انتہا پسند ہندوئوں کی آصفہ قتل کیس لڑنے والی وکیل کو دھمکیاں

17 اپریل 2018

لاہور+ نئی دہلی (نیوز ڈیسک+ بی بی سی) مقبوضہ کشمیر میں جموں علاقے کٹھوعہ میں 17 جنوری کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 8 سالہ بچی آصفہ بانو کے مقدمہ کو کشمیر سے باہر منتقل کرنے کی درخواست پر بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا۔ متاثرہ بچی کے والد محمد یوسف نے پیر کو یہ مقدمہ جموں و کشمیر سے باہر چندی گڑھ کی عدالت میں منتقل کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس پر عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیا اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ بچی کے والدین، وکیل دیپیکا رجاوت اور سماجی کارکن طالب حسین کو مناسب سکیورٹی بھی فراہم کی جائے۔ پیر کو سخت سکیورٹی میں سانجھی رام سمیت 8 ملزمان کو کٹھوعہ کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزموں نے سیشن کورٹ میں بتایا کہ وہ بے قصور ہیں اور نارکو ٹیسٹ کے لئے بھی تیار ہیں۔ اس کے بعد جج نے کیس کی سماعت کو 28 اپریل تک ملتوی کر دیا اور کرائم برانچ کو ہدایت دی کہ وہ چارج شیٹ کی نقل ملزموں کو فراہم کریں۔قبل ازیں مقدمے میں آصفہ کے والدین کی طرف سے پیروی کرنیوالی وکیل دیپکار رجاوت نے عدالت کے باہر اور مقدمہ کی سماعت کے دوران بتایا کہ مسلمان بچی کے مقدمہ قتل کی پیروی کرنے پر اسے ٹیلی فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے انتہاپسند ہندو تنظیمیں‘ افراد اور رہنما ہندوئوں کی غدار قرار دیکر تضیحک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ دیپکا کے مطابق اسے قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں اسکا دوستوں رشتہ داروں او ر دیگر لوگوں نے سوشل بائیکاٹ کر دیا ہے وہ ان دنوں بالکل تنہا اور خوفزدہ ہے اسے ڈر ہے کہ اسے بھی آصفہ کی طرح زیادتی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اس لئے عدالت اسے سکیورٹی فراہم کرے۔ ادھر آصفہ بانو کے بے رحمانہ قتل کیخلاف مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارت کے مختلف شہروں میں مظاہرے جاری رہے۔ نئی دہلی اور ممبئی میں خواتین کی بہت بڑی تعداد نے ریلی نکالی۔