پنجاب‘ پبلک کمپنیوں سے اربوں روپے کے آڈٹ اعتراض ختم کرنے کیلئے بیورو کریسی میدان میں آ گئی

17 اپریل 2018

لاہور (معین اظہر سے) پنجاب کی پبلک سیکٹر کمپنیوں کے اربوں روپے کے آڈٹ اعتراضات ختم کرنے کے لئے بیورو کریسی میدان میں آگئی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے پنجاب کے محکموں کے سربراہوں‘ سیکرٹریوں کو‘ کمپنیوں کا پرنسپل اکائونٹنگ افسر بنانے کی منظوری دے دی ہے جبکہ سکیورٹی ایکسچینج کمشن آف پاکستان کے پبلک سیکٹر کمپنیز رولز 2013ء جن کے تحت کمپنیاں کام کرتی ہیں اس میں ان کمپنیوں میں آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لینے کے لئے پورا نظام وضع کیا ہے جس کے تحت ہر سال کمپنیاں اپنے آڈٹ کو اپنی ویب سائٹ پر پبلک کریں گی۔ ماہرین پر مشتمل ایک آزادانہ کمیٹی قائم کی جائے گی جو ان اعتراضات کا جائزہ لے گی جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے پنجاب کی 56 ایکٹو کمپنیوں اور 15 بند کمپنیوں کے پرنسپل اکائونٹنگ افسر محکموں کے سربراہوں کو بنانے کے فیصلے کے بعد اربوں کے فنڈز کو محکموں کے آڈٹ کی طرح کلیئر کر دیا جائے گا۔ بعض بیورو کریٹس نے کہا ہے اس طرح محکموں کے سربراہ مستقبل میں ان کمپنیوں کے کھاتے میں بری طرح پھنس جائیں گے ۔ پبلک سیکٹر کمپنی ختم کرنے کے لئے بھی قانون میں طریقہ کار وضع کیا گیا ہے ایڈمنسٹریٹو اتھارٹی اس کو ختم نہیں کر سکتی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب میں کتنی کمپنیاں تھیں اس بارے میں ریکارڈ تک رسائی فراہم نہیں کی جارہی ان پبلک سیکٹر کمپنیوں کو جو اربوں روپے کے فنڈز جاری کئے گئے اس پر اکائوٹنٹ جنرل کی جانب سے پبلک سیکٹر کمپنیز کے آڈٹ کے اعتراضات کے بعد حکومت پنجاب نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی کہ ان کمپنیوں کے آڈٹ پیروں کو جلد سیٹل کرنے کے لئے سفارشات دی جائیں جس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب عمر رسول نے اپنی سفارشات حکومت کو بھجوائی تھیں کہ ان پیروں کو جلد حل کرنے کے لئے ضروری ہے جس محکمے میں کمپنی کام کر رہی ہے اس محکمے کے سربراہ کو اس کمپنی کا پرنسپل اکائونٹنگ افسر بنایا جائے تاکہ محکمانہ کمیٹی ان پیروں کا جائزہ لے کر انہیں حل کر دے ۔ انہوں نے کہاجو پبلک سیکٹر کمپنیاں بنائی گئی تھیں یہ رولز آف بزنس 2011ء کے تحت پنجاب کے محکموں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتیں اسلئے ان کمپنیوں کو رولز آف بزنس 2011ء میں محکموں کے شیڈول میں شامل کر دیا جائے جس پر تمام محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ اپنے محکموں میں کام کرنے والی پبلک سیکٹر کمپنیوں کو فوری طور پر کیبنٹ کمیٹی برائے قانون کے سامنے پیش کریں اور ان رولز آف بزنس میں شامل کرکے محکموں کے سربراہوں کو ان کمپنیوں کا پرنسپل اکائونٹنگ افسر مقرر کیا جائے۔ تاہم اس بارے میں بعض سینئر افسران نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے اس فیصلے پر اعتراضات کئے ہیں اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے جو کاغذات دئیے ہیں ان کے مطابق ایس ای سی پی کی جانب سے پبلک سیکٹر کمپنیوں کو چلانے کے لئے رولز جاری کئے گئے تھے اس کے رولز 21 کے تحت ان کمپنیوں کے آڈٹ اعتراضات پر آزادانہ کمیٹی قائم کی جائے گی جو ان آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لے سکے۔ اس کمیٹی کو آزادانہ ماحول میں کام کرنے دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اعتراض لگایا ہے کہ چونکہ پیسہ پہلے ہی خرچ ہو چکا ہے محکمے کا سربراہ اس کے آڈٹ کا ذمہ دار کیسے ہو سکتا ہے ۔ اب ترمیم کرنے سے افسران ان کیسوں میں پھنس جائیں گے محکموں کا کئی سالوں سے ان کمپنیوں کو کنٹرول نہیں تھا ان کے مطابق پبلک سیکٹر کمپنی میں چونکہ سرکاری پیسہ ہوتا ہے اس کو ختم کرنے کے لئے بھی قانون یعنی کمپنی ایکٹ میں طریقہ کار ہے جس کے تحت کمپنی جج لگایا جاتا ہے جو کمپنی کا جائزہ لینے کے بعد اس کو ختم کر سکتا ہے ۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...