مودی سرکار نے مکہ مسجد دھماکہ کیس بھی دفنا دیا‘ سوامی اسیم آنند سمیت 5 ملزم بری

17 اپریل 2018

لاہور (نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مشترکہ دارالحکومت حیدر آباد دکن کی این آئی اے عدالت نے 2007ء کے مکہ مسجد دھماکہ کیس میں انتہا پسند ہندو رہنما سوامی اسیم آنند سمیت 5 دہشتگردوں کو بری کر دیا۔ سوامی اسیم آنند انتہا پسند آر ایس ایس کا اہم رہنما ہے جس نے بھارتی فوج کے کرنل پرشاد پروہت، سادھوی پرگیا اور دیگر دہشت گردوں کے ساتھ ملکر ’’ابھینو بھارت‘‘ نامی تنظیم بنائی۔ اسیم آنند نے ہی ممبئی کے علاقے مالیگائوں کے علاوہ پاکستان جانیوالی ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے کئے۔ 18 مئی 2007ء کو حیدر آباد کی مکہ مسجد میں نماز جمعہ کے وقت ہونیوالے بم دھماکے میں 9 مسلمان شہید 58 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ مالیگاؤں دھماکے میں 8 مسلمان شہید اور 100 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ سوامی اسیم آنند نے اجمیر شریف میں درگاہ غریب نوازؒ میں دھماکہ کرایا۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے کے بعد 3 بوگیاں مکمل جل کر راکھ ہو گئیں اور 60 مسافر کوئلہ بن گئے ان میں اکثر پاکستانی تھے 150 کے لگ بھگ جھلس کر زخمی ہوئے تاہم نریندر مودی کے بھارتی وزیراعظم کا منصب سنھبالتے ہی ان کی حکومت کے غیر مرئی دباؤ پر مکہ مسجد دھماکے کی تحقیقات کرنیوالی مرکزی ایجنسی این آئی اے نے کیس کی کمزور تفتیش کی اور شواہد ضائع کرنے کے حوالے گواہ دستبردار کرا دیئے۔ حیدر آباد دکن میں این آئی اے عدالت کے جج رونیدر ریڈی نے مکہ مسجد دھماکہ کیس کا فیصلہ سنانے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ انہوں نے اس کی وجوہات ذاتی بتائیں تاہم ان کے خاندانی ذرائع نے بتایا کہ مودی سرکار کے غیر ضروری دباؤ کے باعث سوامی اسیم آنند سمیت 5 ملزموں کوکافی شواہد ہونے گواہوں کے بیانات میں تضادات ہونے سمیت کئی تفتیشی جھولوں کے باعث بری کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ مکہ مسجد دھماکہ کیس کے 8 ملزم سوامی اسیم آنند سمیت نامزد تھے 2 ملزم سندھیپ ڈانگے اور رام چند کلسانگڑہ مفرور ہیں اور ایک ملزم سینل جوشی کو دسمبر 2007ء میں قتل کر دیا گیا تھا ملزم اسیم آنند نے دھماکے میں ملوث ہونے کا اعترفی بیان پولیس کو دیا تھا مگر بعد میں یہ کہہ کر مکر گیا کہ اس نے دبائو پر بیان دیا۔