فیصل آبا د: صدر نظریہ پاکستان فورم میاں عبدالکریم غلام محمد آباد قبرستان میں سپرد خاک

17 اپریل 2018

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) صدر نظریہ پاکستان فورم فیصل آباد، صدر ادارہ صوت الاسلام ، چیئرمین ڈویژنل سوشل ویلفیئر رابطہ کونسل فیصل آباد الحاج میاں عبد الکریم علی الصبح تہجد کے وقت انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ بڑے قبرستان غلام محمد آباد میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی، مذہبی، دینی، صحافی اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ مرحوم کی عمر 82سال تھی، انہوں نے سوگواروں میں ایک بیٹا میاں عبدالوحید وائس چیئرمین یونین کونسل گلبرگ اور پانچ بیٹیوں کو چھوڑا ہے، مرحوم امرتسر میں پیدا ہوئے، تحریک پاکستان میں اپنے والدین کے ساتھ حصہ لیا، ہجرت کے المناک مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے والدین کے ہمراہ فیصل آباد شہر میں مقیم ہو گئے، فیصل آباد شہر میں تجارت کو اپنا ذریعہ معاش بنایا۔ جلد شہر کے ممتاز تاجروں میں شامل ہو گئے۔ شہر میں فلاح عامہ کے کاموں میں بھرپور کردار ادا کیا۔ شہر میں گزشتہ ساٹھ سالوں سے کوئی تحریک بھی ایسی نہیں تھی جس میں میاں عبد الکریم کی گونج دار آواز سے اہل شہر متاثر نہ ہوئے ہوں، جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کا جو انہیں طرہ امتیاز حاصل تھا وہ خال خال ہی دوسروں میں نظر آتا ہے، انسانی بھلائی، شہر کی تعمیر و ترقی، صالحیت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کے احیاء کے لیے ان کی کاوشیں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں، ڈویژنل سوشل ویلفیئر رابطہ کونسل اور نظریہ پاکستان فورم کے بانیوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے، ان دونوں جماعتوں کے ساتھ ان کی وابستگی والہانہ تھی، جس جگہ بھی خطاب کرتے تو جوش اور ولولہ سے دین اسلام کی حقانیت بیان کرتے۔ میاں عبد الکریم بہادر، سخی اور دریا دل انسان تھے، جنہوں نے ساری زندگی مخلوق خدا کی بہتری اور شہر کی ترقی و کامرانی کے لئے جرات مندانہ کردار ادا کیا، تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کی شبانہ روز کی کاوشیں آج بھی اہل شہر کے دل و دماغ کو روشن کر رہی ہیں، نظریہ پاکستان فورم کے صدر تھے تو اپنے بھرپور وفد کے ساتھ سکولز اور کالجز میں طلبہ کو نظریہ پاکستان کی روشنی، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صدائوں سے روشنی فراہم کرتے۔ نظریہ پاکستان فورم کے عہدید اروں بیگم خالدہ منصور ایم این اے، پرویز خالد شیخ، محمد ارشد قاسمی، حاجی محمد عابد، ڈاکٹر فیاض احمد شاد، شیخ محمد افضال شاہین، حاجی محمد یونس، پروفیسر ریاض احمد قادری، مولانا محمد ریاض کھرل اور دیگر نے الحاج میاں عبد الکریم کی وفات کو قومی سانحہ قرار دیا ہے۔ میاں عبد الکریم جس طرح اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک نظریہ پاکستان فورم کے لیے کوشاں رہے یہ سعادت بہت کم دوسروں میں دیکھنے میں آتی ہے، مرحوم اعلائے کلمۃ الحق کی عملی تفسیر اور تعبیر تھے، وہ ہر محٖفل اور ہر اجلاس میں میر محفل ہوا کرتا تھے، ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہو گیا وہ کبھی پورا نہیں ہو گا۔ ان رہنمائوں نے میاں عبد الکریم کی مغفرت کے لیے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے اور مرحوم جس مشن پر گامزن تھے ہمیں زندگی کی آخری سانسوں تک اس کو ہر جگہ بیان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔