ساڑھے 4 فیصد پاکستانی ہیپاٹائٹس سی، ڈھائی فیصد بی میں مبتلا ہیں: حکیم احمد سلیمی

17 اپریل 2018

لاہور(نیوز رپورٹر)ہیپا ٹا ئٹس پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے صحت کا بڑا مسئلہ ہے۔ دنیا میں 35کروڑ افراد ہیپا ٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ جن میں سے 75فیصد کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے۔ جب کہ کل 25فیصد متاثرہ افراد کا ہیپا ٹائٹس بی یا اس سے متعلقہ امراض کی وجہ سے موت کا شکار ہونے کا خدشہ ہے۔ ساڑھے چار فیصد پاکستانی ہیپا ٹائٹس سی جبکہ اڑھائی فیصد ہیپا ٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ صرف امریکا میں 40لاکھ افراد ہیپا ٹائٹس سی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں یہ تعدا کہیں زیادہ ہے۔ ہیپاٹائٹس بی، سی اور ڈی خون یا جسم سائل مادوں سے پھیلتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی اور سی پیوندکاری متاثرہ والدین کے نومولود بچوں ایک سے زیادہ افراد کے ساتھ جنسی روابط رکھنے سے اور ٹیکے کے ذریعے نشہ کرنے والوں کو بھی ہو سکتا ہے۔ اِن خیالات کا اظہارپروفیسر حکیم محمد احمد سلیمی ،پروفیسر حکیم سید عمران فیاض ،حکیم محمد افضل میو،حکیم امجد وحید بھٹی ،حکیم احمد حسن نوری،حکیم محمد ابوبکر،حکیم حافظ عبدالرزاق کھوکھر،حکیم حاجی محمد شہباز سرور، حکیم محمد اسحاق ، حکیم محمد امحمد ، حکیم فیصل طاہر صدیقی،حکیم ڈاکٹر عمر فاروق گوندل اور ڈاکٹر سکندر حیات زاہد پاکستان طبی کانفرنس لاہورڈویژن کے زیر اہتمام ہیپا ٹائٹس کے حوالے سے منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ہیپا ٹائیٹس بی کی ویکسین موجود ہے۔ جو ہیپا ٹائٹس ڈی کے لیے بھی موثر ہے۔ 90فیصد لوگوں میں یہ ویکسین کارآمد ثابت ہوئی ہے۔