زینب قتل کیس کے بعد بچوں سے درندگی کے 33 مقدمات درج

17 اپریل 2018

مہر محمد شریف 
زینب قتل کیس کے بعد گزشتہ تےن ماہ میں بچوں اور بچیوں کے اغواء، زیادتی اور کوشش کرنے کے 33مقدمات درج کئے گئے95فیصد متاثرہ بچوں اور بچیوں کی عمریں 10سال سے کم ہیں متاثر ہ بچوں اور بچیوں کی حد عمر 12سال پائی گئی ہے۔ زینب سے قبل اور بعد میں واقعات تسلسل کے ساتھ رپورٹ ہو تے رہے مگر واقعات کی نوعیت مختلف پائی گئی۔ ملک کے اندر بڑھتے ہو ئے جنسی واقعات اور سکینڈل نہ صرف شرمناک بلکہ تشویشناک بھی ہیںیہ چیزمعاشرے کیلئے لعنت بن چکی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام اور معاشرے کی اصلاح کیلئے کردار ادا کیا جائے اگر آج بھی اس صورت حال سے نمٹنے اور خاتمہ کیلئے کچھ نہ کیا گیا تو ہماری آنے والی نسلوں کو بھی ایسی صورت حال کا بھی سامنا کرنا پڑے گا اور وہ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔زینب قتل کیس جس کے انصاف کی پوری دنیا آواز بنی اور آخر کار درندہ عمران نامی ملزم قانون کی گرفت میں آگیا مگر عمران جیسے مزید درندے معاشرے پر دھبہ ہیں جن کو قانون کی گرفت میں لانے کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہے۔زینب قتل کیس کے بعد یکم فروری 2018سے 28مارچ 2018درج ہونے والے مقدمات کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں ۔:1 مقدمہ نمبر 13 مورخہ 15جنوری جرم 377تھانہ مصطفی آباد مدعی محمد اسلم نے مقدمہ درج کروایا کہ ملزم افتخار احمد نے میرے بیٹے 7سالہ حمزہ کے ساتھ بد فعلی کی مقدمہ چالانچالان ہوچکا ہے۔2: مقدمہ نمبر 10 مورخہ 15جنوری جرم 377تھانہ راجہ جنگ مدعی حارث حسین نے مقدمہ درج کروایا کہ ملزم رضا نے میرے9سالہ بیٹے شکیل کے ساتھ بدفعلی کی ہے مقدمہ چالان ہوچکا ہے ۔3:مقدمہ نمبر 11مورخہ 15جنوری جرم 377تھانہ کنگن پور مدعی نذیر احمد نے مقدمہ درج کروایا کہ ملزم شاہد نے میرے 6سالہ بیٹے احمدکے ساتھ بدفعلی کی ہے مقدمہ چالان ہوچکا ہے ۔4: مقدمہ نمبر 49مورخہ 28جنوری جرم 376/511تھانہ کوٹ رادھاکشن مدعی محمد اشرف نے مقدمہ درج کروایا کہ میری بھتیجی 8سالہ لائبہ کے ساتھ ملزم شہباز نے زیادتی کرنے کی کوشش کی ہے مقدمہ چالان ہوچکا ہے ۔5: مقدمہ نمبر 37مورخہ 24جنوری جرم 363تھانہ بی ڈوےژن مدعی فرمائش علی نے مقدمہ درج کروایا کہ نامعلوم ملزم میرے بیٹے کو اغواءکرکے لے گئے مقدمہ زیر تفتیش ہے 6: مقدمہ نمبر 19مورخہ 15جنوری جرم 363تھانہ کوٹ رادھاکشن مدعی منظور احمد نے مقدمہ درج کروایا کہ ہماری عدم موجودگی ملزم عرفان وغیرہ تےن کس نامزد میرے 4سالہ بیٹے راشد کو اغواءکرکے لے گئے مقدمہ زیر تفتےش ہے 7: مقدمہ نمبر 52مورخہ یکم فروری جرم 263 511/تھانہ بی ڈوےژن مدعیہ ثمینہ نے مقدمہ درج کروایا کہ نامعلوم ملزم نے میری 4سالہ بیٹی فائقہ کو اغواءکرنے کی کوشش کی مقدمہ زیر تفتیش ہے ۔8: مقدمہ نمبر 27مورخہ 21فروری جرم 363تھانہ کھڈیاں مدعی اویس نے مقدمہ درج کروایا کہ میرا پانچ سالہ بیٹا کاشف باہر کھیل رہاتھا کہ اچانک غائب ہوگیا جس کو نامعلوم ملزم اغواءکرکے لے گیامقدمہ زیر تفتیش ہے ۔9: مقدمہ نمبر 125مورخہ 24فروری جرم 376/511تھانہ بی ڈویژن مدعی وحید عارف نے مقدمہ درج کروایا کہ ایک کس نامعلوم ملزم نے 4سالہ معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ 10: مقدمہ نمبر 103مورخہ 21فروری جرم 376/511تھانہ کوٹ رادھاکشن مدعی لیاقت علی مقدمہ درج کروایا ،11: مقدمہ نمبر 119مورخہ 26فروری جرم 376/511تھانہ الہ آباد مدعی محمد یونس نے مقدمہ درج کروایا،12:مقدمہ نمبر 124مورخہ 28فروری جرم 376/511تھانہ الہ آباد مدعیہ رشیداں بی بی نے مقدمہ درج کروایا ،13: مقدمہ نمبر 82مورخہ 21فروری جرم 376/511تھانہ صدر پھولنگر مدعی حاجی محمد حبےب نے مقدمہ درج کروایا کہ،14:مقدمہ نمبر 58مورخہ 20فروری جرم 376/511تھانہ سرائے مغل مدعی فلک شیر نے مقدمہ درج کروایا،15: مقدمہ نمبر 95مورخہ 15فروری جرم 363/511تھانہ چھانگا مانگا مدعی محمد سلیم نے مقدمہ درج کروایا،16:مقدمہ نمبر 53مورخہ 22فروری جرم 363/511تھانہ سٹی پھولنگر مدعی سلیم حیات نے مقدمہ در ج کروایا، مقدمہ نمبر 63مورخہ 23فروری جرم 377تھانہ صدر پتوکی مدعی محمد اختر نے مقدمہ درج کروایا کہ ملزم شاہد جمیل نے میرے آٹھ بیٹے فیصل کے ساتھ بد فعلی کی مقدمہ زیر تفتیش ہے ۔ مقدمہ نمبر 78مورخہ 19فروری جرم 377تھانہ صدر پھولنگر مدعی محمد معراج نے مقدمہ درج کروایا ،مقدمہ نمبر 50مورخہ 19فروری جرم 377تھانہ سٹی پھولنگر مدعی محمد اقبال نے مقدمہ درج کروایا، مقدمہ نمبر 198مورخہ 23مارچ جرم 377تھانہ بی ڈوےژن مدعی محمد حسین نے مقدمہ درج کروایا،مقدمہ نمبر 167مورخہ 13مارچ جرم 377تھانہ الہ آباد مدعی محمد لطےف نے مقدمہ درج کروایا،مقدمہ نمبر 115مورخہ 3مارچ جرم 376/511تھانہ کھڈیاں مدعی اکبر علی نے مقدمہ درج کروایا ہے کہ میری تیرا سالہ بیٹی کو ملزم اسلم ورغلا پھسلا کر لے گیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی ، مقدمہ خارج ہوگیا ہے ۔زینب قتل کیس کے بعد ڈی پی او قصور زاہد نواز کی قیادت میں پولیس نے مقدمات کی تیزی سے پیروی کر تے ہو ئے سرے تک پہنچایا۔ آر پی او ذوالفقار حمید سمیت اعلیٰ افسران کی جانب سے ایسے شرمناک واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، معاشرے میں اس لعنت سے بچنے کےلئے سب کو اپنا اپنا قلیدی کردار ادا کرنےکی ضرورت ہے تاکہ ایسے عناصر سے بہتر انداز سے نمٹا جائے ۔