22 سو سا ل قدیمی تباہ شدہ شہر ’’ٹیلہ دلورائے‘‘ کی آئندہ سال کھدائی کا منصوبہ

17 اپریل 2018

ملتان (رفیق قریشی سے) تاریخی اور 22 سو سال قدیمی دریافت شہر ’’ٹیلہ دلورائے‘‘ کے آثار کو محفوظ کرنے کے لئے فصیل نما چار دیواری کی تعمیر رواں مالی سال جون2018 ء سے قبل مکمل کر لی جائے گی ڈیرہ غازیخان سے 55 کلومیٹر دور جام پور کے قریب اور تحصیل کوٹ چھٹہ میں واقع تباہ اور غرق شدہ شہر ’’ٹیلہ دلورائے‘‘ کے آثار 1962ء میں واضح ہوئے شروع میں وفاقی محکمہ آثار قدیمہ کی نگرانی میں دیا گیا تاہم اٹھارہویں ترمیم کے بعد ’’ٹیلہ دلورائے‘‘ کی حفاظت پر محکمہ آثار قدیمہ پنجاب کو مامور کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ’’ٹیلہ دلورائے‘‘ کے آثار 480 کنال پر محیط ہے اس برباد تباہ شدہ شہر ’’ٹیلہ دلورائے‘‘ کے آثار کو محفوظ کرنے کے لئے 6400 فٹ دیوار کی تعمیر شروع کی گئی فاؤنڈیشن کے بعد 2800 فٹ دیوار کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے حکومت پنجاب نے چار دیواری کی تعمیری منصوبے کے لئے 1 کروڑ 70 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے جس میں سے اب تک 1 کروڑ روپے کے فنڈز استعمال ہو چکے ہیں چار دیواری کی تکمیل کے بعد ایک آہنی گیٹ نصب کیا جائے گا محکمہ آثار قدمیہ ملتان ریجن کے غلام محمد نے نوائے وقت کو بتایا کہ 1962 ء میں کمشنر ملتان نے محکمہ فیڈرل آرکیالوجی کو ایک مراسلہ کے ذریعے اس غرق شدہ شہر کے آثار کو محفوظ کرنے کے لئے کہا۔ انہوں نے ایک سوال کے کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال سے 22 سو سال قدیمی تباہ شدہ شہر ’’ٹیلہ دلورائے‘‘ کی کھدائی شروع کرنے کا منصوبہ ہے جس کے بعد اس شہر سے متعلق مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک کے آثار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے جب یہ شہر آباد تھا تو یہاں بدھ مت کے پیروکار موجود تھے۔