درندگی کا نشانہ بننے والی بچیوں کے قاتل گرفتار نہ کئے جاسکے 

17 اپریل 2018

احمد جمال نظامی
تین ہفتوں سے زائد کا وقت گزر جانے کے باوجود پولیس جڑانوالہ میں زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد قتل ہونے والی سات سالہ بچی مبشرہ اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں جنسی تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیئے جانے والی ایم اے کی طالبہ کے ملزمان گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔ پولیس کی طرف سے اپنی ناکامی کا اعتراف بھی اس صورت میں کر لیا گیا ہے کہ پولیس نے سات سالہ مبشرہ کے جنسی تشدد کے بعد قتل کے واقعہ کے بارے میں عوام سے براہ راست معلومات طلب کرتے ہوئے ملزم کی گرفتار کی صورت میں 2لاکھ روپے رقم بطور انعام مقرر کی ہے ‘ فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں سات سالہ بچی مبشرہ کو جنسی تشدد کے بعد اس وقت قتل کیا گیا جب وزیراعلیٰ پنجاب کی جڑانوالہ آمد کے سلسلہ میں ایک ہیلی پیڈ بنایا گیا تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب جڑانوالہ میں ایم اے انگلش جی سی یونیورسٹی کی طالبہ عابدہ کے قتل کے سلسلہ میں اس کے گھر تعزیت کےلئے آ رہے تھے کہ عابدہ کا تعلق بھی مبشرہ کی طرح جڑانوالہ سے تھا ‘ بچی کی لاش کو ایک خالی پلاٹ میں پھینک دیا گیا‘ واقعہ کے بعد احتجاج جاری رہا ‘ وکلاءنے ہڑتالیں کیں ‘مظاہرے کئے ‘ عوام سڑکوں پر نکلی ‘جڑانوالہ میں دو روز متواتر شٹر ڈاﺅن ہڑتال رہی ‘ لوگ پولیس اور حکومت کے خلاف سراپا احتجاج رہے ‘ چیف جسٹس آف پاکستان نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی جس کے بعد آئی جی پنجاب نے جڑانوالہ متاثرہ خاندان کے گھر جانے کی زحمت گوارہ کی ‘ اس کیس اور ایم اے کی طالبہ عابدہ کے کیس کے حوالے سے فیصل آباد میں بھی شدید احتجاج سامنے آ تا رہا ‘ جی سی یونیورسٹی کے طلباءو طالبات کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے سول سوسائٹی ‘وکلاء‘سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ہمراہ سراپا احتجاج بنے رہے اور انکی طرف سے اب تک احتجا ج جاری ہے ‘ گاہے بگاہے احتجاجی ریلیاں نکالی جا رہی ہےں اور مظاہرے بھی کئے جا رہے ہیں ‘ تاہم جی سی یونیورسٹی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے طالب علموں کا نام یونیورسٹی سے خارج کر دیا ‘ انہیں امتحان بھی نہیں دینے دئیے گئے ‘ جس پر شدید احتجاج سامنے آ رہا ہے ‘جڑانوالہ کی دوسری معصوم بچی سات سالہ مبشرہ کے قتل اور جنسی تشدد کے خلاف بھی شدید احتجاج جاری ہے۔ پولیس اپنا کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے فیصل آباد کے سی پی او اطہر اسماعیل امجد سے پہلے واقعہ کا نوٹس لیا اورجب وزیراعلیٰ پنجاب نے ایم اے کی طالبہ عابدہ کے قتل پر سخت نوٹس لیتے ہوئے اپنی برہمی کا اظاہر کیا تو اس کے بعد سی پی او فیصل آباد نے واقعہ کا نوٹس لیا اور پھر ایک روز بعد ہی وزیراعلیٰ پنجاب کی جڑانوالہ آمد متوقع تھی تو انکی آمد کےلئے بنا ئے گئے ہیلی پیڈ کو دیکھنے کےلئے جانے والی سات سالہ بچی جنسی تشدد کے بعد قتل کر دی گئی ‘ لیکن تاحال کسی بھی ملزم کی گرفتاری نہ ہونے کی وجہ سے فیصل آباد بھر میں جہاں عوامی حلقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے وہاں اس صورت حال پر بھی شدید احتجاج کیا جا رہا ہے کہ پولیس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔پولیس کی بیڈ گورننس کے باعث اب تک دونوں کیسز حل نہیں ہو پا رہے حالانکہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ فرانزک لیب وغیرہ میں مختلف شواہد اکٹھے کر کے بھیجے گئے ہیں ‘ایک دو روز میں ملزمان کو گرفتا رکر لیا جائے گا۔
 فیصل آباد پولیس کی کارکردگی یقینی طور پر انتہائی مایوس کن ہے ‘روزانہ کی بنیادوں پر دو سے تین درجن چوری ‘ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتیں رونما ہو رہی ہےں‘ پولیس اشتہاریوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے میں ناکام ہے اور رہی سہی کسردو لڑکیوں سے جنسی تشدد اور قتل کے واقعات نے نکال دی ہے ‘جڑانوالہ کے یہ دونوں واقعات پولیس، حکومت کے لئے چیلنج بنے ہوئے ہیں‘ وزیراعلیٰ کے نوٹس کے بعد سی پی او فیصل آباد نے عابدہ کے کیس میں تھانہ گلبرگ کے ایس ایچ او کو معطل کر کے ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی‘لیکن اس کی رپورٹ اور اس پر عملدرآمد سامنے نہ آنے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں ‘ اس واقعہ سے پولیس کی عوام دوستی، فرض شناسی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور اس حقیقت کا احاطہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج بھی فرنٹ ڈیسک سے لے کر مختلف پولیس فورسز قائم کرنے کی بنیاد پر بڑے بڑے دعوے ہوتے ہیں لیکن پولیس مظلوم کی دادرسی کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی انتظامیہ کے حوالے سے بھی یہ ماتم سامنے آ رہا ہے کہ اس مادرعلمی کے وائس چانسلر سے لے کر مختلف شعبہ جات کے انچارجز اور پروفیسرز آئے روز مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہیں۔ کئی یوم اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے مطابق آگاہی کے حوالے سے منائے جاتے ہیں لیکن یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ اس قدر درندگی ہونے کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ مذمت کا ایک لفظ تک استعمال نہیں کر سکی جس سے اس یونیورسٹی میں منائے جانے والے مختلف آگاہی پروگرامز کے منتظمین کے کردار و عمل میں تضاد کو آسانی سے پرکھا جا سکتا ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ ان پولیس اہلکاروں اور تھانہ سٹی جڑانوالہ کے ذمہ داران کو فوری طور پر نوکریوں سے برخاست کیا جائے اور ان کے خلاف غفلت برتنے کی پاداش میں مقدمہ بھی درج کیا جائے۔ فیصل آباد میں جنسی درندگی کے بعد قتل کی ان دونوں ہولناک وارداتوں کے بعد احتجاج روز بروز وسعت اختیار کر رہا ہے لیکن دوسری طرف پولیس روایتی لیت و لعل سے آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ تحقیقاتی کمیٹیاں تو قائم کر دی گئیں لیکن اتنے روز گزر جانے کے باوجود پولیس کی طرف سے کسی قسم کی پیش رفت سامنے نہیں آ رہی۔ لہٰذا ان کیسز نے عوامی سطح پر پولیس کے خلاف عدم اعتماد کی فضا کو دوچند کیا ہے جبکہ پولیس کے خلاف عوامی نفرت بھی بڑھ رہی ہے۔ تاہم ان دونوں کیسز کے حوالے سے وزیرمملکت طلال چوہدری اور صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ خاں کے خلاف بھی مظاہرین کی طرف سے شدید احتجاج سامنے آ رہا ہے۔ رانا ثناءاللہ خاں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ فیصل آباد آئیں اور اعلیٰ پولیس افسران سے بازپرس کریں، ان سے پوچھیں کہ پولیس اب تک ان ملزمان کو گرفتار کیوں نہیں کر سکی طلال چوہدری بھی اپنے حلقہ انتخاب میں متاثرہ خاندان کو پرسا دینے کے لئے زحمت گوارا نہیں کر رہے۔ تحریک انصاف ، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کا کام بھی کیا صرف اور صرف مذمتی بیانات داغنا ہے؟ جڑانوالہ کی دونوں دختران کی بے حرمتی اور قتل کے واقعات پر پولیس کی کارکردگی جس کا احتجاج کے ذریعے ماتم کیا جا رہا ہے وہ بھی ہر لحاظ سے انتہائی مایوس کن اور کمزور نظر آ رہی ہے۔ اعلیٰ پولیس افسران کی کارکردگی بھی صرف اور صرف ہدایات اور اپنے میڈیا سیل کے ذریعے پروپیگنڈہ کی صورت میں نظر آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کا اپنے ماتحت عملہ اور تھانے چوکیوں پر کوئی کنٹرول نہیں جس کی وجہ سے پولیس کی کارکردگی مسلسل گر رہی ہے۔ جڑانوالہ کی سات سالہ مبشرہ کی نعش ملنے پر پہلے ہماری پولیس کا موقف سامنے آیا اس کے جسم پر ایسے نشانات ہیں جس سے لگتا ہے کسی جانور کا کام ہے اور بعدازاں جب میڈیا نے حقائق نشر کئے تو اعلیٰ افسران کو بھی خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑا۔ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ وہ جڑانوالہ کے ان واقعات کے پیش نظر فیصل آباد پولیس میں اعلیٰ سطحی تبدیلیاں کریں اور افسران سے لے کر متعلقہ تھانوں کے ذمہ داران کے خلاف بھی سخت محکمانہ اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کم از کم ایسے جنسی واقعات جن کی بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں شرح بڑھ رہی ہے،ختم ہوسکیں۔ ان واقعات کے کئی محرکات ہیں لیکن پولیس کی غفلت، عدم توجہی اور لاپرواہی کے باعث اکثر ملزمان قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔ پولیس کا وطیرہ متاثرین و ورثا کو مزید بددل کرتا ہے، اشتعال دلاتا ہے اور حکومت کے خلاف بھی احتجاج شروع ہو جاتا ہے جس کے ذمہ دار وزراءبھی ہیں۔ جبکہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایسے واقعات نے ہمارے روایتی پولیسنگ سسٹم اور نئی پولیس فورسز کے علاوہ تمام دعو¶ں پر پانی پھیر دیا ہے‘پولیس کی کارکردگی اور دعوﺅں کے باوجود دونوں کیسز کے ملزمان گرفتار نہ ہونے پر احتجاج کے حوالے سے دعوے سامنے آرہے تھے کہ پوسٹمارٹم رپورٹ اور فرانزک لیب رپورٹ کے بعد جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا لیکن اب چیف جسٹس آف پاکستان کے روبرو آئی جی پنجاب کی رپورٹ مسترد ہونے پر دوبارہ قبر کشائی اور پوسٹمارٹم کے عدالتی احکامات سے ثابت ہو تا ہے کہ پولیس نے پوسٹمارٹم بھی نیک نیتی سے نہیں کروایا اور فرانزک لیب کے حوالے سے بھی تمام دعوے صرف فرضی تھے ‘حقائق کو مسخ کرنے کے بھی خدشات پائے جاتے ہیں جس سے پولیس کی غفلت کھل کر عیاں ہو رہی ہے لیکن زیادتیوں کے بعد قتل ہونے والی بچیوںکے والدین انصاف کےلئے حیرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں‘ جنہیں فوری طور پر انصاف فراہم کرتے ہوئے ملزمان کو نشانہ عبرت بنانا چاہیے تاکہ ایسے واقعات کی بیچ کنی ہو سکے ۔