ٹھی ہے آہ سوز ناک
مرد حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر
کہہ رہا ہے داستان بے دردی ایام کی
کوہ کے دامن میں وہ غم خانہ دہقاں پیر
مستقبل کو دیکھ لینے والے قائدین کی ان باتوں ،اقوال سے ہم رہنمائی چاہتے ہی نہیں اس لیے توآج بھی کشمیر خوں رنگ ہے بلکہ دنیا بھرمیںکشمیر جیسے درجنوںمسلم ملکوں کے عوام ایسی ہی استحصالی چکی میں پس رہے ہیں۔مارچ 2011 میں عرب سپرنگ سے متاثرہوکرجمہوریت کے حق اور بےروزگاری، بدعنوانی و سیاسی پابندیوں کیخلاف شام میں شروع ہونیوالی پرامن تحریک پرتشدد مظاہروں کی جانب جا نکلی صدربشارالاسد سے استعفے کامطالبہ ا ورحکومت کی جانب سے طاقت کا استعمال ہونے لگا ،فریقین ایکدوسرے پرآتشیں ہتھیار آزمانے لگے تشدد پھیلتا چلا گیا اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے شام میں موجود ذرائع نے مارچ 2018 تک شام میں 353,900 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں 106,000 عام شہری ہیں۔اس تعداد میں وہ 56,900 افراد شامل نہیں ہیں جو یا تو غائب ہیں یا پھر ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔جنگ سے کم از کم 15 لاکھ شامی مستقل معذروی کا شکار ہوئے ، جب کہ 86 ہزار افراد ایسے ہیں جن کا کوئی عضو ضائع ہوا ہے۔بے گھر ہونے والوں کی کل تعداد 61 لاکھ ہے جب کہ 56 لاکھ دوسرے ملکوں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔دوکروڑ آبادی کے اس ملک کی نصف آبادی جنگ سے براہ راست اورباقی نصف بالواسطہ متاثرہوچکی ہےاوراب تو یوں ہے کہ ملک میں صرف وہی لوگ ہیں جو کسی نہ کسی طرف سے جنگ میں شریک ہیں۔شہریوں کیساتھ فریقین کی جانب سے وہ سلوک ہوا ہے کہ یرغمالیوں کیساتھ بھی شاید کبھی نہ ہوا ہو۔بے سروساماں،موت کے گہرے بادلوں سے اٹے آسماں پرکسی جھری سے اپنی اوراپنے بچوں کی سلامتی کی دعائیں ساتویں عرش تک پہنچانے کی خواہش لیے دم توڑتے یہ شامی لوگ مسلمان ہیں اوران پر برستی موت کا سبب بننے والے بھی مسلمان ہیں۔احتجاج سے شروع ہونیوالی خانہ جنگی صرف بشار الاسد کے حامیوں اورمخالفین کے درمیان محدود نہیں رہی متعدد تنظیمیں ،ممالک اورگروہ اپنا اپنا ایجنڈا لیے اس میں کود پڑے ۔ سنی شیعہ کی لڑائی جس نے مسلم امہ کا اتحاد پارہ پارہ کیا آج دوسروں کا ہتھیار بن چکی ہے اوروہ اسے استعمال کرکے وہ مقاصد اوراہداف حاصل کرنے کی صلاحیت کے قابل ہورہے ہیں جو ویسے ممکن نہ تھے ۔ شام کے اندر بدامنی سے دولت اسلامیہ اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کو قدم جمانے کا موقع مل گیا اسی طرح شام میں رہنے والے کرد اپنے لیے الگ ملک کے نام پربرسرپیکار ہیں۔شام کی موجودہ صورتحال انتہائی پیچیدہ نظرآتی ہے جس میں مختلف تنظیموں ،ممالک اورخفیہ ایجنسیوں کے ایجنڈے کو سمجھنا آسان نہیں تاہم یہ بات بالکل واضح اوردوٹوک ہے کہ ان میں سے کسی کا مقصد بھی انسانیت ،ملک ،مذہب یا قوم کی بھلائی نہیں بلکہ اپنے مفادات کا حصول ہے روس نے شام میں فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور اس نے 2015 سے بشار الاسد کی حمایت میں فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے پانسہ بشارالاسد کی حمایت میں پلٹ گیا ہے۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دوسرے مغربی ملکوں نے باغیوں کو مختلف قسم کی مدد فراہم کی ہے۔ترکی ایک عرصے سے باغیوں کی مدد کر رہا ہے لیکن اس کی توجہ کا مرکز کرد ملیشیا ہے۔ اس کا الزام ہے کہ اس کا تعلق ترکی کی ممنوعہ باغی تنظیم پی کے کے سے ہے۔ اسرائیل کو تشویش ہے کہ حزب اللہ کو ملنے والا اسلحہ اس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے وہ بھی شام میں حملے کر رہا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ایسے تنازعات کا تصفیہ کبھی جنگ سے نہیں ہوا ہمیشہ بات چیت یا مذاکرات ہی اس کا حل بنے ہیں۔جنگوں ،خونریزی یا تشدد نے کبھی انسانیت کی خدمت نہیں کی ہمیشہ سہاگ اجاڑے ہیں ہمیشہ یتیم بنایا ہے ہمیشہ انسانوں کے بچے ان سے چھینے ہیں یا پھر ان کے سامنے نیزوں پرچڑھائے ہیں۔انسان کو نجانے کب سے انسانیت کو شرمندہ کیے چلا آرہا ہے انسانیت کی فلاح اورمعراج کو درس دینے والے مذہب اسلام کے پیروکار کب تک کلنک کا یہ ٹیکہ اپنے ماتھے پہ سجاتے رہیں گے۔ بشارالاسد یا اس کے پیروکار اورمظاہرین یا ان کے حامیوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ جو ساڑھے تین لاکھ جانیں اس دنیا سے گئیں وہ واپس آسکتی ہیں جو شہرے اجڑے ہیں انہیں دوبارہ بسنے میں کتنا وقت لگے گا؟ جو بچے اس قوم کا مستقبل اورمعمار تھے وہ تو اپنے ہاتھوں لحد میں اتارے ہیں اب آگے کیا ہے جس پرنظرجمائے اچھے وقت کی امید رکھی جائے۔مسلم امہ کے ٹھیکیداروں اورقائدین نے سوچا ہے کہ وہ اپنے اقتدارکو طوالت اوردوام دینے کیلئے جو یہ سب کچھ کررہے ہیں رب الہٰی کی بارگاہ میں اس کا کہیں جواب کیسے دیں گے؟ساری مسلم امہ اپنے دل میں صرف ایک بار یہ سوچے کہ مشرق وسطیٰ کے اس تاریخی ملک شام میں جو شام اتررہی ہے وہ پھر سے کیونکرسحرمیں بدلے گی ؟