پا کستان میں دہشتگردی کم‘ خواتین اقلیتوں پر تشدد بڑھ گیا: ہیومن رائٹس کمشن

17 اپریل 2018

اسلام آباد (اے ایف پی+ نوائے وقت رپورٹ) ہیومن رائٹس کمشن کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017ء میں خواتین، اقلیتوں اور صحافیوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا جبکہ اسی دوران 63 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس عدالتوں نے مجموعی طور پر 5 خواتین سمیت 253 مجرموں کو موت کی سزا سنائی جبکہ 2017 کے پہلے 10 ماہ میں خواتین کے خلاف جرائم کے 5 ہزار 660 کیسز درج کیے گئے۔ 2017ء میں خواتین پر جنسی حملوں کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا جبکہ اس طرح کے کیسز کی رجسٹریشن میں بڑی حد تک اضافہ ہوا۔ پارلیمان نے سال 2016 کی نسبت 2017 میں کم قوانین بنائے اور حکومت نے ایک سال کے دوران کل 34 قوانین منظور کیے۔ صوبائی سطح پر سندھ نے سب سے زیادہ جبکہ خیبرپی کے نے دوسرے نمبر پر قانون سازی کی۔ پاکستان کے ایک اور منتخب وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹایا گیا، تاہم آرٹیکل 62 کے تحت نواز شریف کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کو اہم ترین قرار دیا گیا۔ 2017ء میں وکلا اور ججوں کے درمیان کشیدگی میں شدت آئی اور گزشتہ برس عدالتوں میں 3 لاکھ 33 ہزار 103 مقدمات زیر التوا رہے۔ 2017ء میں 63 لوگوں کو پھانسی دی گئی، جن میں سے 43 کو سزا فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی تھی جبکہ ان میں سے سوشل میڈیا پر مذہب کی تضحیک کے الزام میں پہلی مرتبہ ایک شخص کو سزائے موت سنائی گئی۔ 2017ء میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی۔ ملک کی مختلف جیلوں میں 8 ہزار 395 قیدیوں کی گنجائش کی جگہ پر 10 ہزار 811 قیدی رکھے گئے۔ صحافیوں اور بلاگرز کو دھمکیوں، حملوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ انہیں اغوا بھی کیا گیا۔ میڈیا مجموعی طور پر حملوں کا نشانہ رہا۔ اقلیتوں کے خلاف تشدد میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں سفر کرنے کے حوالے سے دوسرا ناپسندیدہ پاسپورٹ رہا، تاہم حکومت پاکستان نے خواجہ سراؤں کو پاسپورٹ کا اجراء کیا، اس کے ساتھ ساتھ سال 2017 کی مردم شماری میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کا خانہ شامل کیا گیا۔ آئندہ انتخابات کے لیے تاحال ایک کروڑ 20 لاکھ خواتین کو بطور ووٹر رجسٹر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صحت کے مسائل پر بھی اعداد و شمار جاری کیے گئے اور بتایا گیا کہ 2017 میں پاکستان پولیو کی منتقلی کو مکمل طور پر روکنے میں ناکام رہا، اس کے ساتھ دنیا بھر میں تپ دق (ٹی بی) کی شرح میں پاکستان سرفہرست رہا۔ تھیلیسیمیا اور ایڈز کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ میں بھی پاکستان دوسرے نمبر پر رہا۔ 3 کروڑ سے زائد بالغ افراد شوگر کے مرض میں مبتلا رہے جبکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید خطرات سے دوچار ممالک کی فہرست میں بھی شامل رہا۔ پاکستان دنیا بھر میں پانی کے استعمال میں چوتھے نمبر پر ہے اور پاکستان کی 36 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی ہے جبکہ 2025 تک پاکستان کو پانی کے مکمل خاتمے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جبکہ اس خطرے کے باوجود کوئی پالیسی اور جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ تعلیم کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں سکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد پاکستان میں سب سے زیادہ رہی اور پرائمری سکولوں میں 56 لاکھ جبکہ سیکنڈری سکولوں میں 55 لاکھ بچے تعلیم حاصل نہیں کرسکے۔ پاکستان میں افغان شہریوں کی تعداد 25 لاکھ سے زائد رہی، جس میں 10 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ مہاجرین شامل تھے جبکہ 2017 میں پاک افغان تعلقات کے اتار چڑھاؤ کے باعث افغان مہاجرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بنگلہ دیش میں محصور ڈھائی لاکھ پاکستانیوں کی تکالیف کے ازالے کے لیے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ 2017 میں مشتعل ہجوم کے حملوں میں اضافہ ہوا۔